پہلے پہل دریا کی موجیں
لہریں وہریں اور ساحل سب
بانکپن کی نوخیز نظر کو
سب کچھ اچھا لگتا تھا
سو شام ڈھلے سورج کی کرنیں
جب تھک کر پانی میں جاتیں
سو بیچ افق پھیلی ہوئی سرخی
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب زرد خزاں کے آنگن میں
سب پتے پیلے پڑتے تھے
سو انکا پانی میں گرنا
سب کچھ اچھا لگتا تھا
تب کاغذ کی کشتی پر
ارمان بہائے جاتے تھے
سو ہم بہلائے جاتے تھے
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب صبح پراٹھوں کی جوشبو
لہریں وہریں اور ساحل سب
بانکپن کی نوخیز نظر کو
سب کچھ اچھا لگتا تھا
سو شام ڈھلے سورج کی کرنیں
جب تھک کر پانی میں جاتیں
سو بیچ افق پھیلی ہوئی سرخی
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب زرد خزاں کے آنگن میں
سب پتے پیلے پڑتے تھے
سو انکا پانی میں گرنا
سب کچھ اچھا لگتا تھا
تب کاغذ کی کشتی پر
ارمان بہائے جاتے تھے
سو ہم بہلائے جاتے تھے
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب صبح پراٹھوں کی جوشبو
آتی تھی ماں کے ہاتھوں سے
جو بستر تلک آجاتی تھی
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب نصف شب کے آنگن میں
جو بستر تلک آجاتی تھی
سب کچھ اچھا لگتا تھا
جب نصف شب کے آنگن میں
وہ چندا بادل کے پیچھے سے
ہنس کر باتیں کرتا تھا
سب کچھاچھا لگتا تھا











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔