نصیحت

0 comments
نصیحت


نصیحت جھاڑنے والے یہ عادت چھوڑ کر آجا
کہیں نہ دیر ہو جائے سعادت چھوڑ کر آجا
ارےرکتا نہیں میں بھی زمانہ بھی تو شاہد ہے
میرے جو ساتھ چلنا ہے تکلف چھوڑ کر آجا
وہیں چل پھر جہاں تو بھی مقدر  کے سہارے ہو
یہ رستے کِس نے دیکھے ہیں تردد چھوڑ کر آجا
مریض دل گرفتہ کو جو دیکھو راستہ بدلو
ارے جاں سے بھی جائے تو عیادت چھوڑ کر آجا
جہان بے سکوں کا جو بھی  رہا مدعا رہا اکثر
بلا سے بھاڑ میں جائے  وکالت چھوڑ کر آجا
اگر ہے ذوق پھولوں کا تو جھکنا سیکھ لے ورنہ
اُسی شیشے کی دوکاں میں نذاکت چھوڑ کر آجا

ملک انس اعوان 

www.razaqvance.com

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔