نصیحت
نصیحت جھاڑنے والے یہ عادت چھوڑ کر آجا
کہیں نہ دیر ہو جائے سعادت چھوڑ کر آجا
ارےرکتا نہیں میں بھی زمانہ بھی تو شاہد ہے
میرے جو ساتھ چلنا ہے تکلف چھوڑ کر آجا
وہیں چل پھر جہاں تو بھی مقدر کے سہارے ہو
یہ رستے کِس نے دیکھے ہیں تردد چھوڑ کر آجا
مریض دل گرفتہ کو جو دیکھو راستہ بدلو
ارے جاں سے بھی جائے تو عیادت چھوڑ کر آجا
جہان بے سکوں کا جو بھی رہا مدعا رہا اکثر
بلا سے بھاڑ میں جائے وکالت چھوڑ کر آجا
اگر ہے ذوق پھولوں کا تو جھکنا سیکھ لے ورنہ
اُسی شیشے کی دوکاں میں نذاکت چھوڑ کر آجا
ملک انس اعوان
![]() |
| www.razaqvance.com |











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔