تم اگر پوچھ ہی لیتے

0 comments

تم نے پوچھا ہی نہیں
تم اگر پوچھ ہی لیتے
پوچھ لینے سے کیا جاتا
خیر اگر پوچھ بھی لیتے
ہم بتاتے بھی کیا کہ
وہی حالات و ماہ و سال پہلے سے
وہی گردش دوراں کے چکر
وہی گرد میں لپٹا ہوے لوگ
وہی تھک کر ٹوٹے  ہوئے در و دیوار
اور وہاں لٹکے ہوئے آہنی تالے
سر جھکائے جن گلیوں سے گزرتے ہیں
ہم دیکھتے ہیں نادان بچوں کو
جو بہتی نالیوں کے ساتھ چلتے ہیں
جہاں سے روشنی چھن کر برستی ہے
کسی دوکاں  کے سامنے آ دھمکتے ہیں
جیب سے چند سکوں کی دولت اچھال کر دیکھتے ہیں
انکی آنکھوں کی حسرت ہاتھ میں پکڑے ہوئے پیسوں سے
یوں لگتا ہے جیسے مِیل کھاتی ہے
سمجھتے ہیں کہ وہ ان پیسوں سے
بھری دوکان سے خوشیاں خرید سکتے ہیں
کتنے نادان ہیں اور ان کے ساتھ
میں بھی اس خواب سے نکل آتا ہوں
(ملک انس اعوان)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔