تم نے پوچھا ہی نہیں
تم اگر پوچھ ہی لیتے
پوچھ لینے سے کیا جاتا
خیر اگر پوچھ بھی لیتے
ہم بتاتے بھی کیا کہ
وہی حالات و ماہ و سال پہلے سے
وہی گردش دوراں کے چکر
وہی گرد میں لپٹا ہوے لوگ
وہی تھک کر ٹوٹے ہوئے در و دیوار
اور وہاں لٹکے ہوئے آہنی تالے
سر جھکائے جن گلیوں سے گزرتے ہیں
ہم دیکھتے ہیں نادان بچوں کو
جو بہتی نالیوں کے ساتھ چلتے ہیں
جہاں سے روشنی چھن کر برستی ہے
کسی دوکاں کے سامنے آ دھمکتے ہیں
جیب سے چند سکوں کی دولت اچھال کر دیکھتے ہیں
انکی آنکھوں کی حسرت ہاتھ میں پکڑے ہوئے پیسوں سے
یوں لگتا ہے جیسے مِیل کھاتی ہے
سمجھتے ہیں کہ وہ ان پیسوں سے
بھری دوکان سے خوشیاں خرید سکتے ہیں
کتنے نادان ہیں اور ان کے ساتھ
میں بھی اس خواب سے نکل آتا ہوں
(ملک انس اعوان)
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)
آمدو رفت
تم اگر پوچھ ہی لیتے
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔