بھارت کو 15 ہزار نئے شہری کیسے ملے؟

1 comments
موجودہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک بہت بڑی دلدلی  پٹی  ہے جو زمانہ قدیم سے ہی متنازعہ شمار کی جاتی رہی ہے۔ یہ ہے رنگ پور اور کوچ بیہار کا درمیانی علاقہ جو پہلے دو ریاستوں کی صورت میں اپنا وجود قائم رکھے ہوئے تھا۔ مغلوں کی برصغیر میں آمد کے بعد سن 1713 میں مغل اور ریاست بیہار کے راجہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا گیا لیکن دونوں فریقین حد بندی کرنے میں ناکام رہے، یہ جان بوجھ کر کی گئی یا اس میں کسی کا مفاد تھا اس بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں لگایا جا سکا۔کیونکہ یہ علاقہ شدید دلدلی اور دشوار گزار ہے چناچہ اس لیے مغل اس جانب زیادہ دلچسپی نہ رکھتے تھے۔بعد ازاں 1947 میں رنگپور مشرقی پاکستان میں شامل ہو گیا اور باقی بیہار بھارت میں لیکن درمیانی علاقہ زمانہ قدیم کی طرح متنازعہ ہی رہا جس کو حل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش 1958 میں بھارت کی جانب سے وزیر اعظم  جواہر لال نہرو اور پاکستان کی جانب سے اس وقت کے وزیر اعظم  فیروز خان
نون نے کی جو بعد میں بھارتی سپریم کورٹ نے ناقابل قبول قرار دے دی اور 1971 کے بعد  بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد  بھی یہ معاملہ جوں کا توں قائم رہا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ بیہار کے ساتھ ہی آسام کا علاقہ ہے جہاں چند شدت پسند تنظیمیں بھارتی حکومت کو کڑا وقت دے رہی ہیں اور بھارت کے لیے روز بروز مشکلات پیدا کر رہی ہیں ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہی متنازعہ علاقہ تھا جہاں سے اسلحہ اور منشایات دونوں ممالک سے آر پار بھیجی جاتی تھیں ۔ اس حوالے سے دونوں مملک کی حکومتیں نہایت سنجیدگی سے کام کرتی رہیں ۔جبکہ اس علاقے کے رہائیشی پچھلے 68 سالوں سے کسی بھی ملک کی شہریت حاصل کرنے سے قاصر تھے۔ اس علاقے میں افراد کی کل تعداد 50 ہزار کے قریب ہے۔ جس کو  جون 2015 میں دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ بھارتی شہریت حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 15 ہزار کے قریب ہے جبکہ  بنگلہ دیشی شہریت حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 36 ہزار ہے.   بھارت ، بنگلہ دیش بارڈر کی کُل لمبائی 4100 کلومیٹر ہے جبکہ جدید تقسیم سے پہلے 111 بھارتی ملکیتی خطے بنگلہ دیش کے پاس تھے اور 51 بنگالہ دیشی ملکیتی خطے بھارت کے پاس تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان 54 دریا بہتے ہیں جس میں سے قابل ذکر ٹیسٹا دریا ہے جو اسی علاقے میں ہے جس کے پانی کی تقسیم اب تک نہیں ہو سکی۔ 
اس تقسیم کے بعد ایسے علاقے جو بنگلہ دیش سے بھارت کے حصے میں چلے گئے وہاں خوب جشن منایا گیا ، کیک کاٹے گئے اور تقریبات کا انعقاد کیا گا اور جگہ جگہ یہ لکھا گیا ہے "بالآخر 68 سال بعد آزادی مل ہی گئی" یہ تما م تقریبات بحیثیت ایک پاکستانی کے کسی خنجر سے کم نہیں ہیں اور یہ ہمارے ماضی کے حکمرانوں کی مشرقی پاکستان میں کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
دوسری جانب سری لنکا کی حکومت چائنہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے اور وہ آسام کے علاقے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے مودی کے اسی سال ڈھاکہ کے دورے کے دوران اک معاملے کو حل کر دیا۔
دنیا اپنے مفادات کے لئے دوسروں کی زمین میں دلچسپی لے رہی ہے اور ایک ہم ہیں کہ جو پہلے سے ہے اس کا بھی حشر کیے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔!!!

تحریر
ملک انس اعوان 
ٹویٹر:AnasInqilabi


1 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔