ڈائری کا ایک ورق 2

0 comments
کتنا غیر معمولی لگتا ہے جب آپ کسی رنگ کو غور سے دیکھیں اور اس میں تہہ در تہہ سینکڑوں مزید رنگ ابھر آئیں اسی طرح  بات سے بات چل نکلے اور دور تلک کئی  اور باتوں،معانی و مفہومات میں ڈھل    جائے، یا اس آواز کی طرح جو سینکڑوں کتابوں کےخمیر سے اٹھ کر فضا کے اندر تحلیل ہو جائے یا کسی پیاس زرہ صحرا میں ابر کرم کی طرح برس پڑے اور جس کے نتیجے میں ہر سو شعور کا سبزہ سر اٹھانے لگے تو اگر آپ یہ سب محسوس کر سکتے ہیں تو صرف اسی وجہ سے کہ ایسا حقیقت میں ہو رہا ہوتا ہے. یہ دلکشی، خوبصورتی، رعنائی صرف ہمارے خام ذہن کی فضول پیداوار یا محض ایک مفروضہ نہیں ہے کہ جس کو بے بنیاد سمجھا جائے.کیونکہ کچھ بھی بے بنیاد نہیں ہوتا ہے، "کچھ" کاکچھ نہ کچھ  مطلب ضرور ہوتا ہے. یہ خیال یہ وہم یوں ہی تو نہیں پیدا ہوتے ہیں ان کا بھی تو کوئی ماخذ ہوتا ہے آخر یہ بھی تو کسی سے ماخوذ ہوتے ہیں. کہیں نہ کہیں تو کسی کے تار کسی سے ضرور جا ملتے ہوں گے وہ جو کچھ ہم محسوس کر رہے ہوتے ہیں وہ غیر محسوس کن طریقے سے عمل پذیر ہو رہا ہوتا ہے. سید سجاد کا وہ جملہ کہ "try to see the things from an different angle" آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ یاد ہے. جس کی بدولت جب کسی منظر کے ایک رخ سے دل بھر جائے تو دوسرے رخ سے دیکھنا شروع کر دینا چاہیے. اس کا ایک مفید استعمال یہ ہے کہ اس سے اپنی برداشت کو مزید طاقت ور بنائیں. زندگی میں آنے والی ہر پسندیدہ و ناپسندیدہ تبدیلی کو کھلے دل سے قبول کیجئے اس میں تہہ در تہہ چھپے ہوئے رنگوں اور مفاہیم کو تلاش کیجئے ، جہاں دل اکتانے لگے اپنی جگہ تبدیل کر لیجیے لیکن آپ کا مرکز وہی ہو جو پہلے سے موجود ہے.یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کتاب پڑھنے کا ارادہ کر کے بیٹھے ہوں اور کتاب آپ کے ہاتھ میں موجود ہو تو کسی بھی صفحے سے پڑھنا شروع کر دیجئے ایک یا دو صفحات پڑھنے کے بعد آپ کی اس کتاب کے حوالے سے دلچسپی بڑھتی جائے گی اور آپ اس کتاب کو پڑھ سکیں گے.یہی ایک دلچسپی ہے جو لوگوں کو آپ سے جوڑے رکھتی ہے. یہی دلچسپی قائم رہنی چاہیے اور اسکے قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر غیر معمولی شے میں دلچسپی لی جائے.لیکن اس حد تک کہ آپ اس دوران اپنے وجود ،اپنے مفادات اور اپنی ترجیحات جن کو آپ پس پشت نہ ڈال سکیں انکا بھرپور طریقے سے دفاع کر سکیں ۔

ملک انس اعوان 



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔