جنت

0 comments
غزل

(جنت)

اب یہ حال  ہے  کہ  کوئی  حال  نہیں
کوئی بھی واقعہ تفصیل سے یاد نہیں
سبب کچھ بھی نہیں ہے اس وحشت کا
میرے سامنے مجھ سی کوئی مثال نہیں
خود میں   مَیں    نہیں   ہوں    موجود
اب مجھے     کسی     کا    خیال   نہیں
اب مجھے  سدھرنے کی ضرورت ہے
اتنی بگڑی ہوئی اب بھی میری چال نہیں
تم کو  آئے  گی یہاں  حقیقتوں     کی  بو
ہمارے  ہاں  خوشبؤں کا   استعمال نہیں
پالیا جب سے  سراغ خودی   میں    نے
اب میرا کسی سے   کوئی  سوال  نہیں
میں کس طرح   چین سے    سو جاؤں
میرے بچوں کا کوئی پُرسان حال  نہیں
میں اپنی   ہی بینائی  سے  نالاں ہوں کہ
مجھ پہ واضح میرےاپنے ہی خدوخال نہیں
میں   تو  چلا   جاؤں   گا  جنت    میں
اب تو کسی طور ممکن تیرا وصال نہیں

 ملک انس اعوان

(بمقام: اٹک ریلوے سٹیشن گراؤنڈ،شام 8 بجے،31 مئی 2015)

انا پرست ہوں میں

1 comments
خود پرست ہوں انا پرست ہوں میں
بس اپنی ذات میں مست ہوں میں
میں منظر نہیں نظر دیکھتا ہوں
بلا کا نگاہ پرست ہوں میں
ہوس ذات ہے مجھکو مجھ تک
 انتہا کا ہوس پرست ہوں میں
چاہوں خود میں اتار لوں تجھ کو
تو دریا،صحرا پرست ہوں میں
جس حال میں ہوتا ہوں خوش ہوتا ہوں
اپنی وحشتوں کا سرپرست ہوں میں

ملک انس اعوان








داد

0 comments
میرے مشغول تماشا تیرے شوق کو داد
تیرے سحر میں ڈوبے ہوئے محسور کو داد
کتنی سندر میرے بگڑے ہوئے قدموں کی چاپ
آتش عشق میں کودے ہوئے مجبور کو داد
داماں میرا پارہ ہےکہ پارہ میرا داماں 
اس کردار میں اترے ہوئے مشہور کو داد

ملک انس اعوان



یہ بچے سب کے سانجھے ہیں

0 comments

 کہے جاؤ ،سنے جاؤ
تکلف میں نہیں آنا
برابر خون بہتا ہے
سربازار بکتا ہے
خریدارو بتاؤ تو
کوئی میزان رکھا ہے؟
یہ بچے سب کے سانجھے ہیں
لہو کا ایک سا ایک سا رنگ ہے
مقرر کر دیے تم نے
الگ اپنے سے پیمانے
کسے تم ظلم کہتے ہو
کسے  تم جرم کہتے ہو
کبھی پوچھا خدا سے بھی
کبھی اس کے صحیفے سے
کسے اسلام کہتے ہیں؟
کسے ایمان کہتے ہیں؟
مفقل سوچ کی ندیا
کھڑا ہے حوش کا پانی
فکر سے ہر ذہن عاری
محبت کی جہانگیری
انا سے چوٹ کھاتی ہے
مجھے کہسار کی بیٹی
بڑی غمگین لگتی ہے
کہ جس کے گھر قیامت ہو
نہ در کا جس کا سلامت ہو
جو دونوں طرف سے یک دم
بڑی انجان ٹھہری ہو
وہ اکثر سوچتی ہوگی
وہاں بھی تو بہاروں کا گزر ہوگا
وہاں بھی ساتھ کے گھر میں بڑا کوئی شجر ہوگا
وہاں بھی شام کو بچے گلی میں کھیلتے ہوں گے
اٹھا کر سرخ سی وہ گیند گھروں میں دوڑتے ہوں گے
سنا ہے مائیں تو سب کا درد محسوس کرتیں ہیں
ظلم سے روکتی ہیں انصاف پہ مجبور کرتیں ہیں
سنو! لوگوں یہاں بھی کئی گھر آبار رہتے ہیں
یہاں بھی کھیل میں اکثر وہ بچے چوٹ کھاتے ہیں
یہاں تو صبح شام ان پر بڑے شعلے برستے ہیں
یہاں تو آگ میں اکثر یہ بچے غسل کرتے ہیں
سجا کر کفن مین اکثر ہم ان کو دفن کرتے ہیں
مگر اتنا فرق ہے کہ ہماری خبر نہیں آتی
کوئی اینکر یہاں لایئو کوریج دینے نہیں آتی
وہ اینکر جو زرا سی بات پر ہے چیخنے لگتی
میرے بچوں کی لاشوں پر کبھی رونے نہیں آتی
مگر مجھکو یقیں ہے خدا کا چینل دیکھتا ہوگا
وہ اپنے نام لیواؤں کا حشر دیکھتا ہو گا
وہ اک دن صاف کردے گا فرق حق و باطل کا
وہ چہرے سے الٹ دے گا نقاب ہر ایک عادل کا
پھر اس دربار عالی میں کھلے گا راز مقتل کا
گھسیٹ کرلایا جائے گا جسم ہرایک عاقل کا
پھر میرے بچے خون میں ڈوبی ہوئی انگلیاں اٹھائیں گے
کون تھا قاتل یہ دنیا کو بتائیں گے
سنا ہے ظلم اپنے ظلم ہی کے ساتھ اٹھتا ہے
وہ جس کا ہو دینا میں اسی کے ساتھ اٹھتا ہے
تو سوچو۔۔۔۔!
کس طرف اپنا بسیرا ہو
کہیں ایسا نہ ہوں پھر قبر میں گہرا اندھیرا ہو

ملک انس اعوان












نگاہ خواب

0 comments
نگاہ خواب آور نتیجہ تلاش کرتی ہے
رہ رہ کر رہگزر تلاش کرتی ہے
جوں جوں بڑھ رہا ہے درد
تا دیر عذر تلاش کرتی ہے
ہے نجات کا سلسلہ ممکن
مگر یہ فاصلے تلاش کرتی ہے
کوئی تو روحِ رواں ہو گا
یہ بلند حوصلے تلاش کرتی ہے
کہہ رہی ہے کہ آ رہا ہے عذاب
بستی کوئی رازداں تلاش کرتی ہے
اب فقیروں سے گئی فقیری بھی
اب گدائی ، شاہی تلاش کرتی ہے
--
ملک انس اعوان

صبح نو خیز

0 comments
کہیں سے ہو کر بہار لاؤ،کہیں سے جا کر خمار لا ؤ
کہ صبح نو خیز کی کرن کو،کہیں  سے پھر ورغلا کے لاؤ
کہیں تاریکیاں مقدر،کہیں ہیں  بے چینیاں مسلسل

کہ نفرتوں سے جو بجھ سکے نہ اب ایسی شمع جلا کے لاؤ

ملک انس اعوان

خواب اقبال

0 comments
رہ گیا خواب ذہن اقبال کا خیال
کہ بوٹا لاالہ کو ہے گلستاں میں زوال
ہوس مال و دولت و نشست تا گہر
جملہ ہائے اوصاف مومن کو زوال
دیدہ تر دیکھتی ہے چارونہ چار
بازار عدل میں غربت کا استحصال
شہر یا کوچہ و بستی کی التجا 
 تیرے ذہن میں کیوں نہیں اٹھتے سوال

ملک انس اعوان

نہیں ہوں میں

0 comments
اے خودی تیری زبان سے آشنا نہیں ہوں میں 
اب بھی ترے رنگ میں رنگا نہیں ہوں میں 
 آتا ہوں اسکی زبان  پر اب کے میں   بار بار 
پر اب بھی کسی کے دل پر ٹھہرا نہیں ہوں میں 
مانا کہ عرصہ حیات میں ہیں مقام مرگ صد ہزار 
پر یہ کیا کسی مقام پر ٹھہرا نہیں ہوں میں
اپنی ہوں ضد پہ قائم بن کر وفا شعار
سانسیں رواں ہیں لیکن زندہ نہیں ہوں میں
بج رہی ہے میرے پاس دھن بے خودی مگر
مجرم ہوں میں کسی کا رقصاں نہیں ہوں میں
کرگیا جو تھا بس میں اور بس کر دیا انس
اپنے ہر کیے پر شرمندہ نہیں ہوں میں
::::تخلیق :::::
(ملک انس اعوان  )



ہو سکتا ہے

0 comments
ہو سکتا ہے
شب فراق کی تنہائی میں
کوئی کھو سکتا ہے
میرے لب و لہجے کی گہرائی سے
کوئی رو سکتا ہے
ہاں !!!
ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔


(انس اعوان)


غداری

0 comments
میں بیڈ روم میں بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔ناشتہ کر چکنے کے بعد بوریت مٹانے کی خاطر ٹی وی کا ریموٹ پکڑا اور چینل تبدیل کرنے لگا۔اسی دوران ایک معروف نجی چینل پر ایک انتہائی معروف عسکری تجزیہ نگار کی تصویر دیکھی تو رک گیا اور آواز بلند کر کے انکے ارشادات سے لطف اندوز ہونے لگا۔قریباً 10 منٹ تک وہ موجودہ صورت حال اور ملک کے دیگر علاقوں میں جاری آپریشن کے حوالے سے عوام کو آگاہ کر رہے تھے (اور اللہ بہتر جانتا ہے)۔خیر انکی گفتگو مکمل ہوئی اور منظر نامہ بدل گیا اور ایک موبائل کمپنی کا اشتہار (ڈانس شو) چل پڑا۔ٹی وی کو بند کیا اور بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔اتنے میں چائے بھی آ گئی اور میں کم عقم و بے منتق آدمی اس سوچ میں کھو گیا کہ کتنا آسان ہے کسی دوسرے پر الزام لگانا۔
ہمارے ہاں ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ کسی دوسرے بالخصوص بیرونی خفیہ ایجنسیوں پر ہر واقعے کی ذمہ داری ڈال دی جائے۔میں کنویں کا مینڈک ہر گز نہیں بن سکتا۔ میں اس خود ساختہ کنویں سے باہر نکل کر سوچتا ہوں ۔میں سوچتا ہوں  کہ "وار آن ٹیرر" کا حصہ بننے ، ڈالرز کے بدلے اپنی قوم کے بچوں اور بہنوں(مثال :عافیہ صدیقی) کو امریکہ کے ہاتھوں بیچنے،اپنے ملک میں لسانیت کو فروغ دینے، روشن خیالی اور فحاشی کو اس سرزمین پر قدم رکھنے،امریکہ کے ہاتھوں اپنی ملکی حدود کی ڈرون اٹیک کے نام پر پامالی،شمسی ائیر بیس جیسے دیگر اہم عسکری تنصیبات کو امریکہ کے حوالے کرنے،مساجد کو ڈھا دینے ،بے گناہ قبائلی عوام کو رسوا کرنے،امن لشکر کے نام پر بلوچ اور فاٹا کے چند معروف قبائل کو مخصوص مقاصد کے لیے مسلحہ کرنے،مسلحہ جتھوں کے خلاف عام عوام کو مسلحہ کرنے،چند مذہبی جماعتوں کو بی ٹیم کے طور پر استعمال کرنے،عوام میں آئین کے خلاف بغاوت کو ابھارنے میں شاید کوئی بیرونی ہاتھ ملوث ہوتا۔
میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں ؟
احتساب کسی بھی معاشرے کا وہ خوبصورت پہلو ہوتا ہے جو غلطیوں سے سبق سیکھنے اور مستقبل کو تابناک بنانے میں سب سے معاون ہتھیار ثابت ہوتا ہے۔اسلامی تاریخ اٹھا لیجئے "خلفہ راشدیں رض" نے سب سے پہلے اپنی ذات کو احتساب کے لیے پیش کیا جبکہ ہمارے معاشرے کا حال یوں ہے کہ ہم مخصوص طبقے کا احتساب کرنے کو ملک سے غداری تصور کرتے ہیں تو یاد رکھیے جب تک ہم ایسی غداریاں نہیں کریں گے  اور پالیسیوں کو زیر بحث نہیں لائیں گے ،ہم اپنا مستقبل نہیں بچا سکتے۔ اور تاریخ ایسے واقعات اور قوموں سے بھری پڑی ہے اور آخر میں اوریا مقبول جان کا دل چھولینے والا فقرہ:
"اور اللہ اس چیز پر قادر ہے کہ وہ کسی قوم کو تباہ و برباد کردے اور اس کہ جگہ کسی دوسری قوم کو پیدا کرے اور وہ کام کر گزرے جو وہ اُس قوم سے لینا چاہتا ہے"
تحریر
ملک انس اعوان




مزاح نگاری

0 comments

مزاح نگاری کے حوالے سے میرا موقف عام اکثریت سے زرا مختلف ہے۔آج کل ہمارے ٹی وی چینلز پر مزاح کی جو صورت دکھائی جا رہی ہے اسے مزاح نگاری نہیں بلکہ نقالی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ چونکہ مزاح نگاری ایک پیچیدہ اور انتہائی دقیق قسم کا فن ہے اس لیے لوگوں نے اس کے سب سے کمزور پہلو یعنی نقالی کو پکڑ رکھا ہے۔ کچھ سال پہلے نقالی برائے مزاح کی جاتی تھے اور اب مزاح برائے نقالی کیا جاتا ہے۔اور اس میں سب سے بڑا ہاتھ ڈاکٹر یونس بٹ صاحب کا ہے کیونکہ پاکستانی میڈیا میں یہ ٹرینڈ لانے کا سہرا انہی کو جاتا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ٹی وی سکرین سے لے کر کسی یونیورسٹی کے عمومی فنگشن (تقریب) تک مزاح بہت سمٹ کر رہ گیا ہے ،تخلیقی اور با مقصد مزاح نگاری قریباً معدوم ہو چلی ہے۔ہمارے سامنے سب سے بہترین مثال اکبر الہ آبادی کی ہے کہ جنھوں نے برطانوی دور میں حساس ترین موضوعات کو انتہای نفاست اور باریکی کے ساتھ اس طرح اپنی شاعری کے زریعے عوام تک پہنچایا کہ فرنگی سرکار کو خبر تک نہ ہوئی۔ اور رہی بات آج کل کے مزاحیہ شعراء اکرام کی تو انکی شاعری لڑکا ،لڑکی، ساس ،بہو اور ہمسائی کے تصور سے ہی باہر نہیں نکل سکی لیکن چند لوگ ایسے بھی ہیں کہ جواس حوالے سے مثبت کام کر رہے ہیں ۔ اب آ جائیے فنون لطیفہ کے ایک اور اہم شعبے "اداکاری" کی طرف کہ اس میں فحاشی اور عریانی نے اسے فقط ایک مخصوص طبقے تک محدود کر دیا ہے۔  جبکہ ماضی میں ہمارے سامنے اندھیرا اجالہ، ففٹی ففٹی اور دیگر میعاری مزاحیہ ڈرامے پاکستان کی پہچان رہے ہیں۔ معین اختر جیسے بہترین اداکار رہے ہیں کہ جو اپنے فرضی کردار میں حیقیت سے زیادہ اتر جایا کرتے تھے ۔ایک روز ہمارے جامعہ ( یونیورسٹی) میں مقابلہ تقریر منعقد کیا گیا۔اب جو مزاحیہ تقریر کا مرحلہ شروع ہوا تو میعار دیکھتے ہوئے ہمارے ایک نہایت ہی شفیق استاد پروفیسر مفتی عبدالواحد نے بطور جج اپنے اختیارات ہمارے محترم پروفیسر ریاض دانش کے حوالے کر دیے کیونکہ وہ ایسی مزاح نگاری کی تاب نہ لا سکتے تھے۔ پھر جو حال ہمارے طالب علم دوستوں نے  مزاحیہ فن تقریر کے ساتھ  کیا بس اللہ کی پناہ۔اسی دوران ہمارے وہ استاد محترم جو دوسرے جج کو طور پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے بڑی پر معنی آنکھون سے میری جانب دیکھ رہے تھے۔ اس دوران دونوں جانب سے داد و تحسین کا ایک شور اٹھ رہا تھا۔ایسا شور کہ جو ہمارے معاشرے کی اخلاقی قدروں کو پامال کیے جا رہا تھا اور مشرقی تہذیب کے منہ پر طمانچے رسید کر رہا تھا۔


تحریر
ملک انس اعوان




شکایت کیسی؟

0 comments
ہم زندگی سے زیادہ اس زندگی کے ساتھ آنے والی چیزوں سے ڈرتے ہیں اور عمومیً آخری حد تک ان سے بچنے کے تگ دو کرتے ہیں۔ہم سوچتے ہیں کہ شاید ابھی ہم اپنی آنکھوں کو بند کریں گے اور پریشانیوں کا سیلاب ہمارے پاس سے ہو کر گزر جائے گا اور جب ہم آپنی آنکھوں کو وا کریں گے سامنے وہی خوشنما منظر ہمارے منتظر ہوں گے جن کو آخری بار ہم اپنے آس پاس چھوڑ گئے تھے۔

لیکن حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ۔منظر کچھ اور ہوتے ہیں اور ایک اور کہانی کا آغاز ہو چکا ہوتا ہے۔ایسی کہانی کہ جس کے سب کردار ہماری مرضی و منشاء اور ہماری متوقع کہانی کے الٹ کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔سب کچھ ہماری چاہت کے خلاف ہوتا ہے لیکن ہم پھر بھی اسی کہانی کا حصہ ہوتے ہیں چاہتے ہوئے اور نا چاہتے ہوئے ۔تو شکوہ کیسا اور شکایت کیسی؟؟

جو بیت گیا سو بیت گیا،اب کیوں نہ اس موجودہ کہانی کے اس کردار میں کہ جو ہمارا ہمنام ہے رنگ بھرا جائے اور اسے زندہ کیا جائے۔اس کے وجود کو امید کی طاقت دی جائے اور اس کے ہاتھ میں شعور کی شمع تھما دی جائے ۔ایسا شعور جو حال میں رہنے کا گُر بتلائے جو ماضی سے سبق سیکھ کر ایک دلنشیں مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کا فن سکھلائے۔
---
انس اعوان

ایک فرضی جماعت کا قیام (جونئر طلبا کی اسائینمنٹ)

0 comments

نیچے تحریر شدہ لنک پر جائیے
(تمام معلومات تصاویر کی شکل میں موجود ہیں )
http://www.mediafire.com/?h96qcyy1rg1ri
یہاں کلک  کیجئے










میری ماں میری بہترین دوست

0 comments
مجھے یہ کہتے ہوئے کبھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ میرا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے ۔کیونکہ رشتوں اور مجبوریوں کی جو کشمکش اس طبقے میں پیش آتی ہے وہ شاید ہی کہیں اور دیکھنے کو ملے۔اور ایسے گھرانوں میں والد کے بعد ایک ماں کو مرکزی کردار حاصل ہوتا ہے۔
میرے زبان سے نکنے والے اولین الفاظ سے لے کر آج تک میرے زبان سے ادا ہونے والےتمام تر الفاظ پر میری امی جی کی چھاپ ہے اور یہ انہی کی مرہون منت ہے۔بڑا بیٹا ہونے کے ناتے جو توجہ مجھے ملی وہ گھر میں میرے دوسرے بھائی کو نہ مل سکی۔میں بچپن میں گھر سے باہر نہیں جایا کرتا تھا چناچہ اپنی والدہ (امی جی) کے ساتھ کچن میں کام میں ہاتھ بٹواتا،ان سے لمبی لمبی بے تکی باتیں کیا کرتا اور خوب تنگ کیا کرتا لیکن امی بس مسکرا کر میری اگلی بات سننے کو تیار ہو جاتیں۔خاص طور پہ جب امی کھانا پکا رہی ہوتیں تو سب سے پہلے نمک مرچ کا معائینہ کرنے کے لیے مجھے بلاتیں اوریہ سلسلہ تب خاص اہمیت حاصل کرتا جب کوئی مہمان آ رہا ہوتا تب بھی ذائقہ کے معائینے کی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر ڈال دی جاتی۔میری خاہواہش ہوتی تھی کہ میں والدہ کے پاس بیٹھ کر باورچی خانہ میں ہی بیٹھ کر کھانا کھاؤں۔
مالی حالات کیسے بھی ہوں مجھے شہر کے بہترین سکول میں داخلہ دلوایا گیا اور فی زمانہ مجھے بہترین سہولیات فراہم کی گئیں۔میری امی جی سے میرا تعلق صرف ایک ماں بیٹے کا ہی نہیں بلکے ایک دوست کا بھی ہے ۔میں سکول میں دن بھر جو کیا کرتا واپس آ کر اپنی والدہ کو بتا دیا کرتا اور مختلف چیزوں کے حوالے سے رائے طلب کیا کرتا۔یہ عادت اتنی پختہ ہو چکی تھی کہ جس روز میں والدہ کو سکول کی کارستای سے آگاہ نہ کیا کرتا وہ خود پوچھ لیتیں کہ"انس بیٹا!  آج آپ نے سکول میں کیاکیا؟" 
اپنے سب دوستوں سے متعلق والدہ کو آگاہ کرتا اور رائے لیتا۔ میری والدہ نے ابتدا سے ہی مجھے پر اعتماد کر کے مجھے قابل اعتماد اور ذمہ دار بننے میں مدد کی۔شروع ہی سے چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں مجھ پر ڈال دیتیں ۔بہت ہی چھوٹی عمر سے میں دکان سے گھر کا سودا سلف لے آیا کرتا جس پر دکان دار بھی حیران ہو جایا کرتے۔جب سکول ختم ہوا تو پھر شہر کے بہترین کالج میں داخلہ دلوایا دیا گیا اور میری ہر جائز ضرورت کو میرے بغیر کہے پورا کیا جاتا رہا، مجھے اپنے شہر سے باہر بھیجا جاتا اور گرمیوں میں والدہ کسی پر فضا مقام پر بھیج دیا کرتیں۔مجھے کھل کر میری صلاحیتیوں کو آزمانے کے مواقع فراہم کیے،میری خواہش کو اپنی خواہش پر ترجیع دی اور ہمیشہ ایک دوست کی طرح مجھے سمجھنے کی کوشش کی،آج CIIT ATTOCKمیں پڑھنے کے باوجودمجھے اپنی کسی بھی قسم کی ذاتی بات اپنی والدہ کو بتانے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔
میں کہیں بھی جاؤں تو اپنی والدہ کو ساری تصاویر دکھا لینے تک میری روح کو سکوں نہیں ملتا۔میں آج اپنی ماں سے بہت دور بیٹھا ہوں لیکن جیسے ہی آج صبح میں نے امی کو کال کی تو مجھسے بات کرتے ہوئے وہ دوسرے فقرے پر آب دیدہ ہو گئیں ۔اور زیادہ دیر بات نہ کر سکیں ۔
دنیا میں ایسا کوئی رشتہ نہیں جو ماں کا متبادل ہو۔ماں قسمت والوں کو ملا کرتی ہے ۔ اور ہم کتنے بد نصیب ہیں کہ اپنے گھر میں موجود اس جنت کو بھلائے بیٹھے ہیں۔کیونکہ ہم بڑے ہو گئے ہیں۔کاش میں ماضی کے اوراق جن مِیں میں نے والدہ کی حکم عدولی کی ہے بدل سکتا۔۔کاش میں پھر سے بچپن میں لوٹ سکتا۔ اور اپنی والدہ  کی بازو پہ سر رکھ کے سو سکتا اور انکی آنکھوں میں جھانک کر کہہ سکتا کہ 
"امی آپکی آنکھوں میں میری تصویر نظر آ رہی ہے"
"I love you Ami Ji"

تحریر
ملک انس اعوان 
Twitter:AnasInqilabi

میں ہار گیا

0 comments
اس نے مجھسے کہا کہ تم ہار جاؤ گے واپس آ جاؤ لیکن میں نے کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی ہار مان لینے سے انکار کیا اور مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ میں ایک لمحے کو رکا اور گرد آلود قدموں کی جانب دیکھا کچھ سوچا اور قدم بڑھا دیا،پیچھے سےایک اورمانوس آواز نے مجھے متوجہ کرنا چاہا لیکن میں نے نظر انداز کر دیا۔ ناجانے مجھے اپنے قدم اتنے بھاری کیوں محسوس ہو رہے تھے۔میں نے تیز چلنا چاہا تو دونوں جانب کھڑے لوگوں کی کاٹ دار آوازوں نے میری سماعت کو چیر کر رکھ دیا۔میں ہار مان لینے والوں میں سے نہیں تھا ۔مجھے تو کچھ کر دکھانا تھا۔ مجھے تو ان ہزاروں بے نام پتھروں  کو نام دینے تھے اور انسے آپنی پہچان ثابت کرنی تھی۔میں تو وہ تھا کہ جو ڈٹ جانے والا تھا۔آخری دم تک لڑ جانے والا تھا۔اپنی ضد کا پکا تھا۔لیکن میری ہمت جواب دے گئی میں گر پڑا اور ایک طویل نیند کے بعد جب آبکھ کھلی تو خود کو ایک اور جگہ پایا ۔
میں نے پایا کہ میں شکست تسلیم کر چکا تھا۔ہاں" انس اعوان"  تم ہار چکے تھے۔ہار چکے تھے ان ہزاروں لوگوں سے جو تمہارے مقابل تو تھے لیکن تمہارے مقابلے کے نہیں تھے۔تم نے شور کو آوازوں پر ترجیع دی۔تم نے کھو دیا وہ سب کچھ جو صرف تمہارا تھا وہی جو اور کسی کا ہو ہی نہیں سکتا۔اور پھر  شور اٹھا
تم ہار گئے!
تم ہار گئے!
تم ہار گئے!

اور میں مصلحت کا شکار ہو گیا۔

تو بھی تو نہیں رہا میرا

0 comments
اب کوئی شہر نہیں رہا میرا
کوئی بھی میرا نہیں رہا میرا
گھر میں بیٹھ گئے سبھی لوگ 
باہر تماشا نہیں رہا میرا
ممکنہ حد   تک  مجھےڈھونڈیے گا
کوئی تعلق نہیں مجھسے رہا میرا
کہہ تو سکتا ہوں کہہ بھی نہیں سکتا
بیاں مشکل نہیں  رہا میرا
آبلے اب کیوں نہیں پڑتے
کیا راستہ ،راستہ نہیں رہا میرا
اب وہ دیتا ہے ناپ ناپ کر مجھے
وہ ساقی،ساقی نہیں رہا میرا
اب کیا شکوہ کسی سے جب
تو بھی تو نہیں رہا میرا



انس اعوان








برداشت

0 comments
ہم نے ایک چیز محسوس کی ہے کہ ہمارے دائیں بائیں ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے کہ جو پہلے تو ذہنی طور پہ درست ،اور اپنے روز مرا کے کام احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہوتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں ۔
اس حوالے سے دلچسپی ہونے کے باعث جب ایسے لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو کچھ نے تو بات کرنے سے ہی انکار کر دیا اور کچھ کی حالت ایسی بگڑ چکی تھی کہ وہ کچھ بھی بیان کرنے سے قاصر تھے۔چند ایسے تھے جو کچھ نا کچھ بتانے پر راضی ہوئے اور نکلا کیا۔۔۔۔۔!!!
گھر ،بچوں اور رشتہ داروں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات یا  گہرے صدمات۔۔
لیکن ایک چیز جس پر ہمیں سوچنا چاہیئے وہ یہ ہے کہ معاشرے میں برداشت کا رویہ پیدا کرنا۔ہم بحیثیت قوم بہت جلد ہی رد عمل دینے کے عادی ہیں اور یہی سوچ ایک عام فرد تک راسخ ہو چکی ہے۔ اس کی ایک وجہ دین سے دوری بھی ہے۔ دین سے مراد صرف اسلام ہی نہیں کوئی مذہب ہو اس کا انسان پر ایک گہرا اثر ہوتا ہے۔کسی چیز پر یقین رکھنے سے انسان مضبوط ہو جاتا ہے اور اس میں برداشت کا حوصلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
آخر میں ایسے افراد کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث یہی افراد نشہ فروخت کرنے والے مافیا کا شکار بن جاتے ہیں ۔اور پھر ایسے ہی کسی روز ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر کی لاش چوک کی نکڑ پر پڑی ملتی ہے اور دائیں بائیں انکے پڑھائے ہوئے گاڑیوں والے انکے طالب علم چند لمحے کو رکتے ہیں حقارت بھری نگاہوں سے لاش کو دیکھتے ہیں اور چل دیتے ہیں۔۔۔۔
تحریر
ملک انس اعوان


پس دیوار

0 comments

مجھے دکھتا ہے پس دیوار بھی کچھ

سرِ آئینہ ، سرِ محفل ،سرِ بازار بھی کچھ
فقس توڑ کے نکلا ہے تیرا مئےخوار ابھی
یہ بے  لوث ارادوں کے ہیں شاہکار بھی کچھ
ائے شوخیِ بیکار تیری فرصت پہ نثار
کسی کام کا نکلا میرا انتظار بھی کچھ
ہم کو تسلیم مگر حرمت محفل جاناں؟ 
ہم نےدیکھے تیری بزم میں سیاہ کار بھی کچھ
تخلیق:
ملک انس اعوان

ہم سب لوگ قدامت پسند ہیں

0 comments
قدامت پسند لوگوں کی قدامت پسندی اگر اصولی ہو تو اس سے اختلاف کرنا صحیح نہیں لگتا۔ عمومیً ہمارے ہاں دو قسم کی قدامت پسندی پائی جاتی ہے،ایک وہ جو مصلحت سے قطع نظر صرف خواہشات اور ضد پر مبنی ہو اور دوسری وہ جو اصولی ،جدید اور قابل ترمیم ہو۔آپ شاید "جدید قدامت پسندی" کے لفظ کو دیکھ کر پریشان ہو جائیں لیکن یہی وہ قدامت پسندی ہے جس کی ہمیں فلحلال ضرورت ہے،ایسی قدامت پسندی کہ جس میں آپ کسی بھی چیز کے حوالے سے قدامت پسندی کی حد قائم کر دیجئے۔اور جیسے یہ آپ اس حد سے زیادہ ہو جائیں تو جدیدیت میں داخل ہو جائیں ،دونوں کے اندر توازن قائم رکھنا ہی اصل کمال ہے۔ایک چیز جو ہمیشہ سے محسوس کی جاتی رہی ہے وہ یہ ہے کہ انسان جب کسی بھی ماحول سے مانوس ہو جائے تو اس کےدل کے کسی گوشے اس ماحول کے اہم نکات حسین یادوں کی صورت میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔دوسری جانب ان یادوں کا حسن تب تک قائم رہتا ہے جب تلک آپ اس مزکورہ ماحول سے دور رہتے ہیں،اس طرح قدامت پسندی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اچھے خاصے "سٹیٹس کو" حضرات بھی ایک دیسی ماحول کے ہوٹل میں کھانا کھانے کو پسند کرتے ہیں۔ہم بے شک چاہے کتنے ہی جدید ہو جائیں اور قدامت پسندی سے نفرت قائم رکھیں پھر بھی ہمارا ایک تعلق ماضی سے قائم رہتا ہے۔
دراصل قدامت پسندی سے نفرت کرنا بھی "قدامت پسندی" کی ہی ایک قسم ہے۔فی زمانہ جتنے بھی لوگ اس دنیا میں جدید کہلائے انہوں نے قدامت پسندی سے بے زاری برتی ہے۔اور قریباً تمام ہی کے اندر یہ رویہ موجود رہا ہے۔چناچہ ماضی میں "جدید" لوگوں کا عمومی رویہ بھی "قدامت پسندی" کا ایک گوشہ ہے جسے "جدید" لوگ فی زمانہ اپنائے چلے جاتے ہیں۔
پھر چاہے وہ حُسن مجسم ہو، گیسوئے برہم ہو،پھول ہو شبنم ہو یا جلوہ جانانہ سب کا تعلق ماضی کے ساتھ ہوتا ہے۔میرا اگلا فقرہ تحریر کرنے تک یہ بھی ماضی کا حصہ بن چکا ہو گا۔

یعنی ہم سب لوگ قدامت پسند ہیں۔۔۔۔

تحریر 


Twitter:AnasInqilabi