خواب اقبال

0 comments
رہ گیا خواب ذہن اقبال کا خیال
کہ بوٹا لاالہ کو ہے گلستاں میں زوال
ہوس مال و دولت و نشست تا گہر
جملہ ہائے اوصاف مومن کو زوال
دیدہ تر دیکھتی ہے چارونہ چار
بازار عدل میں غربت کا استحصال
شہر یا کوچہ و بستی کی التجا 
 تیرے ذہن میں کیوں نہیں اٹھتے سوال

ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔