غزل
(جنت)
اب یہ حال ہے کہ کوئی حال نہیں
کوئی بھی واقعہ تفصیل سے یاد نہیں
سبب کچھ بھی نہیں ہے اس وحشت کا
میرے سامنے مجھ سی کوئی مثال نہیں
خود میں مَیں نہیں ہوں موجود
اب مجھے کسی کا خیال نہیں
اب مجھے سدھرنے کی ضرورت ہے
اتنی بگڑی ہوئی اب بھی میری چال نہیں
تم کو آئے گی یہاں حقیقتوں کی بو
ہمارے ہاں خوشبؤں کا استعمال نہیں
پالیا جب سے سراغ خودی میں نے
اب میرا کسی سے کوئی سوال نہیں
میں کس طرح چین سے سو جاؤں
میرے بچوں کا کوئی پُرسان حال نہیں
میں اپنی ہی بینائی سے نالاں ہوں کہ
مجھ پہ واضح میرےاپنے ہی خدوخال نہیں
میں تو چلا جاؤں گا جنت میں
اب تو کسی طور ممکن تیرا وصال نہیں
ملک انس اعوان
(بمقام: اٹک ریلوے سٹیشن گراؤنڈ،شام 8 بجے،31 مئی 2015)











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔