جب ہم نہم جماعت میں پڑھ رہے تھے تو اکثر و بیشتر ہمارا معمول رہتا کہ شام کے وقت آبادی زرا باہر گاؤں کی طرف چلے جاتے اور کچھ دیر ٹہلتے ۔آبادی اور ویرانے کے درمیان چند چھوٹے چھوٹے مکانات تھے اور ایک ہاؤسنگ سکیم کا آغاز ہو چکا تھا اور روز ہی ایک نئی گلی کا وجود دیکھنے کو ملتا۔ ہم اپنے معمول کے مطابق ایک طرف سے چلنا شروع کرتے اور کھیتوں سے ہوتے ہوئے قبرستان کے آغاز میں بنی ہوئی چھوٹی سی بغیر چھت کے مسجد میں بیٹھ جاتے جس کے سامنے ہی ایک نلکا لگا ہوا تھا تو تھوڑی جدو جہد کے بعد روانی سے پانی نکالتا اور ہماری پیاس بجھانے کا وسیلہ بنتا۔روز کے معمول کے باعث اس ماحول سے خوب انسیت قائم ہو چکی تھی۔اور روایتی خوف جو ایک قبرستان سے محسوس کیا جاتا ہے میرے ذہن سے جاتا رہا۔پرانی سے نئی قبروں کی پہچان ہونے لگی اور میں ان کو بخوبی پہچاننے لگا۔ ایک روز میں یوں ہی تھک کر مسجد کے اندر آ بیٹھا تو دیکھتا ہوں کے ڈھلان کی جانب ایک ادھیڑ عمر بابا جی ایک قبر کے ساتھ بہت دیر سے بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے ہاتھوں سے ایسا لگتا کہ جیسے وہ کسی زندہ آدمی سے مخاطب ہوں اور اس کو کچھ سمجھا رہے ہوں۔ میں نے ان پر زیادہ غور نہیں دیا اور یہ سلسلہ کچھ دن تک جاری رہا۔اور پھر کچھ دنوں کے وقفے کے بعد ہ سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا۔ایک روز میں نے ہمت بندھائی اور ان کے پاس جا پہنچا سلام کیا اور بیٹھ گیا۔ انہوں نے میری جانب دیکھا اور قدرے سخت پوچھا کہ یہاں کیوں آئے ہو مجھے بات کرنے دو۔ مین نے فوراً ہی رد عمل کے طور پر مسکرا کی جواب دیا بابا جی یہ تو ایک قبر ہے اور یہاں کوئی نہیں ہے آپ کس سے بات کر رہے ہیں ۔وہ خاموشی سے اٹھے اور چلے گئے۔کئی دن تک میری انسے ملاقات نہ ہوسکی اور میں تجسس کے مارے بے تاب رہتا کہ اس کے پیچھے کی کہانی کب منظر عام پر آئے گی۔خیر کچھ دن بعد پھر سے بابا جی آئے اور بیٹھ گئے۔میں بھی پاس بیٹھ گیا اور وہی سوال دہرا دیا انہوں نے گہری سانس لی اور کہا کہ چلو آؤ مسجد میں بیٹھتے ہیں ۔ہم مسجد میں صفوں پر بیٹھ گئے بابا جی کہنے لگے کہ بیٹا میں 4 بیٹوں کا باپ ہوں ایک زمیندار گھرانے سے تعلق ہے ۔بیٹوں کی شادیاں ہو چکی ہیں ایک کے علاوہ سب شہر میں ہوتے ہیں اور اچھے اداروں میں نوکریاں کر رہے ہیں۔اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ اسی ساتھ والے گاؤں میں رہتا ہوں۔ بیوی کی وفات ہو چکی ہے اور جس قبر کے پاس میں آ کر بیٹھتا ہوں وہ میرے ایک دوست کی قبر ہے جو آج سے کچھ سال پہلے ایک حادثے میں وفات پا گئے تھے۔
بس جب پریشان ہوتا ہوں اور گھر میں میری بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا تو اپنے دوست کی قبر پہ آ بیٹھتا ہوں اور دل کی ساری باتیں کر گزرتا ہوں اور یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ کچھ عرصے بعد ہم اپنے امتحانات میں مصروف ہو گئے اور ہم اس واقعے کو بھول گئے۔ امتحانات کی تیاری اور پیپرز کے بعد جب معمولات معمول پر آئے تو دوبارہ سے شام کی چہل قدمی کا آغاز کر دیا ۔پہلے ہی روز میں ان باباجی کا انتظار کرنے لگا لیکن وہ نہیں آئے میں اٹھ کر اُس مقررہ قبر کے پاس گیا تو اسی قبر سے ساتھ ایک اور قبر بن چکی تھی جس پر انکا نام ایک پتھر کی سِل پر درج تھا۔ چند لمحے کو پورا قبرستان میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا اور میرے ذہن میں ان بابا جی کی آوازیں گونجنے لگیں۔ زرا فاصلے پر گورکن موجود تھا اس کو آواز دے کر اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ یہ قبر کب بنی ہے تو اس نے بتایا کہ آ ج اس کو بنے ہوئے دس دن ہو چکے ہیں ۔انتا سن کر میں نے اسے جانے کا اشارہ کیا اور ان دونوں قبروں کے درمیان بیٹھ گیا اور فاتحہ خوانی کی گھر واپس آ گیا۔اس کے بعد میں نے اس جانب جانا ہی چھوڑ دیا ۔بہت عرصے بعد قبرستان جانا ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قبرستان کی چار دیواری بنانے کی خاطر میری اس چھوٹی سی مسجد کو گرا دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ لگے ہوئے برگد کے بڑے پیڑ کو بھی کاٹ دیا گیا ہے۔ وہ پانی کا نلکا اب خراب ہوچکا ہے اور ان دونوں دوستوں کی قبر کے ساتھ ان کے اور بہت سے دوستوں کی قبریں بن چکی تھیں لیکن خاص بات یہ تھی کہ ان سب قبر کے دوستوں میں میں اکیلا کھڑا ہوا تھا،بالکل اکیلا۔۔۔۔۔۔۔۔میرے اندر تنہائی کاا حساس شدت اختیار کرتا جا رہا تھا۔میں فوراً وہاں سے واپس پلٹ آیا لیکن اب بھی جب بھی موقع ملتا ہے ان دو دوستوں کے پاس لازمیً چکر لگاتا ہوں۔اور ہر بار اس کہانی کو بھولنے کی ناکام کو شش کرتا ہوں۔
راقم الحروف
ملک انس اعوان
Twitter:AnasInqilabi











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔