بے جان الفاظ

0 comments
(ایک دوست کے لئے)
وقت کی رفتار بالکل اتنی ہی ہے جتنی پہلے تھی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ ہمیں خوشی کا وقت غم کی با نسبت زیادہ کم لگتا ہے۔اور ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے وقت کو گزرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ ایک چیز جو کہ قدرت میں ہمیشہ سے موجود رہی ہے کہ کوئی بھی چیز کبھی ایک جیسی نہیں رہی ہے چاہے پھر وہ وقت ہو یا ساحل پہ پڑا ہوا کوئی پتھر، دریا سے آنے والی چھوٹی سے چھوٹی لہر بھی ساحل پہ پڑے ہوئے پتھر پر اپنا اثر چھوڑتی ہے۔ انسان کی طرح ہی جب اس پرسے پانی بار بار گزرتا ہے تو اس کے اند ر موجود لوہے کے ذرات کو زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے اور دھیرے دھیرے وہ زنگ پھراس  کی سطح پر آ جاتا ہے ،اسی زنگ کی وجہ سے اس کی سطح پر نقش و نگار ابھر آتے ہیں اور پتھر کو خوبصورتی بخشتے ہیں۔وہ پتھر پھر اپنی اس خوبصورتی پر اتراتا ہے اور غرور کرتا ہے لیکن وہ نادان یہ نہیں جانتا کہ  یہ خوبصورتی نہیں بلکہ اس کے اندر کا زنگ ہے جو اس کو کھوکلا کیے جا رہا ہے اور ایک روز وہ کسی بڑی لہر کی پلیٹ میں آ کر ٹوٹ جاتا ہے اور پانی کے بہاؤ میں بکھر جاتا ہے۔ لیکن لہریں اسی طرح چلتی رہتی ہیں ،پٹھر اسی طرح اپنی خوبصورتی پر اتراتے رہتے ہیں اور بال آخر ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ پسند ،نا پسند ،رشتے اور رشتوں کے مابین اخلاص سب کچھ تبدیل ہوجاتا ہے۔انسان ہمیشہ اس چیز سے تنگ آجاتا ہے اور اکتا جاتا ہے جس سے اس کی دلچسپی قائم نہیں رہتی۔اور ہر انسان ہر وقت ہر صورتحال میں آپکی دلچسپی پوری نہیں کر سکتا ،لیکن خاموشی ضرور اختیار کر سکتا ہے ایسی خاموشی جو شاید آپ کے لیے تسکین کا باعث ہو لیکن در حقیقت وہ آپ کے رویے اور آپکی ذات کا ماتم ہوتی ہے۔
اس دنیا میں جس نے اپنے آپ کو اور اپنی ذات کو چھُپا کر رکھا ہے اور سنبھال کر رکھا ہے وہ خوش رہا ہے۔ جب آپ کسی کو اپنی راز کی بات بتا رہے ہوتے ہیں تو آپ اپنی عزت نفس کا سودا کر رہے ہوتے ہیں وہ عزت جو عزتوں میں ہم سے بلند مقام رکھتی ہے۔یہ وہ عزت ہے جو سب سے زیادہ نازک اور حساس ہوتی ہے جو ایک بار چلی جانے سے کبھی لوٹ کر نہیں آتی۔اور بے شک راز دار رکھنے والے لوگ رسوا ہی ہوئے ہیں ۔
احساس وہ چیز ہے کہ جو کبھی بھی پیدا نہیں کی جاسکتی یہ اللہ رب العزت کی جانب سے ودیعت شدہ ہوتی ہے بس ہم کسی فرد کے لئے اس میں اضافہ یا کمی کر سکتے ہیں۔ اور حد سے زیادہ حساسیت بھی عذاب ہوتی ہے خاص طور پہ ایسے لوگوں کے لئے کہ جن کا واسطہ دنیا کے چند غیر حساس ترین لوگوں سے پڑے۔یہاں دنیا کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا کیونکہ ہر شخص کی دنیا مختلف ہوتی ہے۔ہو سکتا ہے کسی شخص کی دنیا فقط چند لوگوں پر مشتمل ہو اس لئے اپنی دنیا کو جلدی طے کر لیجئے ورنہ رویوں اور سلوک سے لوگ اندازہ لگا لیتے ہیں۔اور جو لوگ اپنے آپ کو آپ کی دلچسپیوں اور توجہ مین نہین پاتے یقینی طور پر وہ بات کو محسوس کر لیتے ہیں کہ شاید اب آپکی دنیا میں اب انکی کوئی جگہ نہیں ہے۔اور ویسے بھی مالک مکان کی مرضی کے بغیر کسی مکان میں آخر کوئی کیسے رہ سکتا ہے۔
انسان کو اللہ نے احساسات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے  جو چیزیں عطا کی ہیں ان میں سے 3 نہایت اہم ہیں 
  1. بولنا
  2. لکھنا
  3. خاموش رہنا
آپ کسی بھی شخص کو بول کر سمجھا سکتے ہیں جب آپ سمجھیں کہ اب الفاظ اپنی اہمیت کھو چکے ہیں تو تحریر سے قائل کرنے کی کوشش کریں اور جب آپ سمجھیں کہ تحریر بھی اثر نہیں کر رہی تو خاموش ہو جائیے کیونکہ یہ رب کا فیصلہ ہے اور شاید اسی میں اللہ کی کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔ 

لوگ آپ سے توجہ ، احساس کو وقت مانگتے ہیں۔بدلے میں آپ اگر انہیں کچھ بھی دینے سے قاصر ہیں تو یاد رکھیے کہ غلطی مانگنے والے کی  بلکہ دینے والے کی ہے۔مانگنے والا تب تک نہیں مانگتا جب تب تک اسے وصولی کا یقین نہ ہو جائے۔آپ منہ سے ہزار میٹھی باتیں کر لیں لیکن لیکن آپکا عمل کسی بھی انسان کو اسکی اوقات یاد دلا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔
ہر دن کی ایک شام اور ہرشام کی ایک صبح لازمی ہوتی ہے۔لیکن ان میں سے ایک شام ایسی بھی ہوتی ہے جس کی صبح نہیں ہو پاتی۔ہم میں سے کئی آئے اور چلے گئے۔لیکن کچھ غلطیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے لئے ہم خود کو بھی معاف نہیں کر پاتے اور یقینً معاف کرنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ یہ صرف اور صرف ہمارا اپنا قصور ہوتے ہیں اور ہمیں اس کی مکمل سزا ملنی چاہئے ۔آخر میں 
سالگرہ مبارک!
 اللہ آپ کو ہزاروں بہاریں دیکھنا  نصیب فرماے۔ہر خوشی اور کامیابی آپکا مقدر بنے۔اللہ آپکی زندگی کو غیر ضروری اور غیر اہم لوگوں سے پاک فرمائے۔آپ جو چاہیں پا لیں ۔آپکی ہر جائز خوہش کو پورا اور خواب کو حقیقت بخشے۔
ہزاروں دعاؤں کے ساتھ صدق دل سے ایک دعا یا بدعا یہ بھی ہے کہ۔۔۔
اللہ آپکو مجھ سے ڈھیر زیادہ عمر عطا فرمائے، اور اپنی غلطیوں کو جاننے ،پہچاننے اور احساس کرنے کی توفیق عطا فرمائے لیکن تب جب بہت دیر ہو چکی ہو اور ازالہ کرنا بھی ممکن نہ رہے۔
وسلام
انس اعوان



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔