ہزاروں مضمون ایسے ہیں
جن کا عنواں نہیں لکھا
جن کا عنواں نہیں لکھا
کبھی خود ہی نہیں لکھا
کبھی لکھا نہیں جاتا
کہاں سے ابتدا کرتا
کہاں پہ انتہا ہوتی
کہاں پہ مدعا رکھتا
کہاں پہ ذکر کر جاتا
کہاں پہلو بچا لیتا
کہاں معنی چھپا رکھتا
کہاں الفاظ کے مابین
تصور کو جمع رکھتا
کہاں کاغذ کی کشتی کو
سخن پر میں رواں رکھتا
کہاں حد طلب ہو تی
کہاں حد نظر رکھتا
انس اعوان
کہاں معنی چھپا رکھتا
کہاں الفاظ کے مابین
تصور کو جمع رکھتا
کہاں کاغذ کی کشتی کو
سخن پر میں رواں رکھتا
کہاں حد طلب ہو تی
کہاں حد نظر رکھتا
انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔