سنو میں مرگیا شاید

2 comments

مبارک ہوں تمہیں یہ ساعتیں خوشیاں مبارک ہوں
وجود وصل کی چاہ میں یہ چند صدیاں مبارک ہوں

مبارک ہوں تمہیں پھر خواب کی ٹوٹی ہوئی کلیاں 
کہیں بکھری ہوئی الجھی ہوئی بے زار سی گلیا ں 
ہمیں ہے حوصلہ کہ اب تمہیں گرنے نہیں دیں گے
تمہارے نئے سہارے اب تمہیں بکھرنے نہیں دیں گے
وہاں پھر شوخیاں ہوں گی جہاں پر ہم نہیں ہوں گے
صرف تم ہی ہو گے اور تمہاری دوستیاں ہوں گی
سنو ! ممکن نہیں ہے پھر کبھی ویسے ہی ہو جاؤ
مکمل تو نہیں پر چند لمحے میرے ہی جاؤ
چلو چھوڑو تمہیں تمہید سے اتنی ہی نفرت ہے
مجھے معلوم ہے اُتنی تمہیں مجھسے ہی نفرت ہے
یہاں میری خواہش تھی یہاں میں مرثیہ لکھتا
کہیں لکھتا میں اپنی ذات پھر ناکامیاں لکھتا
یہاں لکھتا صرف ایام وہ جن میں اذیت تھی
جہاں میرے ہی بس میں نہیں میری طبیعت تھی
کبھی یوں بھی ہوا شاید کبھی یوں بھی ہوا شاید
سنو میں مرگیا شاید ،سنو مین مر گیا شاید

-----
ملک انس اعوا ن
8 جون 2015
12:32am


2 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔