مبارک ہوں تمہیں یہ ساعتیں خوشیاں مبارک ہوں
وجود وصل کی چاہ میں یہ چند صدیاں مبارک ہوں
مبارک ہوں تمہیں پھر خواب کی ٹوٹی ہوئی کلیاں
کہیں بکھری ہوئی الجھی ہوئی بے زار سی گلیا ں
ہمیں ہے حوصلہ کہ اب تمہیں گرنے نہیں دیں گے
تمہارے نئے سہارے اب تمہیں بکھرنے نہیں دیں گے
وہاں پھر شوخیاں ہوں گی جہاں پر ہم نہیں ہوں گے
صرف تم ہی ہو گے اور تمہاری دوستیاں ہوں گی
سنو ! ممکن نہیں ہے پھر کبھی ویسے ہی ہو جاؤ
مکمل تو نہیں پر چند لمحے میرے ہی جاؤ
چلو چھوڑو تمہیں تمہید سے اتنی ہی نفرت ہے
مجھے معلوم ہے اُتنی تمہیں مجھسے ہی نفرت ہے
یہاں میری خواہش تھی یہاں میں مرثیہ لکھتا
کہیں لکھتا میں اپنی ذات پھر ناکامیاں لکھتا
یہاں لکھتا صرف ایام وہ جن میں اذیت تھی
جہاں میرے ہی بس میں نہیں میری طبیعت تھی
کبھی یوں بھی ہوا شاید کبھی یوں بھی ہوا شاید
سنو میں مرگیا شاید ،سنو مین مر گیا شاید
-----
ملک انس اعوا ن
8 جون 2015
12:32am











Too Nice.. The Ever best..
شکریہ بھائی جان