میرے اکثر دوست مجھسے شکوہ کرتے ہیں کہ آپ لوگوں کو استعمال کرتے ہیں۔
خیر میں انکے اس نقطہ نظر سے اختلاف نہیں رکھتا بلکہ کچھ وضاحت کرنا چاہوں گا کہ لوگوں کو انکے خول سے باہر نکالنا، جو مجھے آتا ہے وہ لوگوں کو بتانا اور سمجھانا اور انکو اپنی جگہ کھڑا کرنا کوئی معیوب بات نہیں ہے۔معیوب بات تو یہ ہے کہ آپ نہ خود آگے بڑھیں اور نہ دوسروں کو آگے بڑھنے دیں۔ یہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر کوئی اپنے مفادات کی خاطر لڑتا اور مرتا ہے یہاں عزت ،شہرت اور پیسے کی دوڑ ہے۔ ہر کوئی اس دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی جستجو میں مگن ہے ایسے میں جب آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپکو لوگوں کی ایک طویل قطار نظر آئے گی جو ٹکٹکی باندھے آپکی جانب دیکھ رہے ہوں گے اور انکی سینکڑوں خواہشات آپ کی ذات سے منسوب ہوں گی۔دوسری جانب آپ کی اپنی خواہشات کا انبار ہو گا تمام لوگوں کی برعکسآپ کی یہ خواہشات ایک علیحدہ حیثیت کی مالک ہوں گی۔۔ اب آپ دیکھیے کہ آپ کے گرد وہ کونسے لوگ ہیں جو آپ کے ساتھ زیادہ دیر تک چل پائیں گے۔ یاد رکھیے ضدی، انا پرست اور کم ضرف کبھی بھی طویل رشتے قائم نہیں رکھ پاتے۔اسی لئے اپنے سے کم قابلیت والے افراد کا چناؤ کریں اور ان کے سامنے اپنی حیثیت اور ان کے لیے اپنی ذات کی ضرورت کی وضاحت اوائل میں ہی کر دیجئے۔ پھر دوسرے مرحلے میں ان لوگوں کے ساتھ مضبوط رشتے قائم کریں اور انکو وہ سب سِکھا دیں جو آپ میں موجود ہے، لیکن رازدار صرف ان کو بنائیں جو اپنے غصے پر قابو اور جذبات کو سنبھالنا جانتے ہوں۔جو آپکے مزاج کو سمجھتے اور آپ کی رائے کو اہمیت دیتے ہوں۔اپنے گرد اپنے احباب کا ایک دائرہ بنا کر رکھیں اس طرح سے کہ باہر کے لوگ آپکی شخصیت کو پرکھ نہ سکیں اور آپ کے قریب نہ آ سکیں ۔ یاد رکھیے جب تک آپ خود پسند نہیں ہوں گے تب تک لوگ بھی آپسے متاثر نہیں ہوں گے۔اپنے اندر اعتماد ،فخر اور جائز حد تک غرور پیدا کرنا ایک اچھے ارہنما کی نشانیوں میں سے ہیں۔آپ کو اپنی ذات کو لوگوں کے سامنے منوانا ہواتا ہے بتانا ہوتا ہے۔
ایک چیز جو اس میں سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ کبھی بھی سیدھے کھڑے ہوئے درخت پر پھل نہیں لگتا، ہمیشہ جس ٹہنی پر پھل لگتا ہے وہ جھک جاتی ہے۔ہمیں ہر انسان کی عزت کرنا پڑتی ہے اس لئے کہ ہمین اپنی عزت کروانہ ہوتی ہے۔کسی کو بڑا تسلیم کر لینے سے خود کی شخصیت کبھی بھی شکست کا شکار نہین ہوتی بلکہ چالاک لوگ اس کا موقع اٹھا کر اپنی شخصیت کو مزید نکھارتے اور بناتے سنوارتے ہیں۔ اور ایسے مواقع سر جھکائے بغیرکبھی دستیاب نہیں ہو پاتے۔اب آپ چاہے اسے منافقت ہی کیوں نہ کہہ ڈالیں لیکن یہ ایک شعر یاد رکھیے گا۔کیوں کہ ہم نے یہ سبق کر کے سیکھے ہیں۔۔۔۔!
جو اعلی ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھُک کے ملتے ہیں
صراحی سر نگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ
تحریر
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔