تم اگر پوچھ ہی لیتے

0 comments

تم نے پوچھا ہی نہیں
تم اگر پوچھ ہی لیتے
پوچھ لینے سے کیا جاتا
خیر اگر پوچھ بھی لیتے
ہم بتاتے بھی کیا کہ
وہی حالات و ماہ و سال پہلے سے
وہی گردش دوراں کے چکر
وہی گرد میں لپٹا ہوے لوگ
وہی تھک کر ٹوٹے  ہوئے در و دیوار
اور وہاں لٹکے ہوئے آہنی تالے
سر جھکائے جن گلیوں سے گزرتے ہیں
ہم دیکھتے ہیں نادان بچوں کو
جو بہتی نالیوں کے ساتھ چلتے ہیں
جہاں سے روشنی چھن کر برستی ہے
کسی دوکاں  کے سامنے آ دھمکتے ہیں
جیب سے چند سکوں کی دولت اچھال کر دیکھتے ہیں
انکی آنکھوں کی حسرت ہاتھ میں پکڑے ہوئے پیسوں سے
یوں لگتا ہے جیسے مِیل کھاتی ہے
سمجھتے ہیں کہ وہ ان پیسوں سے
بھری دوکان سے خوشیاں خرید سکتے ہیں
کتنے نادان ہیں اور ان کے ساتھ
میں بھی اس خواب سے نکل آتا ہوں
(ملک انس اعوان)

ڈائری کا ایک ورق 2

0 comments
کتنا غیر معمولی لگتا ہے جب آپ کسی رنگ کو غور سے دیکھیں اور اس میں تہہ در تہہ سینکڑوں مزید رنگ ابھر آئیں اسی طرح  بات سے بات چل نکلے اور دور تلک کئی  اور باتوں،معانی و مفہومات میں ڈھل    جائے، یا اس آواز کی طرح جو سینکڑوں کتابوں کےخمیر سے اٹھ کر فضا کے اندر تحلیل ہو جائے یا کسی پیاس زرہ صحرا میں ابر کرم کی طرح برس پڑے اور جس کے نتیجے میں ہر سو شعور کا سبزہ سر اٹھانے لگے تو اگر آپ یہ سب محسوس کر سکتے ہیں تو صرف اسی وجہ سے کہ ایسا حقیقت میں ہو رہا ہوتا ہے. یہ دلکشی، خوبصورتی، رعنائی صرف ہمارے خام ذہن کی فضول پیداوار یا محض ایک مفروضہ نہیں ہے کہ جس کو بے بنیاد سمجھا جائے.کیونکہ کچھ بھی بے بنیاد نہیں ہوتا ہے، "کچھ" کاکچھ نہ کچھ  مطلب ضرور ہوتا ہے. یہ خیال یہ وہم یوں ہی تو نہیں پیدا ہوتے ہیں ان کا بھی تو کوئی ماخذ ہوتا ہے آخر یہ بھی تو کسی سے ماخوذ ہوتے ہیں. کہیں نہ کہیں تو کسی کے تار کسی سے ضرور جا ملتے ہوں گے وہ جو کچھ ہم محسوس کر رہے ہوتے ہیں وہ غیر محسوس کن طریقے سے عمل پذیر ہو رہا ہوتا ہے. سید سجاد کا وہ جملہ کہ "try to see the things from an different angle" آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ یاد ہے. جس کی بدولت جب کسی منظر کے ایک رخ سے دل بھر جائے تو دوسرے رخ سے دیکھنا شروع کر دینا چاہیے. اس کا ایک مفید استعمال یہ ہے کہ اس سے اپنی برداشت کو مزید طاقت ور بنائیں. زندگی میں آنے والی ہر پسندیدہ و ناپسندیدہ تبدیلی کو کھلے دل سے قبول کیجئے اس میں تہہ در تہہ چھپے ہوئے رنگوں اور مفاہیم کو تلاش کیجئے ، جہاں دل اکتانے لگے اپنی جگہ تبدیل کر لیجیے لیکن آپ کا مرکز وہی ہو جو پہلے سے موجود ہے.یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کتاب پڑھنے کا ارادہ کر کے بیٹھے ہوں اور کتاب آپ کے ہاتھ میں موجود ہو تو کسی بھی صفحے سے پڑھنا شروع کر دیجئے ایک یا دو صفحات پڑھنے کے بعد آپ کی اس کتاب کے حوالے سے دلچسپی بڑھتی جائے گی اور آپ اس کتاب کو پڑھ سکیں گے.یہی ایک دلچسپی ہے جو لوگوں کو آپ سے جوڑے رکھتی ہے. یہی دلچسپی قائم رہنی چاہیے اور اسکے قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر غیر معمولی شے میں دلچسپی لی جائے.لیکن اس حد تک کہ آپ اس دوران اپنے وجود ،اپنے مفادات اور اپنی ترجیحات جن کو آپ پس پشت نہ ڈال سکیں انکا بھرپور طریقے سے دفاع کر سکیں ۔

ملک انس اعوان 



بیمار بھینس

1 comments
شدید گرمی اور حبس کے دن تھے۔میرے نانا محترم سکھ چین کی قدرے ٹھنڈی چھاؤں میں کھالے( نہری پانی تقسیم کرنے کے لیے بنائے گئے رستے) کے اوپر چارپائی ڈالے آرام فرما رہے تھے۔ ان کے دونوں جانب 3 اور چارپائیاں بھی پڑی ہوئی تھیں جس میں سے ایک پر میں بیٹھا ہوا تھا اور ان کے سامنے والی چارپائی پر گاؤں کا ایک سادہ لوح آدمی بیٹھا ہوا تھا جو اس سال اجناس کے بڑھتے ہوئے دام اور مہنگائی پر تشویش کا اظہار کر رہا تھا ۔اتنے میں ایک اور زرا پکی عمرکا آدمی آیا اور میرے ساتھ آ کر بیٹھ گیا ۔ حقے کے کش لگاتے ہوئے وہ قدرے پریشان لگ رہا تھا۔ پہلے سے موجود آدمی نے اس سے پوچھا کہ سنا ہے کہ تمہاری بھینس بیمار ہے ، اب اس کا کیا حال ہے جب ٹھیک تھی تو بہت دودھ پیدا کیا کرتی تھی؟
اس آدمی نے حقے کی نالی حقے میں ٹکائی اور میرے نانا سے مخاطب ہو کر کہنے لگا  کہ "عبدالغنی صاحب میں نے پہلے تو دوا دارو کیا لیکن بھینس کو کچھ فرق نہ پڑا آخر تنگ آ کر میں نے اسکا علاج کروانا بند کر دیا ہے۔اگر قسمت میں ہوئی تو خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔
یہ سن کر نانا محترم زرا  سامسکرائے اور کہنے لگے کہ میاں اگر تمہیں شدید پیاس لگی ہو اور تمہارے سامنے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس پڑا ہوا ہو ۔
اور تم اس گلاس کے سامنے ہاتھ باندھ کر بیٹھے رہو کہ اگر قسمت میں ہوا تو یہ پانی میں پی لوں گا تو تا دم آخر یہ پانی تمہیں نصیب نہیں ہو گا ۔لیکن اگر ہاتھ بڑھاؤ گے اورکوشش کرو گے تو یہ  پانی پی سکو گے۔
یہ بات یاد کر کے مجھے اس آدمی کی شکل میں پاکستانی قوم کا چہرہ نظر آ نے لگا جو سارا سال حکمرانوں کو روتے رہتے ہیں اور شکوہ کرتے نہیں تھکتے اور  مساجد میں ہر جمعے یہی دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں کہ ائے اللہ پاکستان کو ایک صالح حکمران عطا فرما تمام حالات کو اپنے فضل و کرم سے درست فرما دے۔۔۔۔!
لیکن اس اللہ نے قرآن میں کھول کھول کر اسکا جواب بھی لکھ دیا کہ
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى
اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے
(سورۃ النجم آیت 39)
کیا اس کے بعد بھی ہمارے لئے نماز روزہ کر کے گھرو ں میں بیٹھے رہنے کی گنجائیش باقی رہ جاتی ہے۔۔۔!

تحریر
ملک انس اعوان 



Photo Credits:Razq Vance

مولانا طارق جمیل اور مولانا الیاس قادری سے ایک سوال

3 comments
مجھ جیسے کند ذہن ، کم ایمان و تقوی والے ایک یونیورسٹی کے طالب علم کے ذہن میں اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر کوئی انسان ساری زندگی با جماعت نماز ادا کرے،زکوۃ ادا کرے ،تہجد پڑھے، روزے رکھے الغرض تمام عبادات کو احسن طریقے سے ادا کرے اور اس کے بعدزندگی میں ہر پانچ سال بعد الیکشن میں ایک بد کردار ،بد دیانت ،بد فعل انسان کو ایک نیلی مہر کے ذریعے مسلمانوں پر حکمران منتخب کرے جس کے نتیجے میں ایک ایسی حکومت کا قیام عمل میں لائے جو پھر حدود اللہ میں ترمیم کرے ، اسلامی روایات کو نقصان پہنچائے اور بلآخر ایک ایسا ماحول فراہم کرے جہاں اسلام پر عمل پیرا رہنا قریباً نا ممکن ٹھہر جائے تو اس صورت میں وہ تمام عبادات(حقوق اللہ) ،نماز،روزے اور ان گنت حج کیا اس ایک نیلی مہر(حقوق العباد) کا کفارہ ادا کر سکتے ہیں ؟
آپ دین کو سیاست سے کس طرح علیحدہ کر سکتے ہیں اگر کر سکتے ہیں تو مجھے بھی کچھ ایسا وعظ کیجئے کہ میں بھی اس فتنے سے بچ سکوں ۔۔۔ وگرنہ ایک بات ذہن نشیں رکھیے کہ اللہ قیامت کے روز انسان سے اس کے اختیار کے برابر ہی سوال کرے گا،بس یہی بات مجھے سکون سے بیٹھنے نہیں دیتی۔۔ برائے مہربانی راہنمائی فرما دیجئے۔۔۔۔۔۔!
اب اس جدید راہبانیت کا کچھ تو سر پاؤں ہو گا۔

اب زرا  مولانا مفتی محمد شفیع ؒ کا بیان بھی سن لیجئے۔

" حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ
مفتی اعظم پاکستان، بانی جامعہ درالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد شفیع نے عمیق فکر پر مبنی درج ذیل تحریر تقریباً پچاس سال پہلے لکھی تھی۔ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر اس فکر کی آج جب پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت اور اہمیت ہے اس بصیرت افروز تحریر کو خلفشار، معاشی بدحالی، بدامنی اور لاقانونیت کے دور میںہونے والے عام انتخابات میں رہنمائی کا صائب ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے ۔مولائے کریم ملکی عوام کو درست فیصلے کی توفیق عطا فرمائے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج کی دنیا میں اسمبلیوں، کونسلوں، میونسپل وارڈوں اور مجالس اور جماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جارہا ہے کہ زور و زر اور غنڈہ گردی کے سارے طاغوتی وسائل کا استعمال کرکے یہ چند روزہ موہوم اعزاز حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے عالم سوز نتائج ہر وقت آنکھوں کے سامنے ہیں اور ملک و ملت کے ہمدرد و سمجھدار انسان اپنے مقدور بھر اس کی اصلاح کی فکر میں بھی ہیں لیکن عام طور پر اس کو ایک ہار جیت کا کھیل اور خالص دنیاوی دھندہ سمجھ کر ووٹ لیے اور دیئے جاتے ہیں، لکھے پڑھے دیندار مسلمانوں کو بھی اس طرف توجہ نہیں ہوتی کہ یہ کھیل صرف ہماری دنیا کی نفع نقصان اور آبادی یا بربادی تک نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے کچھ طاعت و معصیت اور گناہ و ثواب بھی ہے، جس کے اثرات اس دنیا کے بعد بھی یا ہمارے گلے کا ہار عذاب جہنم بنیں گے۔
 اس حالت میں ان کے سامنے قرآن و حدیث کے احکام پیش کرنا ایک بے معنی و عبث فعل معلوم ہوتا ہے لیکن اسلام کا ایک یہ بھی معجزہ ہے کہ مسلمانوں کی پوری جماعت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوتی، ہر زمانہ اور ہر جگہ کچھ لوگ حق پرست اپنے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر کو پیش نظر ضرور رکھتے ہیں۔
اُمیدواری:
کسی مجلس کی ممبری کے انتخابات کے لیے جو امیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہو، وہ گویا پوری ملت کے سامنے دو چیزوں کا مدعی ہے، ایک یہ کہ وہ اس کام کی قابلیت رکھتا ہے جس کا امیدوار ہے، دوسرے یہ کہ وہ دیانت و امانت داری سے اس کام کو انجام دے گا، اب اگر واقع میں وہ اپنے اس دعویٰ میں سچا ہے یعنی قابلیت بھی رکھتا ہے اور امانت و دیانت کے ساتھ قوم کی خدمت کے جذبہ سے اس میدان میں آیا تو اس کا یہ عمل کسی حد تک درست ہے اور بہتر طریق اس کا یہ ہے کہ کوئی شخص خود مدعی بن کر کھڑا نہ ہو بلکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت اس کو اس کام کا اہل سمجھ کر نامزد کردے اور جس شخص میں اس کام کی صلاحیت ہی نہیں وہ اگر امیدوار ہو کر کھڑا ہو تو قوم کا غدار اور خائن ہے، اس کا ممبری میں کامیاب ہونا ملک و ملت کے لیے خرابی کا سبب تو بعد میں بنے گا، پہلے تو وہ خود غدر و خیانت کا مجرم ہوکر عذاب جہنم کا مستحق بن جائے گا۔اس ممبری سے پہلے تو اس کی ذمہ داری صرف اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال ہی تک محدود تھی، اور اب کسی مجلس کی ممبری کے بعد جتنی خلق خدا کا تعلق اس مجلس سے وابستہ ہے، ان سب کی ذمہ داری کا بوجھ اس کی گردن پر آتا ہے ۔
ووٹ اور ووٹر:
کسی امیدوار ممبری کو ووٹ دینے کی ازروئے قرآن و حدیث چند حیثیتیں ہیں، ایک حیثیت شہادت کی ہے کہ ووٹر جس شخص کو اپنا ووٹ دے رہا ہے، اس کے متعلق اس کی شہادت دے رہا ہے کہ اس شخص میں اس کام کی قابلیت اور دیانت کی صفات ہیں اور ووٹر یہ جانتے ہوئے اس کو ووٹ دیتا ہے کہ ایسا نہیں تو وہ ایک جھوٹی شہادت ہے جو سخت کبیرہ گناہ اور وبال دنیا و آخرت ہے، صحیح بخاری کی حدیث میں رسول کریم نے شہادت کا ذبہ کو شرک کے ساتھ کبائر میں شمار فرمایا ہے، (مشکوٰة) اور ایک دوسری حدیث میں جھوٹی شہادت کو اکبر کبائر فرمایا ہے، (بخاری و مسلم)۔
اب ووٹ دینے والا اپنی آخرت اور انجام کو دیکھ کر ووٹ دے، محض رسمی مروت یا کسی طمع و خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو اس وبال میں مبتلا نہ کرے۔ قرآن کریم کا یہ ارشاد ہر ووٹر کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ ترجمہ:جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے، اس میں اس کو بھی حصہ ملتا ہے اور نااہل نالائق، فاسق ظالم کی بری سفارش کرتا ہے، تو اس کی برائی میں اس کا بھی حصہ لگتا ہے۔ ووٹ کی ایک تیسری شرعی حیثیت وکالت کی ہے کہ ووٹ دینے والا اس امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے لیکن اگر یہ وکالت اس کے کسی شخصی حق کے متعلق ہو تی، اس کا نفع نقصان صرف اس کی ذات کو پہنچتا تو اس کا یہ خود ذمہ دار ہوتا، مگر یہاں ایسا نہیں کیونکہ یہ وکالت ایسے حقوق کے متعلق ہے جو پوری قوم کے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے، ایک شہادت دوسرے سفارش تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت، تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ثواب عظیم ہے اور اس کے ثمرات اس کو ملنے والے ہیں، اس طرح نااہل یا غیرمتدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی اور اس کے تباہ کن ثمرات بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔
ضروری تنبیہ:
 ووٹ دینا ثواب عظیم ہے بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے، قرآن کریم نے جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح سچی شہادت کو واجب و لازم بھی فرمایا ہے۔ ارشاد باری ہے۔ترجمہ: ان دو آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کیلئے ادائیگی شہادت کے واسطے کھڑے ہو جائیں۔ ایک آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے۔آج جو خرابیاں انتخابات میں پیش آرہی ہیں، ان کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نیک صالح حضرات عموماً ووٹ دینے ہی سے گریز کرنے لگے جس کا لازمی نتیجہ وہ ہوا جو مشاہدہ میں آرہا ہے کہ ووٹ عموماً ان لوگوں کے آتے ہیں جو چند ٹکوں میں خرید لیے جاتے ہیں۔کسی حلقہ میں کوئی بھی امیدوار صحیح معنی میں قابل دیانت دار معلوم نہ ہو، مگر ان میں سے کوئی ایک صلاحیت کار اور خدا ترسی کے اصول پر دوسروں کی نسبت سے غنیمت ہو تو تقلیل شر اور تقلیل ظلم کی نیت سے اس کو بھی ووٹ دے دینا جائز بلکہ مستحسن ہے، جیسا کہ نجاست کے پورے ازالہ پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں تقلیل نجاست کو اور پورے ظلم کو دفع کرنے کا اختیار نہ ہونے کی صورت میں تقلیل ظلم کو فقہاءرحمہم اللہ نے تجویز فرمایا ہے۔ واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم
خلاصہ یہ ہے کہ:
انتخابات میں ووٹ کی شرعی حیثیت کم از کم ایک شہادت کی ہے جس کا چھپانا بھی حرام ہے اور اس میں جھوٹ بولنا بھی حرام، اس پر کوئی معاوضہ لینا بھی حرام، اس میں محض ایک سیاسی ہار جیت اور دنیا کا کھیل سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے، آپ جس امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، شرعاً آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریے اور علم و عمل اور دیانت داری کی رو سے اس کام کا اہل اور دوسرے امیدواروں سے بہتر ہے، جس کام کے لیے یہ انتخابات ہو رہے ہیں، اس حقیقت کو سامنے رکھیں کہ آپ کے ووٹ اور شہادت کے ذریعہ جو نمائندگی سکسی اسمبلی میں پہنچے گا، وہ اس سلسلے میں جتنے اچھے یا برے اقدامات کرے گا، ان کی ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوگی، آپ بھی اس کے ثواب یا عذاب میں شریک ہوں گے۔"

ملک انس اعوان
malikanasawan11@gmail.com


بھارت کو 15 ہزار نئے شہری کیسے ملے؟

1 comments
موجودہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک بہت بڑی دلدلی  پٹی  ہے جو زمانہ قدیم سے ہی متنازعہ شمار کی جاتی رہی ہے۔ یہ ہے رنگ پور اور کوچ بیہار کا درمیانی علاقہ جو پہلے دو ریاستوں کی صورت میں اپنا وجود قائم رکھے ہوئے تھا۔ مغلوں کی برصغیر میں آمد کے بعد سن 1713 میں مغل اور ریاست بیہار کے راجہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا گیا لیکن دونوں فریقین حد بندی کرنے میں ناکام رہے، یہ جان بوجھ کر کی گئی یا اس میں کسی کا مفاد تھا اس بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں لگایا جا سکا۔کیونکہ یہ علاقہ شدید دلدلی اور دشوار گزار ہے چناچہ اس لیے مغل اس جانب زیادہ دلچسپی نہ رکھتے تھے۔بعد ازاں 1947 میں رنگپور مشرقی پاکستان میں شامل ہو گیا اور باقی بیہار بھارت میں لیکن درمیانی علاقہ زمانہ قدیم کی طرح متنازعہ ہی رہا جس کو حل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش 1958 میں بھارت کی جانب سے وزیر اعظم  جواہر لال نہرو اور پاکستان کی جانب سے اس وقت کے وزیر اعظم  فیروز خان
نون نے کی جو بعد میں بھارتی سپریم کورٹ نے ناقابل قبول قرار دے دی اور 1971 کے بعد  بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد  بھی یہ معاملہ جوں کا توں قائم رہا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ بیہار کے ساتھ ہی آسام کا علاقہ ہے جہاں چند شدت پسند تنظیمیں بھارتی حکومت کو کڑا وقت دے رہی ہیں اور بھارت کے لیے روز بروز مشکلات پیدا کر رہی ہیں ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہی متنازعہ علاقہ تھا جہاں سے اسلحہ اور منشایات دونوں ممالک سے آر پار بھیجی جاتی تھیں ۔ اس حوالے سے دونوں مملک کی حکومتیں نہایت سنجیدگی سے کام کرتی رہیں ۔جبکہ اس علاقے کے رہائیشی پچھلے 68 سالوں سے کسی بھی ملک کی شہریت حاصل کرنے سے قاصر تھے۔ اس علاقے میں افراد کی کل تعداد 50 ہزار کے قریب ہے۔ جس کو  جون 2015 میں دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ بھارتی شہریت حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 15 ہزار کے قریب ہے جبکہ  بنگلہ دیشی شہریت حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 36 ہزار ہے.   بھارت ، بنگلہ دیش بارڈر کی کُل لمبائی 4100 کلومیٹر ہے جبکہ جدید تقسیم سے پہلے 111 بھارتی ملکیتی خطے بنگلہ دیش کے پاس تھے اور 51 بنگالہ دیشی ملکیتی خطے بھارت کے پاس تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان 54 دریا بہتے ہیں جس میں سے قابل ذکر ٹیسٹا دریا ہے جو اسی علاقے میں ہے جس کے پانی کی تقسیم اب تک نہیں ہو سکی۔ 
اس تقسیم کے بعد ایسے علاقے جو بنگلہ دیش سے بھارت کے حصے میں چلے گئے وہاں خوب جشن منایا گیا ، کیک کاٹے گئے اور تقریبات کا انعقاد کیا گا اور جگہ جگہ یہ لکھا گیا ہے "بالآخر 68 سال بعد آزادی مل ہی گئی" یہ تما م تقریبات بحیثیت ایک پاکستانی کے کسی خنجر سے کم نہیں ہیں اور یہ ہمارے ماضی کے حکمرانوں کی مشرقی پاکستان میں کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
دوسری جانب سری لنکا کی حکومت چائنہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے اور وہ آسام کے علاقے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے مودی کے اسی سال ڈھاکہ کے دورے کے دوران اک معاملے کو حل کر دیا۔
دنیا اپنے مفادات کے لئے دوسروں کی زمین میں دلچسپی لے رہی ہے اور ایک ہم ہیں کہ جو پہلے سے ہے اس کا بھی حشر کیے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔!!!

تحریر
ملک انس اعوان 
ٹویٹر:AnasInqilabi