پرائی جنگ کا فائدہ

2 comments
امریکہ نے طالبان کو دہشت گرد کہنے سے انکار کر دیا۔۔
ہائے کون نہ مر مٹے اس سادگی پر۔خیرمیں اس وقت طالبان کے حق میں یا اختلاف میں کچھ نہیں بولوں گا۔لیکن اپنے ملک کی "اسٹبلشمنٹ" سے پوچھنا چاہوں گا کہ اسی "آمریکہ" کے کہنے پر آپ نے طالبان کو تخلیق کیاپھر انہیں  مجاہدین سے دہشت گرد قرار دیا۔آپ سے امریکہ نے اپنی ہی جنگ آپ ہی کے ملک میں آپ ہی کے لوگوں کے ساتھ لڑی۔ان کے کہنے پر سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کہتے رہے۔ملک میں NGO'sکے نام پر غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا قوتوں کو پاکستان کا safe way فراہم کیا گیا۔ادھر سے 4 عدد استعمال شدہ F-16کے بدلے مسجد پر چڑھ دوڑے۔اپنے ملک سے ہی ماں بہنوں اور بیٹوں کو ڈالرز کے بدلے فروخت کیا گیا۔مسلکی فرقے بازی کو ہوا دی گئی۔اپنی دھاک بٹھانے کے لیے 12 مئی جیسے حادثات کو پیدا کیا گیا۔ملک کے جنگی ہوائی اڈے کرائے پر دیے گئے۔اب تک پاکستان میں 367 ڈرون اٹیکس ہو چکے ہیں جس میں  کُل3359 مارے گئے ۔جس میں 45 القائدہ اور کم و بیش221  طالبان شامل تھے۔اس کے علاوہ جتنے بھی لوگ ڈرون اٹیکس مین مارے گئے وہ سب بے قصور سویلین افراد تھےجن کا دونوں طرف سے کوئی تعلق نہ تھا۔
اب یہاں سوال اٹھتا ہے کہ جس کے کہنے پر ہم War-ON-Terrorکے فرنٹ لائین اتحادی بنے انہون نے خود ہی صورت حال دیکھتے ہوئے root causeکو deny کر دیا.صرف 2009 میں ہی دہشت گردی کا شکار بننے والے پاکستانیوں کی تعداد 3021 ہے ۔اور اب تک ہم اس پرائی لڑائی میں جو جانی نقصان اُٹھا چکے ہیں وہ نیچے درج ہے۔

یاد رکیے کہ اس میں دہشت گردوں کے جانی نقصان کا اندازہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہے۔اب ایک معملولی صحب عقل و شعور کی سمجھ میں بھی  یہ بات آہی جاتی ہے کہ اس جنگ میں ہمارا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔ جبکہ اسی دوران ہماری توجہ اصل ملکی مسائل سے ہٹ کر رہ گئی ہے۔ہمیں چاہیے تھا کہ ہم افغان وار کے بعد اپنی ملکی معشیت پر پھرپور توجہ دینے،بیرونی سرمایاکاری کو فروغ دیتے،ہمسایہ ممالک کے معدنی زخائر پر نگاہ رکھتے کیونکہ خام مال کے لیے چین کو پاکستان سے زیادہ اور کوئی موزوں ملک نہیں مل سکتا۔چین کے لیے پاکستان یورپ و عرب ریاستوں کے لیے سب سے آسان Gate wayہے ۔اگر اس دور میں ڈیم بنائے جاتے تو اس وقت ہمیں بجلی کی شارٹیج کا سامنہ نہیں کرنا پڑتا۔مشرف کا شوق سپاہ گری اس قوم کو بہت مہنگا پڑا ہے،اس سے پہلے بھی کئی بار یہ محترم اپنی سپاہ گری کا جلوہ دکھا چکے ہیں۔مثام کے طور پر کارگل حملہ جس میں سویلین قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر فوج کشی کر دی گئی ،اس وقت پاکستان میں صورت حال کچھ یوں تھی کہ ملک معاشی طور پر تاریخ کے نہایت نازک دور سے گزر رہا تھا۔لیکن فوجی صاحب اپنا شوق پورا کر کے رہے جس کے باعث پاک فوج کو کارگل  کی چوٹی پر رسد کا سلسلہ روک دیا گیا۔بھارت نے فضائی بمباری کر کے سب مجاہدین کو شہید کر دیا۔آخر کار UNکو درمیان میں لانا پڑا اور پاک فوج کو وہاں سرنڈر کرنا پڑا اور پھر بھرتی فوج کی موجودگی میں وہاں سے شہداء کی لاشیں اُٹھائی گئیں جبکہ پس منظر میں بھارتی فوجی مسکرا رہے ہوتے ہیں یہ مسکراہٹ بالکل ویسی ہی مسکراہٹ ہے جو جنرل نیازی کی بیلٹ اُتارنے پر ڈھاکہ کے سٹیڈیم میں جنرل ٹکا خان کے چہرے پر تاریخ نے دیکھی تھی۔
آج مجھے رہ رہ کر قائد اعظم محمد علی جناح کا قول یاد آرہا ہے۔
“not to forget that the armed forces were the servants of the people and you do not make national policy; it is we, the civilians, who decide these issues and it is your duty to carry out these tasks with which you are entrusted.”

پاکستان کا ہر فرد خوب جانتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ و داخلہ پالیسی کون ترتیب دے رہا ہے،اور فلحال وزارت خارجہ و داخلہ کے فرائض کون ادا کر رہا ہے۔اور کون ریٹایرمنٹ کے بعد کسی دوسرے عرب  ملک میں امریکی فوج کی قائم کردہ فوجی تنصیبات میں پیشہ ورانہ فرائض کی بجا آوری میں پیش پیش ہیں۔اس کے بعد بھی اگر ہم سیاسی پارٹیوں کو ملک کی تمام تر صورت حال کا ذمہ دار ٹھرائیں تو سلام ہے آپکی سادگی پر۔
تحریر
محمد انس اعوان
twitter:@AnasHizbi

روداد کھوڑ- سفرنامہ

1 comments
پچھلے دو دن سے ناظم مقام وقاص چغتائی صاحب متواتر مسیج فرما رہے تھے کہ 2 عدد کام ہیں تیار رہیے آپ کو کہیں جانا پڑ سکتا ہے۔لیکن ہم بار بار ٹالتے رہے۔ایک روز  زرا سختی سے کہا تو ہم جان گئے کہ اب چھٹکاراممکن نہیں ہے چناچہ انہیں جواب دیا کہ "ںاظم صاحب حکم کریں بندہ نظم کا پابند ہے"۔
ناظم صاحب نے فرمایا کہ جناب یہ دو راستے ہیں اس میں سے ایک کو منتخب فرما لیجیے۔دونوں ہی سفر تھے۔اب جو ہم نے ان دونوں راستوں کا موازنہ کیا تو ان میں سے ایک مجھے "پھانسی" اور دوسرا "عمر قید " محسوس ہو رہا تھا۔چناچہ ہم نے "عمر قید "کو "پھانسی" پر ترجیع دی اور حامی بھر لی۔
اب صورت حال یہ تھی کہ مقام کی موٹر سائیکل پر جانا تھا جبکہ اس موٹر سائیکل کے حوالے سے میری ناقص رائے کچھ یوں ہے کہ محترمہ گرم طبعیت کی مالک ہیں،زرا سی اونچائی دیکھ کر بلبلانے لگتی ہیں ،سوائے ناظم مقام کے کسی اور کی موجودگی کو برداشت نہیں کرتیں۔ اور ضدی اتنی کہ جہاں دل کرے بیچ سڑک کے احتجاج ریکارڈ کروانے بیٹھ جاتیں ہیں۔
ہم بھی کوئی اتنے مشاق ڈرائیور نہیں ہیں ہمیشہ یہی کہہ کر بائک کی پچھلی سیٹ پر قبضہ کر لیتے ہیں کہ ہمیں صحیح چلانی نہیں آتی ،لیکن اب کی بار صورت حال کچھ یوں تھی کہ جو بھائی میرے ہمراہ تھے وہ سرے سے ہی بائک چلانا نہیں جانتے تھے۔چناچہ یہ بھاری ذمہ داری مجھ جیسے غیر ذمہ دار کے سر  تھی۔
گلی جاگیر کے قریب ایک پہاڑی
مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ نے اٹک سے فتح جنگ جانا ہے جس کا کُل فاصلہ قریباً40 کلومیٹر بنتا ہے۔اللہ کا نام لے کر بغیر دستانے پہنےاٹک سے روانہ ہوئے۔رستے میں ٹرکوں کے پیچھے کندہ و تحریر شدہ اشعار سفر کا مزہ دوبالا کر دیتے ہیں لیکن ایک بار تو شعر پڑھ کر میں اس کی شان نزولی کے تصور میں اس قدر گم ہوا ہے کہ اگر پیچھے بیٹھے ہوئے منیر بھائی اشارہ نہ کرتے تو میں یہ تحریر نہ لکھ پاتا بلکہ  جمعیت کے شہداء میں ایک اور کا اضافہ ہو جاتا،ہماری یاد میں محافل منعقد کی جارہی ہوتیں اور نئے کارکنان کو ہماری مثالیں پش کی جاتیں کہ آپ کے ساتھی فرض کی ادائیگی میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر پہاڑوں میں رگڑیں کھاتے ہوئے شہید ہوگئے ۔لیکن ہماری بروقت کاروائی نے ہمیں کھائی میں جانے سے بچا لیا۔
درمیان میں ملٹری ایریا سوری !!! "اسٹبلش منٹ ایریا" آتا ہے جہاں تصویر بنانا اور اسلحہ لے جانا سخت منع ہے،چیک پوسٹ پر ہمارا شناختی کارڈ چیک کیا جا رہا تو ہم دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ بیٹا فیس بک پر تو بڑا مفکر بنا پھرتا ہے اور اب کیسے بندے کے پتر کی طرح ،بڑی فرمان برداری سے اپنی شناخت کی تصدیق کروا رہے ہو۔

فتح جنگ پہنچ کر ہم پر یہ انکشاف کیا گیا کہ اس سے آگے "کھوڑ کمپنی " جانا ہے جو فتح جنگ سے بھی 40 کلومیڑآگے ہے تو ہمارے ہاتھ کے ہی نہیں بلکہ موٹر سائیکل کے بھی طوطے اُڑ گئے۔

پھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیال

ڈھلتی شام کے ساتھ ساتھ سردی کی شدت میں بھی شدید اضافہ ہو رہا تھا،لیکن اس سردی و بے سروسامانی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہم دوبارہ سفر پر روانہ ہو گئے۔اس وقت ہماری صورت حال پنجرے میں بند ایک مجبور و بے کس طوطے کی سی تھی،جسے زبردستی "میاں مٹھو موٹر سائیکل چلانی ہے؟" بولنے پر مجبور کیا جا رہا ہوں۔شاعر کو معذرت کے ساتھ

دشت تو دشت ہیں صحرا بھی نہ چھوڑے ہم نے
اٹک کی وادیوں میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

اللہ اللہ کر کے ہم جامعہ مسجد  و درسہ عمر فاروق  پہنچے،اس مسجد کا افتتاح قاضی حسین احمد کے دست مبارک سے ہوا تھا۔ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت مسجد ہے۔
مسجد عمر
مسجد عمر کا اندرونی منظر
 امام مسجد نے استقبال کیا اور ہمیں مسجد سے متصل جماعت اسلامی کے خوبصورت دفتر میں بٹھا دیا۔کچھ ہی دیر میں مغرب کی نماز ادا کی۔ اور کھوڑ کےاراکین جماعت کے درس قرآن میں شرکت کی جس کے بعد ہمیں کھل کر جماعت کے اراکین سے گفتگو کا موقعہ ملا۔
دسترخوان لگایا گیا۔مجھے آنہایت ہی خوشگرار احساس نے آن گھیرا جب سب اراکین اپنے اپنے گھروں سے لایا ہوا کھانا دسترخوان پہ رکھ دیا۔یہ وہ خوبصورت اور منفرد روایت ہے جو اب شازونادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔سب اراکین کی آپس میں محبت اور اخلاص دیدنی تھا۔کھانے کے درمیان امام ابو حنیفہ (رح) اور امام یوسف(رح) کے دلچسپ واقعات سننے کو ملے۔
کھانے کے بعد جب ہم نے اجازت چاہی تو جماعت کے ایک بزرگ رکن حسین صاحب نے ہمیں روک لیا اور جانے نہ دیا۔وہیں پر ہمارے بستر لگا دیے گئے۔عشاء کی نماز کے بعد مدرسے کے بچے ہمارے کمرے میں آن وارد ہوئے۔ان سے خوب گپ شپ رہی۔تمام بچوں سے حمد،نعت،اشعار اور تقاریر سنیں،سب بچوں کی حوصلہ افزائی کی،اسی دوران منیر بھائی نے "انسانی زندگی میں مقصدیت" کے عنوان پر اپنے مخصوص دھیمے اور علمی انداز میں درس دیا۔
مدرسے کے دو بچے نہایت شرارتی تھے ان دونوں بھائیوں کا تعلق حقیقی طور پہ تو چکوال سے تھا لیکن طبعیت کے اعتبار سے فیصل آبادی لگتے تھے۔
رات کو اساتزہ کی جگہ بیٹھ کر اپنا شوق استادی بھی خوب پورا کیا۔
شوق استادی کو پورا کرتے ہوئے
صبح نماز فجر سے لیے منیر بھائی نے ہی اُٹھایا کیونکہ ہم سوتے ہی تب ہیں جب فجر کی آزان کو بس 40 منٹ رہ چکے ہوتے ہیں۔نماز کے بعد جب واپسی کے لیے اجازت چاہی تو وہی رکن جماعت حسین صاحب نے کہا کہ آپ بس میرا 10 منٹ انتظار فرامائیں میں ابھی آتا ہوں ۔ہم بیٹھ گئے کچھ ہی دیر میں وہ ناشتے کا سامان لیے ہمارے سامنے تھے ۔حلانکہ وہ نماز پڑھنے کے لیے بہت دور سے مسجد میں آتے ہیں لیکن ہمارے لیے وہ اس بڑھاپے میں دوبارہ اپنے گھر گئے اور وہاں سے ہمارے لیے ناشتہ تیار کر کے لائے۔ناشتے مین ان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ
"انس میاں آج جس مقام پر تم کھڑے ہو اور جس محبت سے تمہاری خاطر تواضع کی جارہی ہے تم اس کے حقدارنہیں یہ صرف اور صرف اسلامی جمعیت طلبہ کا ہی کرشمہ ہے کہ اپنے گھر سے کئی سو کلومیٹر کی دوری ،اجنبیت اور کسی قسم کے بھی تعلق کے نہ ہونے کے باوجود بھی  زراسی بھی اجنبیت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ہمارا آپس کا رشتہ  اقامت دین کی وہ کوشش ہے جو امام العصرسید ابوالاعلی مودودی(رح) کی فکر انگیز تحریروں اور ہمہ جہت تنظیموں بدولت ہم تک پہنچی ہے۔
واپسی پر پھر سے ہم آگے اور منیر بھائی ہمیشہ کی طرح پیچھے ہی بیٹھے ہوئے تھے۔سردی کے مارے ہاتھ کام کرنا چھوڑ گئے تھے چناچہ موٹر سائیکل روک کر انجن کے ساتھ ہاتھ گرم کیے گئے۔اللہ اللہ کرکے قریباً90 کلومیٹر کا سفر طے کر کے اٹک پہنچے تو تھکن کا زرا بھی احساس نہ تھا۔کھوڑ کے اراکین جماعت اسلامی کی گرمجوشی بار بار یاد آرہی تھی۔
اللہ تحریک اسلامی کے کارکنان کی باہمی خلوص و محبت میں اضافہ فرمائے اور ہماری کوششوں کو قبول فرمائے۔
آمین


تحریر:
محمد انس اعوان
Twitter: @AnasHizbi

بنام ایلیاء

0 comments
در اصل حقیقی حیات ہے اس میں
اسی  طور   نجات   ہے   اس    میں
ہم جو چھلکے ہیں تو ٹکرائیں گے ضرور
غم کی موت ہے وفات ہے اس میں
اب تو شکوہ بھی  رہے  گا    تا  دیر
بڑی با تکلف  ثبات ہے اس  میں
یوں ہی شکوہ  نہیں ہے ایلیاء سے
عشق مذہب کی بدعات ہیں اس میں

(محمد انس اعوان)

خیالِ آوارہ

0 comments
بیٹھے بیٹھے ہی خیال آیا کہ زرا تحقیق کی جائے کہ ہم زندہ بھی ہیں یا نہیں؟
جی ہاں سانس چل رہی ہے،دل دھڑک رہا ہے،آنکھیں منظر دیکھا رہی ہیں،کان آوازیں سُنا رہے ہیں ،درد ہو یا خوشی محسوس ہو رہی ہے،دن اور رات ایک دوسرے میں تبدیل ہو رہے ہیں،دریا کی لہریں ساحل سے ٹکرا کر واپس آ رہی ہیں تو گویا کہ ہم زندہ ہیں۔لیکن ایسے تو سب لوگ زندہ رہتے ہیں۔کتنے ہی اس دنیا میں آتے وقت گزارتے اور چلے جاتے ہیں۔اور وہ دریا کی لہریں ان کا کیا ہے وہ تو ایک عرصے سے ایسے ہی ساحل کے ساتھ سر پٹخ کر واپس اپنے مسکن کو لوٹ جاتیں ہیں ۔
تو کیا ہم بھی کسی ایسی ہی گمنام سی لہر کا حصہ ہیں جو ایک جگہ پیدا ہوئی اور بڑھتے بڑھتے ایک لہر کی صورت اختیار کر گئی اور پھر ساحل پر پہنچ کر دم توڑ گئی،کہانی ختم!
نہین جناب ایک تو ہم انسان بہت Materialistic ہو چکے ہیں ۔ہمارا زہن وہ سب کچھ نہیں سوچ سکتا جو اس مادہ پرستی کے خلاف ہو۔یا یوں کہیے کہ ایک عرصے سے انسان نے مادیت پسندی کو اپنا لیا ہے۔آپ کے آپس کے تعلق ،رشتے یہاں تک ایسی چیزیں جن پر خرچ بھی نہیں آتا مثلاً ایک عدد مسکراہٹ اور چند رسمی جملے بھی اب اس Materialistic سوچ کا شکار ہو چکے ہیں۔
کبھی کبھی ایسا کیجیے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی ویران جگہ پر ڈیرہ ڈال لیجیے جہاں آپکو کوئی روکنے ٹوکنے والا موجود نہ ہو تو خوب دل کھول کر دل کی بھڑاس نکالیے  اور پھر دل کھود کر ہنسیے۔ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب آپ کے پاس رونے کو اور ہنسنے کو سب کچھ ختم  ہو جائے تو دل میں سکون تلاش کیجیے گا۔اور آئندہ جب دنیا کے سامنا ہو گا تو یقیناً آپ پر سکون اور شاداب نظر آئیں گے۔
وگرنہ وجود تو ختم ہونے کے لئے پیدا کیا جاتا ہے جسے کسی نا کسی دن ختم ہونا ہوتاہے لیکن اچھائی ہمیشہ قائم رہتی ہے ،جاری رہتی ہے اور پھلتی پھولتی رہتی ہے۔بلا شبہ اونچائی کی جانب جانا مشکل ہوتا ہے اور اس مین زیادہ طاقت صرف ہوتی ہے لیکن وہیں ہی کسی راہ میں منزل پڑی ہوتی ہے،جہاں جسم کبھی بھی نہیں پہنچ پاتے لیکن روح پہنچ سکتی ہے۔

تحریر
ملک انس اعوان






جھوٹ ہیں سب

0 comments
گھبرائیے مت صبر ہے خامشی اب کے
شام،زہر،خواب،امرت جھوٹ ہیں سب
بستر مخمل و سنجاب و گل و گلاب
ہزار خوشبومگر نہ نیند جھوٹ ہیں سب
مئے خانہ و جام و ثواب وزلفِ برہم
بغیر لطف و کرامت جھوٹ ہیں سب
کوئے یار،سنگِ در خاک ِبے باکم
بغیر ہجر ووبال جھوٹ ہیں سب
---
ملک انس اعوان

ہم غالب کے مقلد ہوئے

0 comments
بچپن میں ہم  غالب کے مقلد ہوئے اور کچھ ہی عرصے میں جون ایلیاء کو امام مان کر بوڑھے ہو گئے۔

یہ ایک فقرہ ہی نہیں بلکہ ایک پوری کہانی ہے۔ چلیے آج اپنی آپ بیتی ہی سناتے ہیں۔اس بندہ نا چیز کو بچپن سے ہی شعر و شاعری سے نفرت تھی اور شدید قسم کی نفرت تھی۔لیکن لٹریچر اور کتابوں سے تعلق ہر صورت میں قائم رہا۔پھر نثر کے کنارے پر کھڑے ہو کر شاعری کا جو ذائقہ چکھا تو ہوش ٹھکانے آ گئے اور اسے خوش قسمتی کہیے کہ بد قسمتی کہ ہمارے ہاتھ جو پہلے شاعر لگے وہ تھےاسد اللہ خان غالبؔ۔پھر کیا تھا
                               دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی                                   
                               دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی​                                                                                    


ایسی نظر دل میں اتری کہ آؤ دیکھا نہ تاؤ غالب کے مقلد ہو بیٹھے۔غالبؔ کی مقلدیت نے دنیا کو دیکھنے کا انداز بدل دیا ہے،مجھ جیسی کمزور سی چیز کو روایت شکن اور حقیقت پسند بنا دیا۔حلانکہ  روایت شکن اکثر حقیقت پسند نہیں ہوا کرتے۔پھر پڑھتے پڑھتے ایک روز جون ایلیاء کے چند اشعارنظر سے گزرے تو بے ساختگی ، بے باکی و نئی طرز شاعری نے بہت متاثر کیا۔جون ایلیاء کو پڑھا تو گویا یوں معلوم ہوا کہ جیسے غالب کی ہی کوئی جدید شکل ہے۔
دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جہاں غالب میں "وہ"اور "اس" کا رنگ ملتا وہیں جون میں "میں" اور "اندر" کا رنگ نظر آ تا ہے ۔اسے کچھ اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ غالب اپنی انا کے باعث اپنے آ پ کو پوشیدہ رکھتے جبکے جون اسی انا کو مار کر دنیا کے سامنے اپنے آپ کو ظاہر کر دیتے ہیں۔یوں اندر اور باہر کا ایک حسین امتزاج تشکیل پاتا ہے جو ہر کسی کو متاثر کرتا ہے اور لوگ بے اختیار اس قبیلہ وحشت میں داخل ہوئے جاتے ہیں ۔میرے بہت سے دوست اسی فتنے کا شکار ہیں۔لیکن کیا کیجے یہ مرض ہی ایسا ہے کہ "سر جائے ہے تو جائے ہے"۔
تحریر
ملک انس اعوان

گاؤں سے کچھ لوگ نکل آئے ہیں

0 comments
گاؤں سے کچھ لوگ نکل آئے ہیں
فقیر ان شہر کی وبا پھیلی ہے
ہزاروں حسرتیں تھامے
پختہ سڑک کی جانب
دھویں کے شہر کی جانب
کڑے اک پہرکی جانب
کچھ مال و زر اور دولت
ہوس آرزو لے کر
سنا ہے خواب کچھ یوں ہیں
مکاں پکا کرانا ہے
بڑی دل کی خواہش ہے
ننھے نے سکول جانا ہے
ڈھنگ کا کوئی اچھا سا
مقام اس کو دلانا ہے
جہاں سے سرد ہواؤں کے
جھونکے آ دھمکتے ہیں
اس کمرے کی کھڑکی پہ
کوئی پردہ لگانا ہے
پرانی چارپائی پر
پڑے مردہ سے لاشوں کا
ان شفقت کے دھاروں کا
کوئی علاج کرانا ہے
پتا ہے پچھلے مہینے میں
گاؤں والی دکانوں سے
راشن جو خریدا تھا
وہ سب ادھار چکانا ہے
پانی صاف پینا ہے
دور سے ہرگز نہ لانا ہے
گھر کے ایک کونے پر
کوئی نلکا لگانا ہے
اب کی بار یوں ہوگا
کہ جب کہ عید آئے گی
سبھی بچوں اور خود کو

کوئی لباس اچھا دلانا ہے


-----
ملک انس اعوان
-----

بارش اچھی ہو تی یا بری؟

0 comments
بارش اچھی ہو تی یا بری اس پر مخلتف رائے ہو سکتیں ہیں ۔خود ہی اندازہ لگا لیجیے کہ دنیا میں اربوں کروڑوں افراد بستے ہیں آپ سب سے اگر فرداً فرداً بھی پوچھ لیجیے تو سب کا جوب ایک دوسرے سے مختلف ہوگا۔ کسی بھی چیز کے اچھے یا برے لگنے کا تعلق دل سے ہوتا ہے ۔اگر اندر کا موسم اچھا ہو تو چاہے بارش ہو یا دھوپ دونوں بھلی لگتی ہیں۔اب بادل کو ہی دیکھ لیجئے ہم کب سے انتظار میں ہیں کہ کب بارش رکے اور ہم دائیں بائیں چکر ہی لگا آئیں۔بارش سے تو ویسے بھی ہماری جان جاتی ہے۔اند کا موسم بھی ایک عرصے سے ایک سا ہی ہے ۔باہر بھی بارش اور اندر بھی بارش، نتیجہ یہ ہے کہ ہر طرف جل تھل ہے۔ایک بات یہ بھی ہے کہ اس شہر کی مٹی سے وہ خوشبو نہیں آتی جو پنجاب کی پیاسی زمیں کا خاصہ ہے۔یا یوں بھی ممکن ہے کہ خوشبو آتی ہو اور ہمیں محسوس نہ ہوتی ہو ۔
بس کام کی بات تو یہ ہے کہ موسم ہو یا مزاج جب ٹھہر جاتے ہیں تو تکلیف دیتے ہیں۔حالات کی مناسبت سے کچھ تبدیلیاں ضرور لانی چاہئیں۔۔۔
سمجھنے والے سمجھ گئے ہوں گے


مثلاً کوئی نہیں میرے جیسا

0 comments
گلاب انجمن تیری خواہش پر
لہو پہ ناز ہے امتیاز ہے مجھکو
بھرے زندان میں اجنبیت سی
 سوچتا کیوں نہیں کوئی میرے جیسا
زرد گھیرے نے جسے  ٹانک رکھا ہے
لب بام کوئی  نہیں میرے جیسا
 کیا ہے یوں اعتراف جرم کہ
مجرم  کوئی نہیں میرے جیسا
زہر شرط تھی حق گوئی کا
زندہ  کوئی نہیں میرے جیسا
مجھکو فکر ہے فکرِدانش کی
فکر مند کوئی نہیں میرے جیسا
منافع ہجر پہ ٹال رکھا ہے
تاجر کوئی نہیں میرے جیسا
مین تو خود کی مثال آپ بنتا ہوں
 مثلاً کوئی نہیں میرے جیسا


-----------------
ملک انس اعوان




دل بڑا ہونا چاہیے

0 comments
میرے ایک دوست میرے سامنے بیٹھے تھے اور شکوہ فرما رہے تھے کہ جناب میں لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتا ہوں تو لوگ میرے ساتھ صحیح سلوک نہیں کرتے شاید وہ اس کو میری کمزوری سمجھتے ہیں۔اور اگر میں برا کروں تب بھی ان کا رویہ ایک سا ہی ہوتا ہے تو کیا اچھا کرنا اور برا کرنا برابر ہے؟
مجھے یہ بات قدرے مضحکہ خیز بھی لگی اور قابل توجہ بھی،دیکھیے دنیا میں آپ نے چاہتے ہوئے اور نہ چاہتے ہوئے دونوں صورتوں میں رہنا ہے۔لوگوں سے تعلقات بھی رکھنے ہیں اور انہیں نبھانا بھی ہے۔جب اپنی مرضی سے دنیا میں آئے نہیں، نہ اپنی مرضی سے جانا ہے تو پھر شکوہ کیسا اور شکایت کیسی؟ دل بڑا رکھیے ۔ آپ کو کسی سے مسکرا کر ملنے سے کبھی بھی نقصان نہیں ہوتا، چاہے کتنی ہی دشمنی کیوں نہ ہو جب لوگوں کے سامنے آمنا سامنا ہو تو مسکرا کر ملیے ۔رہی بات صلے کی تو انسان سے کس بنیاد پر صلے کی امید رکھی جائے،وہ تو خود فطرت کا پابند ہے اور فطرت تو کبھی بدلتی ہی نہیں۔انسان کے پاس کُل ملا کے صرف وہی کچھ ہے جس کا اختیار اللہ تعالی کی ذات نے اسے دیا ہے۔اور یہ رب کی  حکمت ہے کہ اس نے یہ اختیار بھی سبھی کو ایک سا نہیں دیا۔کسی کو کم اور کسی کو زیادہ چناچہ اپنے اختیار میں آنے والے چیزوں پر نظر ڈالیے اور غور کیجیے کہ میں خود جس چیز کے اختیار کا مالک ہوں اس کو کیسے،کب اور کہاں تقسیم کرنا ہے۔آپ کے پاس خوشی ہے تو صد شکر بانٹ دیجیے بدلے میں اس کا صلہ صرف اپنے رب سے مانگیں۔کیونکہ انسان کے ہاتھ میں تو کچھ بھی نہیں ہے۔دینا اس کی صفت ہے اور مانگنا بندے کی۔
میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب ہم کسی Public Postپر ہوتے ہیں تو ہم اصل میں Public Propertyہوتے ہیں۔ہمیں کئی بار اپنی ذاتی خواہشات کو پس پشت رکھ کر لوگوں سے  قائم شدہ توقعات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔کبھی کبھی شدید خواہش کے باوجود دوسرون کو ترجیح دینا پڑتی ہے۔اس سے آپ کی ذات کبھی چھوٹی نہیں ہوتی بلکہ آپکے قد میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔جب آپ سٹیج پر تقریر کرنے کھڑے ہوتے ہیں تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ میرے سامنے کون لوگ ہیں اور ان پر کس قسم کا مواد اثر کرے گا۔
مجھے ایک ریلی کا منظر یاد ہے کہ سب لوگ مشتعل تھے اور پولیس نے رستہ روک رکھا تھا۔میں کھڑا ہوااور اپنے گرد لوگوں کو دیکھا کہ یہ لوگ مجھ سے کیا چاہ رہے ہیں،مجھے انکی آنکھوں میں جوش صاف نظر آ رہا تھا۔میں نے اپنی امن پسند طبعیت کے بر عکس انتہائی سخت الفاظ میں تقریر شروع کی اور دو منٹ کے بعد سب شرکاء پولیس کے حصار کو توڑتے ہوئے دوسری جانب کھڑے تھے۔
میں جیسے ہی نیچے آیا سب لوگ بڑی عزت کی نگاہ سے مجھے دیکھ رہے تھے۔اگلے ہی پڑاؤ پر میں نے اپنے پہلے والے تاثر کو قائم رکھتے ہوئے ریلی کو روک لیا اور لوگ رک بھی گئے۔باقی افراد نے بھی تقاریر کیں اور بغیر کسی ہنگامے اور فساد کے سب لوگ منتشر ہو گئے۔
یہی طریقہ ہے کہ پہلے کچھ لوگوں کی مانیے پھر لوگوں سے اپنی منوا لیجیے۔لیکن بدلے کی توقع صرف اللہ تعالی کی ذات سے۔۔۔۔
آخر ہم میں اور عام لوگوں میں کچھ تو فرق ہونا چایئے۔۔۔

-------------------
تحریر 
ملک انس اعوان

اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا زمانے میں

0 comments
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبرؔنام لیتا ہے خدا کا زمانے میں

اکبر الہ آبادی کا یہ شعر تب کا ہے جب برصغیر میں انگریز شاہی کا راج تھا۔لیکن آج کے دور میں بھی یہ شعر اپنی صداقت کی پوری آب و تاب سے ساتھ وکالات کرتا نظر آتا ہے آج بھی زرا کسی جگہ خدا کا نام لے کر دیکھ لیجیے اور اطمینان  رکھیے کہ جلد ہی آپکا نام بھی "مسنگ پرسنز " میں شامل ہو جائے گا اور آپکے گھر والے زندہ انسان کا ماتم کرتے ہوئے زندگی کاٹ لیں گے۔میں سمجھ نہیں پا رہا کہ اگر پاکستان کو اسلام کے نام پر ہی بنایا جانا تھا تویہاں اسلام کے نفاذ میں آخر یہ رکاوٹ ہے کیا اور اگر معلوم ہو جائے تو یہ رکاوٹ کیونکر ہے؟ایک ہمارے لبرل بھائی جو سرے سے ہی نظریہ پاکستان کی مخالفت کا اعلان کیے ہوئے ہیں۔توہین رسالت ایکٹ کو کالا قانون کہنے والے کی یاد میں شمعیں روشن کرتے ہیں۔مختلف NGOکے نام پر ہمارے ملک کے تعلیمی نظام سے لے کر معاشرتی نظام تک کا تیا پانچہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ان کو نہ تو کوئی غدار وطن کہتا ہے اور نہ ہی سزائیں دی جاتیں ہیں۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پینٹ شرٹ پہنتے ہیں اور چپڑ چپڑ انگریزی بولتے ہیں جو کہ بین الاقوامی امن  کا پاسپورٹ بنا دیا گیا ہے۔یہ مغرب کی چکاچوند زدہ چہرے اب پاکستان کا "برائٹ فیس" کہلایا جانے لگا ہے ۔بات  وہی سی ہے کہ جو اپنے آپ کو پہلے "میراسی" کہلوایا کرتے تھے اب  صدارتی ایوارڈ یافتہ فنکار کہلائے جانے لگے ہیں۔اب دیکھئے یہی کام اگر ایک داڑھی والا شخص کرے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ ایک طوفان بد تمیزی کھڑا کر دیا جاتا ہے۔اور وہ بیچارہ  بذبان  اکبر الہ آبادی  یہی شکوہ کرتا نظر آتا ہے کہ
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
اب تو یہ حالات ہیں کہ کئی مولانا حضرات اب "آہ" کرنے سے بھی کتراتے ہیں،کہ کہیں شہر میں ڈھنڈورا ہی نہ پٹ جائے۔
ویسے یہ انکا بھی علاج ہے یہ سمجھتے ہیں کہ جنرل ایک سے ہوتے ہیں اور ایک ہی طرح Entertainنہیں کرتے ۔ایک دو ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی بنیادی دینی تعلیم میں کمی رہ جاتی ہے جس  سے  وہ ہمیشہ احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں کہ ہم جنرل تو بن گئے لیکن آہ اچھے موسیقار نہ بن سکے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لیے وہ صدارتی لیول پر محافل موسیقی کا انعقاد کرتے ہیں اور خوب عوام کی مغز ماری کرتے ہیں۔اسی بہانے ان میراثیوں کی بھی چاندی ہو جاتی ہے۔اب بھلا ایسے لوگ کیونکر جنرل ریٹائرڈ (------) کو برا کہیں گے۔۔خیر جانے دیجئے آج کل وہ بھی درد دل کا شکار ہیں اور اپنے فارم ہاؤس میں بلڈی سویلین سے دور ایک پر امن ، خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔اب مولوی حضرات کو بھی سوچ لینا چاہیے کہ مسلک کا تڑکہ اب دربار شاہی مین پرانا ہو چکا ہے اگر آپ دوبارہ مارکیٹ میں "in"ہونا چاہتے ہیں تو کسی نئی پروڈکٹ کے ساتھ  نئی پیکنگ لائیں اور یہ بھی یاد رکھیے کہ وہ پرو ڈکٹ   بین الاقوامی منڈی میں بھی قابل قبول ہو۔ارے رکیے اب آپ سوچ رہے ہوں گے ایسا کیسے ممکن ہے تو رکیے آپ کو ایک زندہ مثال پیش کیے دیتا ہوں۔اب MQMکی سابقہ  علماء کمیٹی ہی کو دیکھ لیجئے،نام بے شک بدل گیا لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ "رسی جل گئی پر بل نہ گیا" کے مصداق اپنی گزشتہ روایات پر قائم ہیں ۔ایسی ایسی پروڈکٹ مارکیٹ میں لا رہے ہیں کہ جو شاہ کے لیے بھی  اور شاہ کے شاہ کے لیے بھی قابل قبول ہے۔
پھر نہ کہیے گا کہ بتایا نہیں تھا۔۔۔۔
تحریر 
ملک انس اعوان




شام کی چائے

1 comments
شام کو چائے کی بہت طلب ہو رہی تھی اور خلاف معمول اس دن سردی بھی کچھ زیادہ تھی۔پیدل چلتے ہوئے چوک تک پہنچا رستے کے سب دکانداروں کے چہرے اب یاد ہو چکے ہیں اس لیے اب ان کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ہوٹل کے درمیان میں میری ایک پسندیدہ جگہ ہے جہاں میں اکثر بیٹھتا ہوں جہاں سے ٹی وی صاف دکھائی دیتا ہے۔اور وہی چاچا جی جو ہمیشہ اپنے خاص انداز سے پوچھتے کہ کیا لاؤں تو میں معمول کے مطابق ہاتھ سے اشارہ کر دیتا ہوں کہ ایک چائے لے آئیں۔میں اکثر شام کو آتا ہوں تو ایک اور بھی بوڑھے سے بابا جی کو بھی دیکھتا ہوں جو ہمیشہ خاموشی سے بیٹھے رہتے ہیں ۔میری طبعیت  میں ویسے بھی تجسس بہت زیادہ ہے چناچہ آج ٹھان لی کہ آج ان بابا جی کا انٹرویو لیتے ہیں۔
اتنے میں چائے بھی آچکی تھی چناچہ اپنی چائے اُٹھائی اور بابا جی کے پاس جا بیٹھا۔سلام کیا تو بڑا روکھا سا جواب دے کر آنکھیں دوسری جانب پھیر لیں۔میں نے تمہید باندھی کہ میں اکثر یہاں اکیلا یا دوستوں کے ہمراہ آتا ہوں اور آپ کو دیکھتا ہوں۔لیکن جواب میں پھر وہی خاموشی ۔خیر چند لمحے بعد ہی وہ بابا جی خود ہی بول پرے کہ جی بیٹا آپ اپنے لہجے سے مقامی نہیں لگتے۔میں نے اپنا تعارف کروایااور حسب عادت باتوں میں ڈال کر اصل مدعے تک لے آیا۔
باب جی بتایا کہ وہ ایک سرکاری ملازم تھے۔آج کل فارغ ہیں ،تمام بچوں کی شادی ہو چکی ہے اور وہ اپنے بیٹے کے گھر میں رہتے ہیں۔بیوی کی وفات ہوئے کئی سال بیت چکے ہیں۔میرے مزید کریدنے پر انہوں نے بتایا کہ بیٹا اپنے کاموں میں  مصروف رہتا ہےاور اس کے بچے سکول یا ٹویشن میں ،بہو سے صلح نہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ تلخ ہے لہذا وقت گزارنے کے لیےیہاں آ بیٹھتا ہوں۔بابا جی کا کہنا تھا کہ بیٹا اب وقت بہت بدل چکا ہے نہ پہلی کی سی طاقت و ہمت ہے اور نہ ہی پہلے سے وہ دن،نہ وہ دوست ہیں اور نہ ہی وہ مزاج ۔
ہر 4 جملوں کے بعد  بہت ہی خوبصورت سا شعر یا  مصرعہ بابا جی داغ دیتے جس سے گفتگو کا رنگ ہی بدل جاتا۔خیر ان سے بہت ساری باتیں کیں اور سنُیں پھر وقت کی قلت کے باعث ان سے اجازت چاہی اور کاؤنٹر پرپیسے ادا کرتے وقت ایک خیال آیا کہ میں کتنا خود غرض انسان ہوںکہ فقط اپنی تسکین کے لیے کسی کو اتنا کریدا لیکن پھر یہ بھی خیال آیا کہ چلو اچھا ہو انکے دل کا بوجھ تو کچھ کم ہوا۔
واصف علی واصفؔ سے کسی نے پوچھا تھا کہ دنیا کی زندگی  کیا ہے؟ 
 واصف علی واصف نے فرمایا کہ دنیاکی زندگی کی مثال دو آدمیوں کی طرح ہے ایک رو رہا ہے اور ایک ہنس رہا ہے جب ہنسنے والے سے اس مسکراہٹ کی وجہ پوچھی گئی تو کہنے لگا کہ میں رونے والے کو دیکھ کر ہنس رہا ہوں۔
اور جب رونے والے سے پوچھا گیا کہ تم کیوں رو رہے ہو تو اسکا جواب تھا کہ میں ہنسے والے کو دیکھ کر رو رہا ہوں۔
یہی حال ہے ہم سب لوگوں کا ہمارے ارد گرد کے لوگوں کا جو دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر تسکین محسوس کرتے ہیں اور شاید سمجھتے ہیں کہ دنیا بجی انکی طرح گونگی اور بہری ہے۔لیکن ایسا ہر گز نہیں یہاں ہماری درمیان بہت حساس افراد بھی موجود ہیں جو زرا سی بات کا بھی اثر قبول کرتے ہیں۔اور یہ نصیب والوں کو ہی ملا کرتے ہیں ۔یہ ایسے نگینے ہوتے ہیں کہ اگر انکی نگہداشت نہ کی جائے تو بکھر جاتے ہیں اور بکھرے ہوئے ہیرے کبھی جڑا نہیں کرتے۔
-------

تحریر 
انس اعوان




انتظار سحر

0 comments


خوب سے خوب تر ہے تو
میری آبروئے نظر ہے تو
میری جستجو تو کچھ نہیں
میرا حرف و سخن کا ہنر ہے تو
میں کیسےسب کو خبر کروں
میری چاہتوں کا خُمر ہے تو
مجھے ہر ستم تیرا ہے قبول
میرا آخر مقامِ شکر ہے تو
تمام شب کہ تیرے ہیں تذکرے
میرا انتظار ِ سحر ہے تو

----
ملک انس اعوان
----
----

اعتراف

0 comments
ہم تخلیق تیری ،تیرے جہاں میں ہیں
تمام مُلا و مشائخ تیری اماں میں ہیں
حلقہ یاراں ہے اس زمیں پہ کیا غم
آسماں اور کئی میری نگاہ میں ہیں
فصل گل، لالہ و رنگ و بو  کی مثل
عجیب نالے میری آہ و فغاں  میں ہیں
دام رکھا ہے امیر شہر نے اب کے
سارے باغی میرے مکاں میں ہیں
-----
ملک انس اعوان






میں اس قید کو نہیں مانتا

2 comments
ویسے انسان کے پاس ہے ہی کیا؟ فقط چند سال کی زندگی جس میں  وہ آدھی زندگی کسی کے رحم و کرم پہ ہوتا ہے اور مجبوری کی زندگی گزارتا ہے۔بچہ ہوتا ہے تو چلنے پھرنے بولنے سے قاصر اور جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو پھر انہی مجبوریوں کے پنجرے میں قید کر دیا جاتا ہے۔بے شک زندگی گزر ہی جاتی ہے کیونکہ اِسے گزرنا ہی ہوتا ہے۔عجیب بات ہے انسان کو ایک طے شدہ مقام پر سے ورانہ کر دیا جاتا ہےجبکہ ہر گزرتا لمحہ اور ہر گزرتی سانس کے ساتھ ابد تک کا سفر کم ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ تمام رنگینیاں، موسم ،مزاج،بادل،آسمان،مسکراہٹیں،آنسو یہ سب کچھ اگر دور بیٹھ کر دیکھا جائے تو اپنی حیثیت میں کچھ بھی نہیں۔بس ساری کہانی "ہونے سے نا ہونے"  اور "شروع سے اختتام" تک ہے۔گویا کہ اگر خوشی آ گئی اور چلی گئی تو مطلب کہ ہم زندہ ہیں بالکل اسی طرح اچھے دن آئے اور چلے گئے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم زندہ ہیں۔اگر ایک ہی صورتحال دیکھنے اور محسوس کرنے کو ملے سوچنا چاہیے کہ ہم زندہ بھی ہیں یا نہیں۔
ہم اس دنیا میں آئے یا بھیجے گئے جیسے بھی تھا آنکھ کھلی اور آپ کے سامنے ایک دنیا اپنی تمام تر رنگینیاں لیے ہوئی آپ کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔آپ نے قدم بڑھایا اور روشنی کی اس آبشار میں اپنے آپ کو تر کر لیا۔متجسس انسان اور بھیگتا چلا جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کا رنگ چڑھ جاتا ہے اور اپنا اصل رنگ جو ساتھ لایا تھا کہیں بھول گیا۔بس پھر کہیں احساس پیدا ہوا دنیا سے دور کسی جگہ بیٹھ کر اپنا محاسبہ کیا اور اپنے اوپر چڑھے اس دنیا کے رنگ کو اتارنے لگا۔پر نہیں اترا کیونکہ یہ کوئی گھٹیا قسم کا کپڑا نہیں تمہارا نفس ہے۔جلا ہوا اور بے رنگ۔اور پھر کہیں سے احساس زیاں بھی امڈ ہی آتا ہے۔پھر توبہ کا در بند ہونے تک کا انتظار توبہ کرنا کا حق بھی چھین لیتا ہےلیکن اس سب کے باوجود
میں اس قید کو نہین مانتا۔نہ مجھے یہ احساس و مروت کے پنجرے اچھے لگتے ہیں۔دل چاہتا ہے کہ کسی آزاد بے گھر پرندے کی طرح آسمان میں کود جاؤں ۔ایک ہی جست میں سب کچھ دیکھ لوں اور گر جاؤں ۔کبھی دوبارہ نہ دیکھنے کے لیے ،کبھی دوبارہ نہ اُڑنے کے لیے اور نہ کبھی دوبارہ ہوا سے الجھنے کے لیے۔۔۔۔۔
تحریر 

---------
انس اعوان

ٹوٹکے

0 comments
کہا جاتا ہے کہ زبان معلومات کے تباد لے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے اور پاکستان میں ہر 20 کلومیٹر کے بعد لہجہ تبدیل ہو جاتا ہے۔لیکن
اگر آپ میری طرح وسطی پنجاب سے اٹک آئے ہیں اور یہاں کی مقامی زبان جسے کچھ لوگ سرائیکی کہتے ہیں اور کچھ ہندکو خیر جو بھی ہے سیکھنا چاہتے ہیں تو پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ۔ہم ہیں ناں ۔۔!
چلیں آ پ کو چند ٹوٹکے بتاتے ہیں۔2 ٹوٹکے پیش خدمت ہیں۔

ٹوٹکا نمبر1:

پنجابی کا معیاری لہجہ جسے ماجھی کہا جاتا ہے اور لاہور،شیخوپورہ بالخصوص فیصل آباد کے ملحقہ علاقوں میں بولا جاتا ہے،اس کو دیکھا جائے تو سوائے NOUNS (اسم) کے تمام افعال (Verbs) کے ساتھ "د" کی جگہ "ن" بولا جائے۔
مثلاً
اردو : آپ پڑھتے ہیں
ماجھی : تسی پڑھدے او 
ترمیم شدہ : تسی پڑھنے او

ٹوٹکا نمبر 2:

اٹک میں ایک خاص طریقہ یہ بھی ہے کہ اکثر الفاط بشمول Nouns اور Verbs ہر لفظ جس پر زور دیا جائے اس کے آخری دو حروف میں"پیش" کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔اور الفاظ کو گولائی میں بولا جاتا ہے۔
مثلاً
ماجھی : مَلَک
ترمیم شدہ : مَلُک
م ل ک میں آخری دو حروف کے درمیان پیش لگا دینے سے آواز میں گولائی پیدا ہو گی۔لیکن یہ ٹوٹکا صرف ان الفاظ کے لیے جن کے آخر میں ٹھراؤ ہو۔
ناموں کو آپ اپنی مرضی سے بدل سکتے ہیں ۔۔۔
بدر کو بُدوُر
سرمَد کو سرموُد
احمد کو احمُد
خیر آپ جیسے بھی چاہیں تلفظ کا تیا پانچا کر سکتے ہیں۔۔ہاہاہاہاہا
مزید بہتر بنانے کے لیے گرائیوں ( گاؤں سے تعلق رکھنے والوں) سے رابطہ فرمائیں اور ان کی صحبت اختیار کریں۔


نوٹ:
(تحریر ابھی قابل ترمیم ہے اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔دعاؤں میں یاد رکھیے گا)

-------------------------
تحریر
محمد انس مسعود اعوان




پھر شام کے دھندلکے سائے

0 comments
پھر شام کے دھندلکے سائے
سرد ہواؤں کے درمیاں میں ہوں
اک کتاب
میرے پہلو میں
چند اُڑتے ہوئے خیال
تتلی کی طرح بیٹھ جاتے ہیں
امید کے نکھرے ہوئے پھولوں پر
بوجھل قدموں کی گفتگو سن کر
لاکھ کہنے پہ بھی سمجھ نہیں پاتے
میں جو سوچتا رہتا ہوں
کہہ نہیں پاتا
ڈھنگ سے لکھ  نہیں پاتا
شاید کمی سی ہے مجھ میں
شاید مناسب نہیں لگتا
یہ کہنا کہ میں  کہہ نہیں پاتا
سمجھنے والے سمجھ لیتے ہیں
بات مطلب کی
قصہ مختصر اس شام
قوت گویائی
ختم شُد۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

---------
انس اعوان

اسلام اور چین

0 comments
پچھلے دنوں چین میں مسلمان خواتین پر پابندی عائد کر دی گئی کہ آئیندہ وہ برقعہ نہیں پہن سکیں گی۔اس خبر نے میری توجہ حاصل کی اور دل چاہا کہ اس پر بھی قلم اُٹھا یا جائے تاکے اپنے ہمسایہ ملک میں موجود مسلمانوں کی حالت زار بھی سب کے سامنے واضح ہو سکے۔
اسلام کی آمد سے پہلے ہی چین اور عرب میں ریشم کی تجارت کی غرض سے رابطہ قائم تھا۔چین میں اسلام کی آمد 18-616 صدی عیسویں میں اصحاب رسول ﷺ اللہ ،حضرت سعد ابن ابی وقاص (رض) ،وهاب ابن ابی کبشه اور دیگر صحابہ اکرام (رض) کے ہاتھوں ہوئی۔
حضرت سعد ابن ابی وقاص (رض) ان دس صحابہ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے جنت کی بشارت دی تھی۔آپ کا نام ان 6 شخصیات میں سے بھی تھا جن کے نام خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق (رض) کی شہادت کے بعد خلافت کے لیے تجویز کیے گئے۔
کئی جگہوں پر آپ (رض) کی ایک سے زیادہ بار چین میں آمد ثابت ہے اس دوران آپ کے ساتھ اور بھی صحابہ (رض) شریک سفر رہے۔آپ (رض) نے 651 صدی عیسویں میں حضرت عثمان (رض) کے دور خلافت میں ایک  سرکاری دورے پر شہنشاہ گاؤ زونگ کے ہاں گئے اورCantonکے مقام پر ایک مسجد کا قیام عمل میں لایا گیا۔
اس کے بعد  عرب اور فارسی مسلمان تجارت کے غرض جوق در جوق آ نے لگے اور چین کو اسلام کے بنیادی عقائد سے روشناس کروایا۔انہی تاجر حضرات کے ذریعے اسلام چین کے معاشرے میں سرایت کرتا چلا گیا۔بالکل ایسے ہی جیسے اسلام کی آمد ہند (برصغیر) میں ہوئی ۔
سن 1070 میں چین کے شہنشاہ شن زونگ نے بخارا سے 5300مسلمانوں کو چین میں بلا کر آباد کیا۔انہی مسلمانوں کو موجودہ چینی مسلمانوں کے آبا ؤ اجداد مانا جاتا ہے۔ان کو چین میں آباد کرنے کی بنیادی وجہ تجارت تھی۔چینی عربوں کی تجارتی صلاحیتوں سے خوب واقف تھے اور چاہتے تھے کہ چین بھی اہل عرب کی طرح تجارت میں اپنی اجارہ داری قائم کر سکے ،دوم اس وقت مسلم سلطنت افریقہ تک پہنچ چکی تھی چناچہ چین کے لیے اس کے ساتھ سازگار حالات رکھنا  بھی ایک مجبوری تھی۔
دوسری جانب جب منگول قبائل ایک طاقت کے طور پر سامنے آئے تو انھوں نے بھی  شروع میں مسلمانوں کی بہت مدد کی اور انھیں مالیات اور ٹیکس آفیسرز کی حیثیت سے سینٹرل ایشیائی علاقوں میں تعینات کیا جس سے پورے خطے میں اسلام کی نور پھیلنے لگا لیکن چنگیز خان کی آمد کے بعد یہودیوں اور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔مسلمانوں اور یہودیوں کو سرعام غلام کہا جانے لگا اور حلال گوشت پر پابندی لگا دی گئی ۔مسلمان اپنی عبادات چھپ چھپ کر کرتے اوراپنی پہچان چھپاتے پھرتے۔
مجودہ چین میں مسلمان کُل آبادی کا 2 فیصد ہیں ۔2030 تک ایک اندازے کے مطابق  مسلمانوں کی تعداد 29،949،000 تک پہنچ جائے گی۔آبادی کے تناسب کو کم رکھنے کے لیے حکومت نے دیہی علاقوں میں 4 جبکہ شہری علاقوں میں 1 سے 3  بچوں تک کی اجازت دے رکھی ہے۔
چینی صوبے سیانکیانگ (Xingjiang) میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ دیگر صوبے Gangsu,Ningxiaاور Qnifgaiبھی مسلم اکثریتی علاقے مانے جاتے ہیں۔
اعلی تعلیم کے لیے چینی مسلمانوں کا واحد قریب ترین سہارا انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI) ہے۔جہاں ایک کثیر تعداد حصول علم میں مگن ہے۔
سرخ کتاب کے انقلاب نے جہاں فیکٹریوں اور سڑکوں کا جال بچھا یا وہیں اسلام کو بھی بہت نقصان پہنچایا۔حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ چین میں عورتیں بھی امامت  کرواتی پائی گئیں ہیں۔اسلامی اقدار کی حکومت کی جانب سے حوصلہ  شکنی کا مسلسل سلسلہ جاری ہے ۔جس کے رد عمل میں مسلم علیحدگی پسند تنظیمیں بھی وجود پا رہی ہیں جن سے پورے خطے کا توازن بگر سکتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر پاکستان پر پڑے گا۔
پاکستان کو اب اپنی جغرافیائی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے چین سے اپنے تعلقات کو سیانکیانگ کے مظلوم مسلمانوں کی بحالی سے مشروط کر دینا چاہیے۔اور یہی اس کے لیےسب سے بہترین وقت ہے۔
تحریر
محمد انس مسعود اعوان




کچھ نہیں تو غم حیات ہی صحیح

0 comments


کچھ نہیں تو غم حیات ہی صحیح
کچھ فائدہ ان شب و روز کا اٹھا ئیں ہم 
روبرو آگئے ہیں سوالات کئ
کچھ کہو جو لوگوں کو بتائیں ہم 
عقیدت کہ اب تلک دیکھا نہیں اسے 
وہ کیسا ہے کیا کسی کو سنائیں ہم 
کہاں جلے کہاں راکھ اڑی معلوم نہیں 
تم ہی لادو کہ جو دریا میں بہائیں ہم 
---------
(ملک انس اعوان )


سیکیورٹی اقدامات

12 comments

یہ ہے ہماری مادر علمی یعنی یونیورسٹی وہ بھی کامسیٹس انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اٹک کیمپس۔ہم جو  چھٹیوں کے بعد حسب عادت و معمول خراماں خراماں چلتے ہوئے  دروازے پر  پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سب کچھ ہی غیر معمولی لگ رہا ہے۔3 عدد سیکیورٹی گارڈ جن میں سے ایک عدد مسلحہ تھے جو سینہ بمعہ بندوق تانے کھڑے ہوئے تھے۔اب یہ آپس کی بات ہے کہ بندوق کی حالت اس چیز کی دلیل ہے کہ اب اس کو تان کر کھڑا ہونا ایسا ہی ہے جیسے
"بوڑھی گھوڑی لال لگام"
خیر یہ ایک الگ معاملہ ہے اور توجہ طلب بھی  ۔پھر ہمیں خلاف توقع روکا بھی گیا اور کارڈ کا بغور جائزہ بھی لیا گیا اور تسلی کی گئی کہ حامل کارڈ وہی صاحب ہیں جن کی تصویر کارڈ پر چسپاں ہے۔اس کے بعد جانے دیا گیا ۔لیکن جو طالب علم اپنے ساتھ بیگ وغیرہ لائے تھے ان کے سامان کی بھی تلاشی لی گئی۔آنے جانے والی گاڑیوں کا معائنہ بھی کیا جا رہا تھا۔یوں لگ رہا تھا جیسے ہم یونیورسٹی نہیں بلکے  سینٹرل جیل میں کسی قیدی سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔چلیں دروازے پر تو سیکیورٹی کے انتظامات بہتر ہو گئے لیکن یونیورسٹی کی مغربی جانب کی طویل دیوار پر سوائے خاردار تار کے علاوہ کوئی خاص انتظام دیکھنے میں نہیں آیا ۔حلانکہ اسی جانب سب سے زیادہ توجہ دینی چاہیے تھی کیونکہ وہ علاقہ غیر آباد اور شہر سے ہٹ کر ہے۔

ایک چیز تو میں بھول ہی گیا ،اپنے ہوسٹل (آستانہ عالیہ) میں بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔یہاں ہمارے ایک گارڈ ہیں جن کا نام تصوّر ہے۔ماشاءاللہ انہیں کھڑا ہونے کے لیے بھی کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ویسے بھی صحت کے وزیر لگتے ہیں یا  یوں کہیے کہ صحت کے نام پر جسم کو دھوکا دیا گیا ہے۔جب وہ بندوق لیے کھڑے ہوتے ہیں تو گویا یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بندوق نے بندہ رکھا ہوا ہے۔۔اور جب کندھے پر بندوق ٹانگ کر چلتے ہیں تو خدشہ رہتا ہے کہ اب کہیں یہ محترم اس کے وزن کے نیچے دب ہی نہ  جائیں۔ہماری غیر ماہرانہ رائے کے مطابق یہ بندوق نما چیز بھی اب چلنے کے قابل نہیں ہے لیکن اس کو اگر زور سے مارا جائے تو کسی انسان کا سر ضرور پھاڑاجا سکتا ہے۔اور قوی امکان موجود ہے کہ متعلقہ انسان بے حوش ہو جائے۔ لیکن  تصور بھائی دل کا بہت اچھا اور صاف گو انسان ہے۔

ابھی دوران تحریر ہی  محترم سر انجم خان ہاسٹلز کا دوسرے کرتے ہوئے ہمارے کمرے میں تشریف لائے اور اپنے مخصوص انداز میں ایک اور وعید سنا گئے کہ اب سے ہاسٹل کا گیٹ 8 بجے بند کر دیا جائے گا۔


یعنی اب سے آوارگی بھی بند ویسے بھی سردیوں میں اٹک کی سڑکیں نماز عشاء کے فوراً بعد  مقبوضہ کشمیر کے کرفیو زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہی ہوتیں ہیں۔اس لیے آپ تسلی سے اپنی آواز کے سُریلے پن کا  ٹیسٹ کر سکتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کو سننے کے لیے سامعین کی کثیر تعداد بھی موجود ہوتی ہے ۔مگر ایسے میں احتیاط لازمی ہے۔اگر ایسے سامعین کو چھیڑا جائے تو وہ آپکے پیچھے بھی لگ سکتے ہیں اور اپنے مضبوط دانتوں سے آپ کی ٹانگ بھی کاٹ سکتے ہیں۔

تحریر
محمد انس مسعود اعوان
Twitter:AnasInqilabi