گاؤں سے کچھ لوگ نکل آئے ہیں

0 comments
گاؤں سے کچھ لوگ نکل آئے ہیں
فقیر ان شہر کی وبا پھیلی ہے
ہزاروں حسرتیں تھامے
پختہ سڑک کی جانب
دھویں کے شہر کی جانب
کڑے اک پہرکی جانب
کچھ مال و زر اور دولت
ہوس آرزو لے کر
سنا ہے خواب کچھ یوں ہیں
مکاں پکا کرانا ہے
بڑی دل کی خواہش ہے
ننھے نے سکول جانا ہے
ڈھنگ کا کوئی اچھا سا
مقام اس کو دلانا ہے
جہاں سے سرد ہواؤں کے
جھونکے آ دھمکتے ہیں
اس کمرے کی کھڑکی پہ
کوئی پردہ لگانا ہے
پرانی چارپائی پر
پڑے مردہ سے لاشوں کا
ان شفقت کے دھاروں کا
کوئی علاج کرانا ہے
پتا ہے پچھلے مہینے میں
گاؤں والی دکانوں سے
راشن جو خریدا تھا
وہ سب ادھار چکانا ہے
پانی صاف پینا ہے
دور سے ہرگز نہ لانا ہے
گھر کے ایک کونے پر
کوئی نلکا لگانا ہے
اب کی بار یوں ہوگا
کہ جب کہ عید آئے گی
سبھی بچوں اور خود کو

کوئی لباس اچھا دلانا ہے


-----
ملک انس اعوان
-----

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔