دل بڑا ہونا چاہیے

0 comments
میرے ایک دوست میرے سامنے بیٹھے تھے اور شکوہ فرما رہے تھے کہ جناب میں لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتا ہوں تو لوگ میرے ساتھ صحیح سلوک نہیں کرتے شاید وہ اس کو میری کمزوری سمجھتے ہیں۔اور اگر میں برا کروں تب بھی ان کا رویہ ایک سا ہی ہوتا ہے تو کیا اچھا کرنا اور برا کرنا برابر ہے؟
مجھے یہ بات قدرے مضحکہ خیز بھی لگی اور قابل توجہ بھی،دیکھیے دنیا میں آپ نے چاہتے ہوئے اور نہ چاہتے ہوئے دونوں صورتوں میں رہنا ہے۔لوگوں سے تعلقات بھی رکھنے ہیں اور انہیں نبھانا بھی ہے۔جب اپنی مرضی سے دنیا میں آئے نہیں، نہ اپنی مرضی سے جانا ہے تو پھر شکوہ کیسا اور شکایت کیسی؟ دل بڑا رکھیے ۔ آپ کو کسی سے مسکرا کر ملنے سے کبھی بھی نقصان نہیں ہوتا، چاہے کتنی ہی دشمنی کیوں نہ ہو جب لوگوں کے سامنے آمنا سامنا ہو تو مسکرا کر ملیے ۔رہی بات صلے کی تو انسان سے کس بنیاد پر صلے کی امید رکھی جائے،وہ تو خود فطرت کا پابند ہے اور فطرت تو کبھی بدلتی ہی نہیں۔انسان کے پاس کُل ملا کے صرف وہی کچھ ہے جس کا اختیار اللہ تعالی کی ذات نے اسے دیا ہے۔اور یہ رب کی  حکمت ہے کہ اس نے یہ اختیار بھی سبھی کو ایک سا نہیں دیا۔کسی کو کم اور کسی کو زیادہ چناچہ اپنے اختیار میں آنے والے چیزوں پر نظر ڈالیے اور غور کیجیے کہ میں خود جس چیز کے اختیار کا مالک ہوں اس کو کیسے،کب اور کہاں تقسیم کرنا ہے۔آپ کے پاس خوشی ہے تو صد شکر بانٹ دیجیے بدلے میں اس کا صلہ صرف اپنے رب سے مانگیں۔کیونکہ انسان کے ہاتھ میں تو کچھ بھی نہیں ہے۔دینا اس کی صفت ہے اور مانگنا بندے کی۔
میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب ہم کسی Public Postپر ہوتے ہیں تو ہم اصل میں Public Propertyہوتے ہیں۔ہمیں کئی بار اپنی ذاتی خواہشات کو پس پشت رکھ کر لوگوں سے  قائم شدہ توقعات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔کبھی کبھی شدید خواہش کے باوجود دوسرون کو ترجیح دینا پڑتی ہے۔اس سے آپ کی ذات کبھی چھوٹی نہیں ہوتی بلکہ آپکے قد میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔جب آپ سٹیج پر تقریر کرنے کھڑے ہوتے ہیں تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ میرے سامنے کون لوگ ہیں اور ان پر کس قسم کا مواد اثر کرے گا۔
مجھے ایک ریلی کا منظر یاد ہے کہ سب لوگ مشتعل تھے اور پولیس نے رستہ روک رکھا تھا۔میں کھڑا ہوااور اپنے گرد لوگوں کو دیکھا کہ یہ لوگ مجھ سے کیا چاہ رہے ہیں،مجھے انکی آنکھوں میں جوش صاف نظر آ رہا تھا۔میں نے اپنی امن پسند طبعیت کے بر عکس انتہائی سخت الفاظ میں تقریر شروع کی اور دو منٹ کے بعد سب شرکاء پولیس کے حصار کو توڑتے ہوئے دوسری جانب کھڑے تھے۔
میں جیسے ہی نیچے آیا سب لوگ بڑی عزت کی نگاہ سے مجھے دیکھ رہے تھے۔اگلے ہی پڑاؤ پر میں نے اپنے پہلے والے تاثر کو قائم رکھتے ہوئے ریلی کو روک لیا اور لوگ رک بھی گئے۔باقی افراد نے بھی تقاریر کیں اور بغیر کسی ہنگامے اور فساد کے سب لوگ منتشر ہو گئے۔
یہی طریقہ ہے کہ پہلے کچھ لوگوں کی مانیے پھر لوگوں سے اپنی منوا لیجیے۔لیکن بدلے کی توقع صرف اللہ تعالی کی ذات سے۔۔۔۔
آخر ہم میں اور عام لوگوں میں کچھ تو فرق ہونا چایئے۔۔۔

-------------------
تحریر 
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔