حال

0 comments
دم میں دم رہتانہیں ہے
کسی طور یہ دل بہلتا نہیں ہے
بری لگتیں ہے رونقیں اب تو
اب یہ حد سے بڑھتا نہیں ہے
پڑا رہتا ہے بند کمرے میں
اب یہ باہر نکلتا نہیں ہے
 اپنے غم میں اور گھُلائیں کیا
اب یہ دل تو پگھلتا نہیں ہے
کون روئے گا میرے مرقد پر
میری قبر پہ کوئی ٹھہرتا نہیں ہے

(ملک انس اعوان)


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔