یوں ہوا کہ

0 comments
---------
یوں ہوا کہ ان کی بات کو سہنا پڑا مجھے
لہجے کی نوک جھونک کو سہنا پڑا مجھے
وہ اب بھی تلخ گوئی کی روایت کا تھا قائل
یوں بدل بدل کے بات کو کہنا پڑا مجھے
لفظوں پہ اپنی قوت و قدرت کے باوجود
انکے ہراک سوال پہ رُکنا پڑا مجھے
سن کر میرے جواب وہ گویا تھےلاجواب
 اِدھر اُدھر سے بات کو لانا پڑا مجھے
سب کچھ نہ پوچھیے زرا محسوس کیجیے
یہ نقطہ حساسیت کا سمجھانا پڑا مجھے
ضدی بھی وہ بلا کے زرا خود پسند بھی ہیں
 نازانکی نازکی کا اٹھانا پڑا مجھے


----------
(ملک انس اعوان)


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔