شام کو چائے کی بہت طلب ہو رہی تھی اور خلاف معمول اس دن سردی بھی کچھ زیادہ تھی۔پیدل چلتے ہوئے چوک تک پہنچا رستے کے سب دکانداروں کے چہرے اب یاد ہو چکے ہیں اس لیے اب ان کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ہوٹل کے درمیان میں میری ایک پسندیدہ جگہ ہے جہاں میں اکثر بیٹھتا ہوں جہاں سے ٹی وی صاف دکھائی دیتا ہے۔اور وہی چاچا جی جو ہمیشہ اپنے خاص انداز سے پوچھتے کہ کیا لاؤں تو میں معمول کے مطابق ہاتھ سے اشارہ کر دیتا ہوں کہ ایک چائے لے آئیں۔میں اکثر شام کو آتا ہوں تو ایک اور بھی بوڑھے سے بابا جی کو بھی دیکھتا ہوں جو ہمیشہ خاموشی سے بیٹھے رہتے ہیں ۔میری طبعیت میں ویسے بھی تجسس بہت زیادہ ہے چناچہ آج ٹھان لی کہ آج ان بابا جی کا انٹرویو لیتے ہیں۔
اتنے میں چائے بھی آچکی تھی چناچہ اپنی چائے اُٹھائی اور بابا جی کے پاس جا بیٹھا۔سلام کیا تو بڑا روکھا سا جواب دے کر آنکھیں دوسری جانب پھیر لیں۔میں نے تمہید باندھی کہ میں اکثر یہاں اکیلا یا دوستوں کے ہمراہ آتا ہوں اور آپ کو دیکھتا ہوں۔لیکن جواب میں پھر وہی خاموشی ۔خیر چند لمحے بعد ہی وہ بابا جی خود ہی بول پرے کہ جی بیٹا آپ اپنے لہجے سے مقامی نہیں لگتے۔میں نے اپنا تعارف کروایااور حسب عادت باتوں میں ڈال کر اصل مدعے تک لے آیا۔
باب جی بتایا کہ وہ ایک سرکاری ملازم تھے۔آج کل فارغ ہیں ،تمام بچوں کی شادی ہو چکی ہے اور وہ اپنے بیٹے کے گھر میں رہتے ہیں۔بیوی کی وفات ہوئے کئی سال بیت چکے ہیں۔میرے مزید کریدنے پر انہوں نے بتایا کہ بیٹا اپنے کاموں میں مصروف رہتا ہےاور اس کے بچے سکول یا ٹویشن میں ،بہو سے صلح نہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ تلخ ہے لہذا وقت گزارنے کے لیےیہاں آ بیٹھتا ہوں۔بابا جی کا کہنا تھا کہ بیٹا اب وقت بہت بدل چکا ہے نہ پہلی کی سی طاقت و ہمت ہے اور نہ ہی پہلے سے وہ دن،نہ وہ دوست ہیں اور نہ ہی وہ مزاج ۔
ہر 4 جملوں کے بعد بہت ہی خوبصورت سا شعر یا مصرعہ بابا جی داغ دیتے جس سے گفتگو کا رنگ ہی بدل جاتا۔خیر ان سے بہت ساری باتیں کیں اور سنُیں پھر وقت کی قلت کے باعث ان سے اجازت چاہی اور کاؤنٹر پرپیسے ادا کرتے وقت ایک خیال آیا کہ میں کتنا خود غرض انسان ہوںکہ فقط اپنی تسکین کے لیے کسی کو اتنا کریدا لیکن پھر یہ بھی خیال آیا کہ چلو اچھا ہو انکے دل کا بوجھ تو کچھ کم ہوا۔
واصف علی واصفؔ سے کسی نے پوچھا تھا کہ دنیا کی زندگی کیا ہے؟
واصف علی واصف نے فرمایا کہ دنیاکی زندگی کی مثال دو آدمیوں کی طرح ہے ایک رو رہا ہے اور ایک ہنس رہا ہے جب ہنسنے والے سے اس مسکراہٹ کی وجہ پوچھی گئی تو کہنے لگا کہ میں رونے والے کو دیکھ کر ہنس رہا ہوں۔
اور جب رونے والے سے پوچھا گیا کہ تم کیوں رو رہے ہو تو اسکا جواب تھا کہ میں ہنسے والے کو دیکھ کر رو رہا ہوں۔
یہی حال ہے ہم سب لوگوں کا ہمارے ارد گرد کے لوگوں کا جو دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر تسکین محسوس کرتے ہیں اور شاید سمجھتے ہیں کہ دنیا بجی انکی طرح گونگی اور بہری ہے۔لیکن ایسا ہر گز نہیں یہاں ہماری درمیان بہت حساس افراد بھی موجود ہیں جو زرا سی بات کا بھی اثر قبول کرتے ہیں۔اور یہ نصیب والوں کو ہی ملا کرتے ہیں ۔یہ ایسے نگینے ہوتے ہیں کہ اگر انکی نگہداشت نہ کی جائے تو بکھر جاتے ہیں اور بکھرے ہوئے ہیرے کبھی جڑا نہیں کرتے۔
-------
تحریر
انس اعوان











true...