اینٹیں

0 comments
میرے کمرے کی
 شفاف کھڑکی سے
نظر آتا ہے اُس پار
ہجوم اینٹوں کا۔۔۔۔۔
جہاں فریب کی دنیا
عشرت کدوں میں
کھا کر فریب گنتی ہے
قصور اینٹوں کا۔۔۔۔۔
سسکیوں کے بیچ 
وہ اک غریب
بغیر چھت کے ہے
اسیر اینٹوں کا۔۔۔
(ملک انس اعوان)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔