اسلام اور چین

0 comments
پچھلے دنوں چین میں مسلمان خواتین پر پابندی عائد کر دی گئی کہ آئیندہ وہ برقعہ نہیں پہن سکیں گی۔اس خبر نے میری توجہ حاصل کی اور دل چاہا کہ اس پر بھی قلم اُٹھا یا جائے تاکے اپنے ہمسایہ ملک میں موجود مسلمانوں کی حالت زار بھی سب کے سامنے واضح ہو سکے۔
اسلام کی آمد سے پہلے ہی چین اور عرب میں ریشم کی تجارت کی غرض سے رابطہ قائم تھا۔چین میں اسلام کی آمد 18-616 صدی عیسویں میں اصحاب رسول ﷺ اللہ ،حضرت سعد ابن ابی وقاص (رض) ،وهاب ابن ابی کبشه اور دیگر صحابہ اکرام (رض) کے ہاتھوں ہوئی۔
حضرت سعد ابن ابی وقاص (رض) ان دس صحابہ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے جنت کی بشارت دی تھی۔آپ کا نام ان 6 شخصیات میں سے بھی تھا جن کے نام خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق (رض) کی شہادت کے بعد خلافت کے لیے تجویز کیے گئے۔
کئی جگہوں پر آپ (رض) کی ایک سے زیادہ بار چین میں آمد ثابت ہے اس دوران آپ کے ساتھ اور بھی صحابہ (رض) شریک سفر رہے۔آپ (رض) نے 651 صدی عیسویں میں حضرت عثمان (رض) کے دور خلافت میں ایک  سرکاری دورے پر شہنشاہ گاؤ زونگ کے ہاں گئے اورCantonکے مقام پر ایک مسجد کا قیام عمل میں لایا گیا۔
اس کے بعد  عرب اور فارسی مسلمان تجارت کے غرض جوق در جوق آ نے لگے اور چین کو اسلام کے بنیادی عقائد سے روشناس کروایا۔انہی تاجر حضرات کے ذریعے اسلام چین کے معاشرے میں سرایت کرتا چلا گیا۔بالکل ایسے ہی جیسے اسلام کی آمد ہند (برصغیر) میں ہوئی ۔
سن 1070 میں چین کے شہنشاہ شن زونگ نے بخارا سے 5300مسلمانوں کو چین میں بلا کر آباد کیا۔انہی مسلمانوں کو موجودہ چینی مسلمانوں کے آبا ؤ اجداد مانا جاتا ہے۔ان کو چین میں آباد کرنے کی بنیادی وجہ تجارت تھی۔چینی عربوں کی تجارتی صلاحیتوں سے خوب واقف تھے اور چاہتے تھے کہ چین بھی اہل عرب کی طرح تجارت میں اپنی اجارہ داری قائم کر سکے ،دوم اس وقت مسلم سلطنت افریقہ تک پہنچ چکی تھی چناچہ چین کے لیے اس کے ساتھ سازگار حالات رکھنا  بھی ایک مجبوری تھی۔
دوسری جانب جب منگول قبائل ایک طاقت کے طور پر سامنے آئے تو انھوں نے بھی  شروع میں مسلمانوں کی بہت مدد کی اور انھیں مالیات اور ٹیکس آفیسرز کی حیثیت سے سینٹرل ایشیائی علاقوں میں تعینات کیا جس سے پورے خطے میں اسلام کی نور پھیلنے لگا لیکن چنگیز خان کی آمد کے بعد یہودیوں اور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔مسلمانوں اور یہودیوں کو سرعام غلام کہا جانے لگا اور حلال گوشت پر پابندی لگا دی گئی ۔مسلمان اپنی عبادات چھپ چھپ کر کرتے اوراپنی پہچان چھپاتے پھرتے۔
مجودہ چین میں مسلمان کُل آبادی کا 2 فیصد ہیں ۔2030 تک ایک اندازے کے مطابق  مسلمانوں کی تعداد 29،949،000 تک پہنچ جائے گی۔آبادی کے تناسب کو کم رکھنے کے لیے حکومت نے دیہی علاقوں میں 4 جبکہ شہری علاقوں میں 1 سے 3  بچوں تک کی اجازت دے رکھی ہے۔
چینی صوبے سیانکیانگ (Xingjiang) میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ دیگر صوبے Gangsu,Ningxiaاور Qnifgaiبھی مسلم اکثریتی علاقے مانے جاتے ہیں۔
اعلی تعلیم کے لیے چینی مسلمانوں کا واحد قریب ترین سہارا انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI) ہے۔جہاں ایک کثیر تعداد حصول علم میں مگن ہے۔
سرخ کتاب کے انقلاب نے جہاں فیکٹریوں اور سڑکوں کا جال بچھا یا وہیں اسلام کو بھی بہت نقصان پہنچایا۔حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ چین میں عورتیں بھی امامت  کرواتی پائی گئیں ہیں۔اسلامی اقدار کی حکومت کی جانب سے حوصلہ  شکنی کا مسلسل سلسلہ جاری ہے ۔جس کے رد عمل میں مسلم علیحدگی پسند تنظیمیں بھی وجود پا رہی ہیں جن سے پورے خطے کا توازن بگر سکتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر پاکستان پر پڑے گا۔
پاکستان کو اب اپنی جغرافیائی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے چین سے اپنے تعلقات کو سیانکیانگ کے مظلوم مسلمانوں کی بحالی سے مشروط کر دینا چاہیے۔اور یہی اس کے لیےسب سے بہترین وقت ہے۔
تحریر
محمد انس مسعود اعوان




0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔