میں اس قید کو نہیں مانتا

2 comments
ویسے انسان کے پاس ہے ہی کیا؟ فقط چند سال کی زندگی جس میں  وہ آدھی زندگی کسی کے رحم و کرم پہ ہوتا ہے اور مجبوری کی زندگی گزارتا ہے۔بچہ ہوتا ہے تو چلنے پھرنے بولنے سے قاصر اور جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو پھر انہی مجبوریوں کے پنجرے میں قید کر دیا جاتا ہے۔بے شک زندگی گزر ہی جاتی ہے کیونکہ اِسے گزرنا ہی ہوتا ہے۔عجیب بات ہے انسان کو ایک طے شدہ مقام پر سے ورانہ کر دیا جاتا ہےجبکہ ہر گزرتا لمحہ اور ہر گزرتی سانس کے ساتھ ابد تک کا سفر کم ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ تمام رنگینیاں، موسم ،مزاج،بادل،آسمان،مسکراہٹیں،آنسو یہ سب کچھ اگر دور بیٹھ کر دیکھا جائے تو اپنی حیثیت میں کچھ بھی نہیں۔بس ساری کہانی "ہونے سے نا ہونے"  اور "شروع سے اختتام" تک ہے۔گویا کہ اگر خوشی آ گئی اور چلی گئی تو مطلب کہ ہم زندہ ہیں بالکل اسی طرح اچھے دن آئے اور چلے گئے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم زندہ ہیں۔اگر ایک ہی صورتحال دیکھنے اور محسوس کرنے کو ملے سوچنا چاہیے کہ ہم زندہ بھی ہیں یا نہیں۔
ہم اس دنیا میں آئے یا بھیجے گئے جیسے بھی تھا آنکھ کھلی اور آپ کے سامنے ایک دنیا اپنی تمام تر رنگینیاں لیے ہوئی آپ کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔آپ نے قدم بڑھایا اور روشنی کی اس آبشار میں اپنے آپ کو تر کر لیا۔متجسس انسان اور بھیگتا چلا جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کا رنگ چڑھ جاتا ہے اور اپنا اصل رنگ جو ساتھ لایا تھا کہیں بھول گیا۔بس پھر کہیں احساس پیدا ہوا دنیا سے دور کسی جگہ بیٹھ کر اپنا محاسبہ کیا اور اپنے اوپر چڑھے اس دنیا کے رنگ کو اتارنے لگا۔پر نہیں اترا کیونکہ یہ کوئی گھٹیا قسم کا کپڑا نہیں تمہارا نفس ہے۔جلا ہوا اور بے رنگ۔اور پھر کہیں سے احساس زیاں بھی امڈ ہی آتا ہے۔پھر توبہ کا در بند ہونے تک کا انتظار توبہ کرنا کا حق بھی چھین لیتا ہےلیکن اس سب کے باوجود
میں اس قید کو نہین مانتا۔نہ مجھے یہ احساس و مروت کے پنجرے اچھے لگتے ہیں۔دل چاہتا ہے کہ کسی آزاد بے گھر پرندے کی طرح آسمان میں کود جاؤں ۔ایک ہی جست میں سب کچھ دیکھ لوں اور گر جاؤں ۔کبھی دوبارہ نہ دیکھنے کے لیے ،کبھی دوبارہ نہ اُڑنے کے لیے اور نہ کبھی دوبارہ ہوا سے الجھنے کے لیے۔۔۔۔۔
تحریر 

---------
انس اعوان

2 comments:

  • 17 جنوری، 2015 کو 2:21 AM

    ۔ایک ہی جست میں سب کچھ دیکھ لوں اور گر جاؤں ۔کبھی دوبارہ نہ دیکھنے کے لیے ،کبھی دوبارہ نہ اُڑنے کے لیے اور نہ کبھی دوبارہ ہوا سے الجھنے کے لیے۔۔۔۔۔

  • 17 جنوری، 2015 کو 1:47 PM

    دراصل خواہش کا پیدا ہونا ہی زندہ ہونے کی دلیل ہے لیکن کبھی کبھار ایسا مقام بھی آتا ہے کہ آپ اتنی خواہش کرتے ہیں کہ اس حدتک پہنچ جاتے ہیں کہ خواہش ہی ختم ہو جاتی ہے۔۔مثال کے طور پر جب آپ سورج کی طرف دیکھتے ہیں تو اتنی روشنی ہوتی ہے کہ آپ آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔۔۔جہاں اندھیرا ختم ہوتا ہے وہیں سے روشنی شروع ہوتی ہے اور جہاں روشنی ختم ہوتی ہے وہیں سے اندھیرا شروع ہو جاتا ہے ۔۔۔اسی طرح ہی خواہش اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔اللہ بچائے ایسی حالت سے۔۔آمین

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔