گلاب انجمن تیری خواہش پر
لہو پہ ناز ہے امتیاز ہے مجھکو
بھرے زندان میں اجنبیت سی
سوچتا کیوں نہیں کوئی میرے جیسا
زرد گھیرے نے جسے ٹانک رکھا ہے
لب بام کوئی نہیں میرے جیسا
کیا ہے یوں اعتراف جرم کہ
مجرم کوئی نہیں میرے جیسا
زہر شرط تھی حق گوئی کا
زندہ کوئی نہیں میرے جیسا
مجھکو فکر ہے فکرِدانش کی
فکر مند کوئی نہیں میرے جیسا











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔