مثلاً کوئی نہیں میرے جیسا

0 comments
گلاب انجمن تیری خواہش پر
لہو پہ ناز ہے امتیاز ہے مجھکو
بھرے زندان میں اجنبیت سی
 سوچتا کیوں نہیں کوئی میرے جیسا
زرد گھیرے نے جسے  ٹانک رکھا ہے
لب بام کوئی  نہیں میرے جیسا
 کیا ہے یوں اعتراف جرم کہ
مجرم  کوئی نہیں میرے جیسا
زہر شرط تھی حق گوئی کا
زندہ  کوئی نہیں میرے جیسا
مجھکو فکر ہے فکرِدانش کی
فکر مند کوئی نہیں میرے جیسا
منافع ہجر پہ ٹال رکھا ہے
تاجر کوئی نہیں میرے جیسا
مین تو خود کی مثال آپ بنتا ہوں
 مثلاً کوئی نہیں میرے جیسا


-----------------
ملک انس اعوان




0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔