ہمارے غریب خانے میں دو مادہ طوطے ہیں، جن میں سے ایک نسلی اور گھر کی پلی ہوئی ہے جبکہ دوسری کا بچپن کسی اور کے آنگن میں گزرا ہے اور نسلاً بھی کوئی خاص نسب کی حامل نہیں ہے ، جب دوسرے والی گھر لائی گئی تو زیادہ باتونی اور بے ضرر ہونے کی بنا پر اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر ٹھہر گئی، یہ قربت بڑھتی گئی اور اس قدر کہ اسٹیبلشمنٹ کی طوطا چشمی کو پہلے والی طوطی نے شدت سے محسوس کیا اور برا مانا.... پہلے وہ چپ رہ کر احتجاج درج کرواتی رہی.. مگر کہاں اسٹیبلشمنٹ کی بے حسی... جب اسے احساس ہوا کہ اس طرح تو اسٹیبلشمنٹ پگھلنے والی نہیں تو اس نے ایک نیا ہتھیار آزمایا، اس نے دوسری طوطی کی آوازوں کی نقالی شروع کر دی...... اب جب وہ نسلی طوطی دوسرے والی طوطی کی آنکھیں گھما گھما کر نقالی کرتی ہے تو بہت ترس آتا ہے اور پیار بھی...!
خیر یہ تو معصوم پرندے کی محبت ہے کہ وہ ہر دم اپنے مالک کی خوشنودی حاصل کرنے کی تگ و دو کرتا رہتا ہے ....!
خیر چھوڑیے اس کا سیاست سے کیا لینا دینا. 😂
انس
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)
آمدو رفت
طوطا سیاست
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments
مدرس اور مونچھیں
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments
فیمنسٹ حضرات کی باتیں ایک جانب آج تو سورۃ النساء کی مختصر تفسیر کے دوران مدرس محترم نے مرد حضرات کو اچھا خاصہ پنجابی والا "دبلّا" ہے اور یہ تک کہہ دیا ہے کہ "ان مونچھوں والے بدمعاشوں کو کیوں خوشی سے جائداد دیتے ہو یہ کونسا بعد از مرگ دعائیں دیتے ہیں، اپنی بیٹیوں لاڈو رانیوں کو ضرور حصہ دو یہی تو دعائیں کرتی ہیں خیال رکھتی ہیں"
اس دوران سارے مونچھوں والے بدمعاش ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے، سب نے اپنی مونچھیں چھپا لیں 😂.
ملک انس اعوان