سیاہ

0 comments

عجیب ماضی کی وحشتیں تھیں
عجیب حالات پھر رہے ہیں
ہم اپنے کمرے کی کھڑکیوں سے
اندھیر کرنوں کو گن رہے ہیں
سفیدیوں سے سیاہیوں کی
سیاہ لکیروں کو چن رہے ہیں
عجیب تصویر بن رہی ہے
عجیب انداز ڈھل رہے ہیں
سیاہ مائل سے کینوس پہ
خزاں کے دلدل ابل رہے ہیں
وہاں پہ سنسان راستوں پر
وہ شور وحشت مچا ہوا ہے
کہ ذات و ہستی الجھ رہی ہے
کوئی باب ذلت پلٹ رہا ہے 

Empty Bottles

0 comments
Brothers we are not the "Empty Bottles" to be thrown away in the Dustbin of History. We have to know who we are. From where we Belong and where we have to go. You have to understand that,we are losing our culture our traditions and our dearest religion Islam. Being a Muslim we consider our religion as above all the things that matters or even they does not matter. 
But today When we see ourselves in the mirror who we are?, we have lost our identity. We are no more ourselves.Our mind our thoughts got captured. You have to see from where the things are coming. We have to realize the "change" the change in everything. 
We have to return back to our foundation our Muslim identity. Our Muslim culture our Muslim tradition. We are different and we are important. You have to be careful about everything. We cannot lose ourselves for the sake of entertainment. We should not get inspired by the false ideologies and false doings. 
We have to create our own selves and our very own identity our own philosophy of everything. No one can decide how to eat how to wear and how to celebrate something. We are the one to decide what we have to do what we have not to do and how we have to do. Yes we are important. And we will reclaim our identity in a greatfull way by putting out ourselves from comfort zone and excell in every field by  using every possible knowledge available with  our intellect, courage and help from Allah Almighty.

Malik Anas Awan

Photo courtesy :
https://freephotoindia.blogspot.com/2016/04/close-up-of-empty-water-bottle-thrown.html?m=1

تسخیر

0 comments

صبح ہونا نہ ہونا ضروری نہیں، بس اٹھتے ہی آنکھیں ملنے سے زیادہ فکر پلکیں سیدھی کرنے کی ہوتی ہے، حالانکہ دیکھنے کے حوالے سے کچھ خاص ذوق نہیں پایا جاتا ہے مگر اس اہتمام کو قائم رکھا جاتا ہے، کیونکہ سیدھی روشنی آنکھوں سے ہوتے ہوئے دل کے اسیر خانے کے اندر کسی تاریک، تعفن زدہ سنسان کمرے  کی چھت سے دھار بناتے ہوئے امید نام کے لاشے پہ پڑتی ہے، جو کارِ دنیا کی فکر میں لاحق ہڑبڑا کر اٹھتا ہے اور مجھے بھی  اٹھنے پہ مجبور کر دیتا ہے، حالانکہ اس بیداری کاحاصل آوارگی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ اب تک تو ہم نے کچھ کیا نہیں ہے اور بقول ہمارے نہ ہم سے کچھ سرزد ہونے کا امکان باقی ہے.
یہ جانتے ہوئے بھی کہ اپنے ہر سوال کا جواب خود دینا عجیب عادت ہے. یہ مکالمہ ہماری شعوری بیداری سے لے کر تاحال جاری و ساری ہے، کبھی کبھی اسکا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے اور یہ لا شعور میں بھی قدم جمانے لگتا ہے.خوابوں کے کئی قافلے بھی اس کی زد میں آتے پائے گئے ہیں. اس عادت کی طرح نجانے کیوں ہر شے اپنے آپ میں ایک تسخیری وصف پیدا کرنا چاہتی ہے.
آپ دیکھتے نہیں کہ لوگ کیسے میت کے چہرے پہ سے کپڑا اتار اتار کر دیدار کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں، ظاہر ہے انہوں نے آگے ہی بڑھ جانا ہے. دنیا ہے ہوتا ہے اور چلتا ہے. لیکن یہ تسخیری صفت کہ بس دیکھ لیا جائے وحشت انگیز ہے . ارے کیا ہے اگر کوئی مر گیا ہے بات ختم اپنے احساسات کی تسخیری قوت کو روکیے، ہر لمحہ، ہر احساس، ہر منظر ہر شے فتح کرنے کے لیے نہیں ہوتی ہے. دوسرا دیکھنے والوں نے بنیادی طور پہ کچھ دیکھنا بھی نہیں ہوتا ہے. جوکہ کسی قدر دیکھنے کی توہین بھی ہے.
اب کہ ذوق دید کہاں بس ذوق تماشا کا رواج ہے، ہم یہ سوچتے ہیں اور سنا ہے کہ انسانی معاشروں میں جانوروں کو لڑا کر ذوق تماشا کو تسکین پہنچانے پہ پابندی ہے، چنانچہ یہ کام اب انسانوں کو باہم دست و گریباں کر کے پورا کیا جا رہا ہے. اور جدید انسان کے لیے ان تماشوں کا منعقد کرنا مزید سہل ٹھہر گیا ہے. اب تو ہم اسے جدید انسان کی بنیادی ضرورت سمجھنے لگے ہیں. کبھی کبھی تو چائے کی پیالی میں دیکھتے ہوئے پوری دنیا کا شور اضافی اور غیر اہم محسوس ہوتا ہے اور ایک موہوم سی خواہش انگرائی لیتی ہے کہ کاش اس پیالی میں دنیا و ما فیہا کو گھول کر پی جاؤں. مگر پھر کہیں دور پار سے یہ بھی خیال  آتا ہے کہ کہیں باہر کا دوزخ میرے اندر کے دوزخ سے نہ مل جائے وگرنہ "کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی" حالانکہ سمجھ سے تو یہ پہلے ہی سے باہر ہے.
یہ دو دوزخوں کا معاملہ بھی کیا دلچسپ ہے کہ ان کے مابین کبھی کبھی تو اپنی ذات ایک پردہ معلوم ہوتی ہے، جس کا واحد کام ان دونوں کی شناخت کو قائم رکھنا ہے. اور اس وجود کے ہونے میں سے اگر "یقین" کی قوت نکال دی جائے تو، واقعتاً وجود کہیں بھی موجود نہیں ہے.
بقول جون "وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں" کے مصداق ہم ایک خلا میں جی رہے ہیں جہاں ہمارا وجود محض سوچتے رہنے کی حد تک موجود ہے جہاں آپ سوچنا بند کریں گے آپ موجود سے لا موجود میں ڈھل جائیں گے، آخر اس کمتر سی ہئیتی موجودگی کا مذاق بھی کیوں، یہ تو عجب  بدمذاقی ہوئی. اچھا ہے کہ سب کچھ انسان کے اختیار میں نہیں ہے، وگرنہ یہاں وہ وہ تماشے برپا ہوتے کہ خدا کی پناہ. صد شکر کہ ہم اب بھی اسی کی پناہ میں ہیں. 

ملک انس اعوان 

سید طفیل الرحمان شہید

0 comments
میں اس سید زادے سے سےآج تک نہیں ملا تھا،ہمارے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ تھا، مگر جب اس قیامت کی گھڑیوں کی خبر ملی تو میرا دل استنبول میں بھی پمز اسلام آباد کی گیلری میں دوڑتے ہوئے خون آلود اسٹریچر پہ لیٹے ہوئے اس خوبصورت نیک سیرت جوان کے دل کی طرح ڈوب رہا تھا. گویا  کوئی ایسی رسی کھینچی جا رہی ہو جس کے سرے ہمارے دلوں سے بندھے ہوئے ہیں، اذیت کی ایک عجب لہر رگوں سے نچوڑی جا رہی تھی.  دل و زباں سے ایک ہی دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ یہ خبر غلط ہو، غلط فہمی ہوئی ہو، ایسا کیسے ہو سکتا ہے، یہ نہیں ہو گا. 
مگر ہم تقدیر الہی کے آگے بے بس ہیں. جب خبر ملی تو میرے  پاس کوئی جمعیت کا ساتھی بھی موجود نہیں تھا کہ جس کے کندھے پر سر رکھ کر چار آنسو ہی بہا سکوں. غریب الوطنی کا شاید اس سے بڑا دکھ اور کوئی نہیں ہے. 
وہ کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی تو تھا ہی لیکن میری پیاری جمعیت  میری بہت پیاری جمعیت کا امید وار رکن تھا. اس نے ہزاروں جوانوں کی طرح رنگ رلیاں منانے کی بجائے کتنے ہی دروس قرآن کا اہتمام کیا ہو گا، عین جوانی میں کتنی ہی دینی محافل کے انعقاد کا ایندھن بنا ہو گا، وہ بھی راتوں میں امت کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا ہو گا.
سوچتا ہو گا یہ آج میں نے فلاں کو دعوت دی ہے، کل فلاں کو دعوت دینی ہے، آج اس کی مدد کی ہے کل اُس کی مدد کرنی ہے، کسی کا ہاسٹل، کسی کی تعلیم کسی کی ذاتی زندگی میں معاون و مددگار بنا ہو گا.
ان خوبصورت فکروں اور خوابوں کو اپنی پاکیزہ جوانی کا خون دینے  والا اور اپنی خوشبو سے دیگر طلبہ کو بھی معطر دینے والا پھول ظالموں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے آنگن میں سفاکیت کے ساتھ کچل دیا ہے. 
وہ میرا ایک پھول 🌸 ظالموں کے ہزاروں سروں سے زیادہ قیمتی تھا. اور جب یہ پھول جنت کے باغوں میں سجے گا تو کتنا بھلا لگے گا. جمعیت کے پہلے شہید عبدالمالک سے لے کر سید طفیل الرحمان ہاشمی تک کا یہ گلدستہ آج جنت میں جلوہ خیز ہو گا. اس نے اپنے عمل سے اپنی فکر کی شہادت دی ہے. 

فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ‌ 
ان میں سے کوئی اپنی نظر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے ۔(الاحزاب :23)

ظالم سمجھتے ہیں کہ ایسا کر دینے سے ہمیں روک پائیں گے، تو وہ انکی بھول ہے، ہم اور مضبوط ہوتے ہیں، یہ شہداء ہمارے عزم کو توانا اور قدموں کو مستحکم کرتے ہیں،یہ لہو جمعیت کے پرچم پہ موجود سرخی کو اور بھڑکا دیتا ہے ،جو شمعیں خون سے جلائی جائیں، انہیں ظلم کی آندھیاں بجھا نہیں سکتیں ہیں، اس آندھی نے چنگاری کو اگ بنا دیا ہے. 
ہم سابقین جمعیت دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ہوں، ہمارے.
دل آج بھی جمعیت کے ساتھ دھڑکتے ہیں.کس طرح دھڑکتے ہیں یہ احساس بیان کرنے لائق ہنر اور الفاظ میرے بس میں نہیں ہیں.

انس

OIC World Halal Summit

0 comments

Yesterday there was a beautiful event named as  "World Halal Summit 2019" arranged by #OIC - SIMIT in the historical city of Istanbul. Being a student of MBA it was a great experience to observe the B2B meetings .it was an opertunity to know about Halal food market, its advantages and its scope in future. I met many people from all over the Muslim world and they discussed their business  models and their collaboration with other nations and how they are expanding their businesses across the world.I was amazed to know about Indonesian  entrepreneurship model by providing the basic capital and business assistance to the Madrasas (Religious) schools by the Provincial Government to launch their own businesses using the same students as human resource and to provide quality goods and services to  community to earn profits which are then distributed for paying the loan back to Government in parts, to pay the wages and to provide money for development of Madrasas and Mosques, so by doing this at the same time they are empowering and training young blood and making the religious institutions a profit able entities who are not dependent on Zakat.There were some presentations of detailed scientific research on Halal meat and   scientific discussion about the methods to know "weather the meat is halal or not? " even its  still not possible to know it. But scientists described its different dimensions and the framework of their future research work. In this event there was a "Startup" corner in which the students shown up their ideas and business proposals to  get investments, and no doubt these ideas were amazingly useful and profitable at the same time. Luckily, I got  people from some IT and software companies and shall visit Istanbul Tech Park soon because there is a lot of space between Pakistan and Turkey for  IT industry, Turkey have the advantage of European market and Pakistan have low cost human resources. So if we can manage it, it would be a good thing for our local software houses in Pakistan who are relying on outsourcing from other countries. We can fill the gap and we will fill it. 

ان شاء اللہ

~Anas