میں اس سید زادے سے سےآج تک نہیں ملا تھا،ہمارے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ تھا، مگر جب اس قیامت کی گھڑیوں کی خبر ملی تو میرا دل استنبول میں بھی پمز اسلام آباد کی گیلری میں دوڑتے ہوئے خون آلود اسٹریچر پہ لیٹے ہوئے اس خوبصورت نیک سیرت جوان کے دل کی طرح ڈوب رہا تھا. گویا کوئی ایسی رسی کھینچی جا رہی ہو جس کے سرے ہمارے دلوں سے بندھے ہوئے ہیں، اذیت کی ایک عجب لہر رگوں سے نچوڑی جا رہی تھی. دل و زباں سے ایک ہی دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ یہ خبر غلط ہو، غلط فہمی ہوئی ہو، ایسا کیسے ہو سکتا ہے، یہ نہیں ہو گا.
مگر ہم تقدیر الہی کے آگے بے بس ہیں. جب خبر ملی تو میرے پاس کوئی جمعیت کا ساتھی بھی موجود نہیں تھا کہ جس کے کندھے پر سر رکھ کر چار آنسو ہی بہا سکوں. غریب الوطنی کا شاید اس سے بڑا دکھ اور کوئی نہیں ہے.
وہ کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی تو تھا ہی لیکن میری پیاری جمعیت میری بہت پیاری جمعیت کا امید وار رکن تھا. اس نے ہزاروں جوانوں کی طرح رنگ رلیاں منانے کی بجائے کتنے ہی دروس قرآن کا اہتمام کیا ہو گا، عین جوانی میں کتنی ہی دینی محافل کے انعقاد کا ایندھن بنا ہو گا، وہ بھی راتوں میں امت کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا ہو گا.
سوچتا ہو گا یہ آج میں نے فلاں کو دعوت دی ہے، کل فلاں کو دعوت دینی ہے، آج اس کی مدد کی ہے کل اُس کی مدد کرنی ہے، کسی کا ہاسٹل، کسی کی تعلیم کسی کی ذاتی زندگی میں معاون و مددگار بنا ہو گا.
ان خوبصورت فکروں اور خوابوں کو اپنی پاکیزہ جوانی کا خون دینے والا اور اپنی خوشبو سے دیگر طلبہ کو بھی معطر دینے والا پھول ظالموں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے آنگن میں سفاکیت کے ساتھ کچل دیا ہے.
وہ میرا ایک پھول 🌸 ظالموں کے ہزاروں سروں سے زیادہ قیمتی تھا. اور جب یہ پھول جنت کے باغوں میں سجے گا تو کتنا بھلا لگے گا. جمعیت کے پہلے شہید عبدالمالک سے لے کر سید طفیل الرحمان ہاشمی تک کا یہ گلدستہ آج جنت میں جلوہ خیز ہو گا. اس نے اپنے عمل سے اپنی فکر کی شہادت دی ہے.
فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ
ان میں سے کوئی اپنی نظر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے ۔(الاحزاب :23)
ظالم سمجھتے ہیں کہ ایسا کر دینے سے ہمیں روک پائیں گے، تو وہ انکی بھول ہے، ہم اور مضبوط ہوتے ہیں، یہ شہداء ہمارے عزم کو توانا اور قدموں کو مستحکم کرتے ہیں،یہ لہو جمعیت کے پرچم پہ موجود سرخی کو اور بھڑکا دیتا ہے ،جو شمعیں خون سے جلائی جائیں، انہیں ظلم کی آندھیاں بجھا نہیں سکتیں ہیں، اس آندھی نے چنگاری کو اگ بنا دیا ہے.
ہم سابقین جمعیت دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ہوں، ہمارے.
دل آج بھی جمعیت کے ساتھ دھڑکتے ہیں.کس طرح دھڑکتے ہیں یہ احساس بیان کرنے لائق ہنر اور الفاظ میرے بس میں نہیں ہیں.
انس










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔