ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی

0 comments
یہ ایک چھوٹا سا پسماندہ سا گاؤں ہے۔جہاں بنیادی ضروریات زندگی بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ہر گھر میں بے روزگار لوگ ہیں جو صبح و شام اہنے مقدر کو کوستے رہتے ہیں۔اور سوچتے رہتے ہیں کہ کس طرح اس گاؤں سے بھاگ کر شہر چلے جائیں اور اور اپنے بچوں کے پیٹ پال سکیں۔
ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ ایک مداری والا آتاہے اور چوک کے اندر کھڑے ہو کر ڈھول کی تاپ پر سانپ کا ناچ دکھانے لگ جاتا ہے۔گاؤں کے بے شعور بچے دیونہ وار اس جگہ پہنچ کر دائرہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں۔آہستہ آہستہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی چو راہے میں آ جاتے ہیں لیکن بزرگ اس معاملے پر خاموش اختیار کرتے ہیں اور گھروں میں ہی بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔اتنے میں ایک اورمداری والا آتا ہے اور چوراہے میں بلکل سامنے ہی اپنے فن ِ زبان و بیان کا مظاہرہ شروع کر دیتا ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی بڑی تعداد دونوں کے گرد اکٹھی ہو جاتی ہے۔دونوں کافی دیر تک اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں آخر شام کے وقت دونوں مداری گاؤں کےسادہ لوح لوگوں سے پیسے اکٹھے کرتے ہیں اور کسی اور  گاؤں کی تلاش میں چل پڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ دنوں سے طبعیت بھی

0 comments
کچھ دنوں سے طبعیت بھی
مزاج کے بدل جانے سے
اکتا چکی ہے
خود سے بھی
حد ہے!
 سب سے بھی
نثر ، شعر و تسلیس
بے معنی و مطلب سب تکلیف
خراب موسم میں
آ گئے ہو کیوں
ہو گیا ہوگا
مطلب و معنی پورا
تو جھوٹ بولوں ؟
ٹھیک ہوں؟
نہیں ہوں ناں
اگر بولوں
تصور میں
تصور بھی نہیں ہوتا
میرا
سُدھر جانے کا۔۔۔۔۔۔۔۔

چلو ایک بار اور صحیح

0 comments
ہم کتنے قدامت پسند ہیں اور ساتھ ساتھ کتنے سادہ بھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی یہ ناممکن ہے لیکن اس دور میں بھی خالص رشتوں اور تعلق کی بات کرتے ہیں۔صرف بات ہی نہیں بلکے تلاش بھی کرتے ہیں۔اور کئی تجربات بھی کر گزرتے ہیں۔
لیکن ہر بار جب منہ کے بل گرتے ہیں تودوبارہ کپڑے جھاڑتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور پھر ایک اور تجربے کی بنیاد رکھ دیتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کسی بھی کام کو اگر تسلسل کے ساتھ  ایک عرصے تک کیا جائے تو  اس کے فوائد و نقصانات کھل کر سامنھے آجاتے ہیں۔لیکن اس معاملے میں حساب کچھ یوں ہے کہ ہر بار ایک  نیا رخ ہمارے سامنے آ جاتا ہے اور ہر بار ایک نئی ہی صورت حال پیش آجاتی ہے۔
ہم بھی اس صورت حال سے تنگ ہیں لیکن پھر بھی ایک نیا تجربہ کرنے چل پڑتے ہیں کہ کچھ نہ صحیح کسی کا ایک اور انداز یا چہرہ تو دیکھنے کو ملے گا۔انسان کی فطرت ہے کہ اگر وہ اپنی تکلیف کو بھی لذت محسوس کرنا شروع کر دے تو یہ اُس کے لیے لذت ہی ہوتی ہے کچھ پل کے لیے باقی تمام اثرات اُس کی نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔اور گرم چوٹ کا درد تو ویسے بھی محسوس نہیں ہوتا۔پتہ تب لگتا ہے جب زخم کو کچھ عرصہ گزر جائے اور کچھ فرصت حاصل ہو۔پھر درد کا احساس بھی ہوتا ہے اور اپنی غلطی کا بھی۔لیکن وہ کیا ہے کہ انسان ہے ناں،عادت سے مجبور
چلو ایک بار اور صحیح

میں اپنا بہترین دوست ہوں

0 comments
ساری زندگی بھیڑ میں گزاری۔رونقوں اور محفلوں میں گزاری۔رنگ جمائے گئے اتارے بھی گئے اور چڑھائے بھی گئے، کبھی محفل میں لائے گئے لیکن کبھی نکالے بھی گئے۔جب میں محفل میں ہوتا تو وہ باہر بیٹھ کر میرا انتظار کرتا۔جب میں تنہا ہو جاتا تو وہ میرے ساتھ چلنے لگتا اور مجھے راہ دکھاتا۔لیکن میں نے کبھی اس کی طرف توجہ نہ کی بلکہ ہمیشہ اُسے نظر انداز ہی کرتا رہا۔ میرے اِس رویے سے اُسے کچھ فرق نہ پڑتا۔وہ اُسی طرح میری تنہائوں کا ساتھی بنتا رہا۔وہ بھی کتنا عجیب تھا؟ شاید اسے رونقوں سے ڈر لگتا تھا، وہ ہمیشہ لوگوں سے دور رہتا تھا۔

جیسے ہی میں کسی سے ملتا وہ میرے پاس سے جلدی سے گزر کر کسی جانب غائب ہو جاتا۔اور تب تک سامنے نہ آتا جب تک کہ میں تنہا نہ ہو جاتا۔وہ مجھے سمجھاتا کہ دنیا کے ساتھ کس طرح گزارہ کیا جائے۔وہ مجھے نئے دوست بنانے سے روکتااور اکثر کہتا کہ میں ہی تمہارا دوست اور ساتھی ہوں میری طرف بھی دیکھا کرو۔لیکن شاید مجھے اس کی کسی بات کا اثر نہ ہوتا تھا۔لیکن وہ آہستہ آہستہ میرے اتنے قریب آ گیا کہ مجھے اُس کی عادت ہو گئی۔لیکن اب بھی میں نے کبھی اُس پر دیہان نہیں دیا تھا۔لیکن دل میں ملال سا رہتا کہ آخر وہ کون ہے،کہاں سےآتا ہے اور کہاں چلا جاتا ہے۔

 ایک روز جب وہ آیا تو میں نے اُسے روک لیا اور اپنے سامنے بٹھا کر غور سے دیکھنے لگا۔وہ 6 فٹ کا زرا صحت مند جسامت کا حامل تھا۔وہ بلکل میرا ہمشکل تھا لیکن بوڑھا ہو چکا تھا۔میں ٹکٹکی باندھے اُسے دیکھتا رہا آخر اس نے ہی خاموشی کو توڑا اور کہا کہ میں اصل میں تم ہوں۔میں وہ ہوں جو ہر پل تمہارے ساتھ رہتا ہوں۔لیکن تم میری پرواہ نہیں کرتے۔دیکھو آج میں کتنا بوڑھا ہو چکا ہوں تماہرے سا تھ چل چل کہ بوڑھا ہو چکا ہوں۔حالات اور تمہارے نئے سبق سیکھنے کے شوق نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔مجھ پر کئی کتابوں اور خیالوں کا وزن ہے۔ایسے خیالوں کا بھی جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ایسے جزبات کا جن کا کوئی فائدہ نہیں ،ایسی یادوں کا جو اذیت کا باعث ہیں۔

یہ کہتے کہتے وہ رو پڑا ۔میں نے اُسے سہارا دیا اور سوچنے لگا کہ میں کتنا کم ظرف انسان ہوں۔اپنے آپ ہی کو بھول گیا۔اپنے اصل کو ہی دوسروں پر قربان کر دیا۔بدلے میں کیا ملا؟ کچھ بھی نہیں۔اس وقت کے بعد سے اب تک میں صرف اُس ہی کی سنتا ہوں اُسی کی مانتا ہوں،اُسی کے فیصلے پر چلتا ہوں، شاید اسی وجہ سے مجھے ہار پر کبھی دکھ نہیں ہوا۔مین نے کبھی خود کو کسی سے کم تر نہیں سمجھا۔جو من میں آیا وہ کیا ۔جس سے من نے انکار کیا وہ چھوڑ دیا۔شاید یہ اعتماد میرے اُسی دوست کا دیا ہوا ہے۔میں آج جو کچھ بھی ہوں جیسا بھی ہوں اُسی کی وجہ سے ہوں۔میں نے تنہائی کو کاٹنے کا فن بھی اُسی دوست سے سیکھا۔وہی مجھے لکھنے پر مجبور کرتا ہے اور مین لکھتا جاتا ہوں۔اب یہ دوستی مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔اتنی گہری کہ اب لوگوں کی باتیں میرے فیصلوں پر نظر انداز نہیں ہو سکتیں۔کیونکہ
میں اپنا بہترین دوست ہوں


حد ہے

0 comments

ہماری میّت پر وقت رخصت
کسی کے لب پر دعا ہی نہیں
اچھا جی،بہت ہوا۔۔۔۔۔۔!
گویا کہ کچھ ہوا ہی نہیں
اس لیے بھی کہ ہنس رہا ہوں میں
کیا بتاؤں جو ہوا ہی نہیں
زندگی وہ ہے انسؔ جو بغیر حسرت ہے
یعنی، حد ہے۔۔! میں جیا ہی نہیں

مشرق وسطی کی صورت حال

0 comments



 اگر کچھ دیر کے لیے ہم یہ بھول جائیں کہ کون صحیح ہے یا کون غلط،کس کے پیچھے کون ہے اور ان کے کیا مقاصد ہیں تو زرا اس وقت مشرق وسطی پر نظر ڈالیں جوعجیب صورت حال سے دوچار ہے۔جو  وہاں کے لوگوں سے زیادہ ہمارے لیے  اہم ہے۔شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کی حکومت کے قیام  سے کچھ  عرصے بعد تک وہاں حالات معمول کے مطابق ہیں۔بقول  موجودہ حکومت وہاں شریعت  کا نظام نافذ العمل ہے۔مقامی لوگ سکون سے ہیں ۔پورے ملک میں  عام عوام کے لیے ٹرانسپورٹ کی مفت سہولت موجود ہے۔کم سے کم وقت میں عدالتیں مقدمات کے فیصلے سنا رہی ہیں۔لیکن یہاں ایک چیز باعث تشویش ہے کہ دولت اسلامیہ کے پاس اتنا سرمایا کہاں سے آیا۔لیکن دوسری طرف امریکہ،فرانس ،برطانیہ اور ایران کو عام عوام کا سکون راس  نہیں آرہا اور یکے بعد دیگرے حملے کیے جا رہے ہیں اور سوچ بچار جاری ہے کہ کس طرح انکو روکا جائے۔یاد رکھیے کہ دولت اسلامیہ کی موجودہ  لیڈر شپ اُنہی لوگوں پر مشتمل ہے جنھوں نے شام میں ایرانی فوج اور ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجوؤں سے جنگ لڑی۔دراصل یہ اُسی ظلم کا نتیجہ ہے جو بشار الاسد کی حکومت شام کی 80٪ عوام کے ساتھ ایک عرصے سے ڈھاتے رہےہیں۔موجودہ  اعلان شدہ  خلیفہ  پی-ایچ-ڈی سکالر ہیں۔عوام کا اعتماد موجودہ حکومت پر بڑھتا جا رہا ہے جو مستقبل میں واضح طور پر امریکی اور صہیونی مفاد کا قتل عام ہے۔بیشک اللہ بہتر جانتا ہے۔

الفاظ

0 comments
الفاظ تو ہمیشہ سے ہی اہم رہے ہیں۔چاہے وہ ادا کر دیے گئے ہوں یا پھر ضبط کر لیے گئے ہوں۔اگر ادا کر دیے گئے ہوں تو اثر انداز ہو جاتے ہیں اور اگر وہ ادا نہ ہو سکیں تو اندر ہی توڑ پھوڑ کر دیتے ہیں۔انکی ایک اپنی قیمت ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی چیز کی قیمت اصل میں خریدار ہی لگاتا ہے۔اسی طرح الفاظ کی قیمت بھی سننے والا یا پڑھنے والا لگاتا ہے۔لکھے یا ادا کیے لفظ اگر مناسب طریقے سے سُنے یا پڑھے نہ جائیں تو  مہمل بن جاتے ہیں جو ادا تو کر دیے جاتے ہیں لیکن مطلب نہیں دیتے۔کئی بار لفظ کچھ نہیں ہوتے لیکن ادا کرنے والی زبان اِنکو انمول بنا دیتی ہے۔ کبھی کبھی ادا کرنے والے معمولی الفاظ کو بھی وزن عطا کر دیتے ہیں۔ لفظ تو ایک سے ہی ہوتے ہیں لیکن ادا کرنے والی زبان اس میں وہ تاثیر پیدا کرتی ہے کہ پتھر کے دل بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور فکر و نظر کی دنیا تبدیل ہو جاتی ہے۔ڈرنا چاہیے الفاظ سے بھی اور اُس سے زیادہ لفظ اداء کرنے والوں سے ۔

سفر نامہِ سریِ پائے-ملک انس اعوان-

0 comments
سفر ہمیشہ تجربات سے بھر پور ہوتا ہے ۔قدم قدم پر بہت کچھ سیکھنے کا موقعہ ملتا ہے۔اور میں اکثر انہی موقعوں کی تلاش میں رہتا ہوں کہ کب  مجھے کسی  خوبصورت منزل کی طرف سفر کرنے کا موقعہ ملے۔کیونکہ میرا ماننا یہ ہے کہ منزل جتنی خوبصورت ہوگی سفر اتنا ہی مشکل لیکن نصیحت آموز ہوگا۔چناچہ اسی طلب کو پورا کرنے کے لیےایک کلب کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا نام کامسیٹس سٹوڈنٹ ایڈوینچر کلب    رکھا گیا۔جس میں اس بندہ نا چیز کو  بھی شامل کیا گیا۔اس بار ہماری منزل اٹک سے قریباً  216کلومیٹر دور شوگران (سری پائے) مورخہ 13 ستمبر  اور 2014روانگی کا وقت نماز ِفجر کے بعد طے پایا گیا۔
حسب معمول  طے شدہ تاریخ پر میری شب،شبِ بیدار ہی رہی۔صبح نماز کے بعد  تمام ساتھیوں کو فون کرکے اُٹھانا  پڑا۔کئی تو پہلے سے ہی تیار بیٹھے تھے۔ پورے پانچ بجے گاڑی ھاسٹل کے باہر آن کھڑی ہوئی۔ کچھ ضروری سامان مثلاً فرسٹ ایڈ باکس،مشروبات وغیرہ کو  گاڑی میں رکھا اورتمام اشیاء کو رکھنے تک محسن بھائی بھی تیار ہو کر آ گئے اور باقی ساتھیوں کا انتظار کرنے لگےلاہور سے آئے ہوئے دوست اٹک کینٹ میں میں رہائیش پزیر تھے انہیں کینٹ گیٹ سے بٹھا لیا گیا۔ہمارے ایک انتہائی چل بل سے ساتھی جن کا نام کاشف خان ہے وہ مقررہ وقت پر طے شدہ سٹاپ پر آ پہنچے ۔قریباً ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد کاشف بھائی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور ہو مجھے دھمکی آمیز  میسج کرنے لگے ۔حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بغیر کوئی وقت ضائع کیے اُنکو  سفر میں شریک کیا۔امیر سفر راجہ سروش بھائی کی سربراہی میں اٹک سے روانہ ہو گئے۔روانگی کا وقت 6:13 تھا۔نفیس بھائی نے بلند آواز میں سفر کی  اجتماعی دعا کروائی اور اور ہم چل دیے۔حسن ابدال سے گزرتے وقت پولیس ناکے پر ہمیں روک لیا گیا لیکن کامسیٹس کے کارڈ دکھانے پر ہمیں جانے دیا گیا۔اتر شی شاہ کے مقام پر گاڑی روک کر ایک ہوٹل پر ناشتے کے لیے رک گیے۔میں نے شدید بھوک کے باوجود بھی ناشتہ نہیں کیا کیونکہ آگے چڑھائی تھی اور ایسےکرنے سے متلی کا ڈر رہتا ہے۔جیسے ہی چڑھائی شروع ہوئی بریک ٹائروں کی بو نے ناک میں دم کر دیا۔
سڑک کی دونوں اطراف اللہ کی قدرت اپنا جلوہ دکھا رہی تھی۔بلند و بالا پہاڑوں پر قدرت کا سبز کارپٹ پڑا ہوا تھا۔حد نظر انسان قدرت سے شکست کھاتا نظر آ رہاتھا۔قدرت اِدھر راستہ روکتی تو انسان دوسری سمت سےرستہ نکال لیتا۔قدرت اور انسان کی جنگ ہر طرف جلوہ نما تھی۔کہیں کہیں قدرت اور انسان نے مل کر ایسے خوبصورت منظر ترتیب دیے تھے کہ زبان «سبحان اللہ»کہنے پر مجبور ہو جاتی۔
خوبصورتی دیکھ کر اکثر نیت خراب ہو جاتی ہے۔سرمد اعوان کا بھی یہی حال تھا ۔جب منظر مزید خوبصورت ہونے لگے تو بھائی کی نیت خراب ہو گئی اور اُلٹیاں آنے کا بہانہ کر کے ایک چشمے پر گاڑی کو رکوا لیا۔خوب تصویریں بنائی گئیں۔
تھوڑا آگےآگے جا کرسروش بھائی نے جوشِ خطابت میں آکر ایک بہت ہی بڑا پہاڑ لاہور سے آنے والے  یونیورسٹی آف لاہور کے دو ساتھیوں اکبر اشرف اور حسیب اکبر کے نام کر دیا۔لیکن یہ بیان صرف بیان ہی رہا۔
عادل بھائی جو کہ ناشتے میں  ٹھیک ٹھاک  پراٹھے  کھا چکے تھے وہ اُلٹیوں کی صورت میں نکالنا  شروع کر دیے۔کبھی آگے سے کوئی بھائی شاپر عنایت فرماتا کبھی کوئی پیچھے سےلیکن یہ معاملہ بھی افہام و تفہیم سے طے پا گیا۔
سڑک کے  بیشتر چکرلگانے کے بعد آخر کار ہم 2:40 پر شو گراںپہنچ ہی گئے۔بس یہ نہ پوچھیے کہ کیسے پہنچے؟
گاڑی گرم ہونے کے باعث ہم گاڑی سے اُتر آئے اور پیدل ہی شوگراں کی طرف چل پڑے لیکن  کچھ ہی دیر بعد  سب ساتھی سڑک پر لیٹ گئے  کہ جلدی گاڑی کو اوپر بلایا جائے۔کچھ ساتھی گاڑی میں بیٹھ گئے لیکن کچھ باز نہیں آئے اور چلتے رہے ہمارے پہنچنے کے ٹھیک 5 منٹ بعد فہد بھائی کی کال آئی کےجناب ہماری بس ہو گئی ہے چناچہ گاڑی کو نیچے بھیجا جائے۔
شوگران سے ملکہ کوہسار نانگہ پربت کا منظر دل موہ لینے والاتھا۔ہوا میں خنکی بھی کافی تھی۔اور بھوک کے مارے پیٹ میں چوہے گردش کر رہے تھے۔اسی گردش کو روکنے کے لیے
«پہلے پیٹ پوجا فِر کام دوجا»
کے فارمولے کا اطلاق کیا گیا اور ایک ہوٹل میں تمام 18 افراد  سے مشاورت کے بعد مینیو فائنل کیاگیا اور دیوانہ وار کھانے کو ختم کیا گیا۔ساتھ ساتھ گرما گرم کوک بھی اپنے مزہ دے رہی تھی۔کھانے کے بعدسری پائے کے لیے جیپوں کا انتظام کیا گیا۔
شوگراں سے سری پائے تک ایک  پہاڑ نما رستے پر روانہ ہو گئے۔رستہ اتنا خراب تھا کہ کھانا  پیٹ میں رقص میں محو رہا۔میں نشست پر کم اور ہوا میں زیادہ رہا۔اللہ اللہ کر کے پائے کا مقام آیا ۔اللہ کا شکر ادا کیا اور آگے چل دیے۔منظر دیکھ کر سفر کی تھکان ختم ہو گئی۔
چاروں جانب برف پوش پہاڑ  سبز پہاڑوں کی اوٹ سے اٹک سے آئے ہوئے  طالب علموں کو دیکھ رہے تھے۔سبز گھاس پر پیلے اور سرخ رنگوں کے پھول اور ہوا میں معلق بادل آنکھوں کو سحر انگیز کر رہے تھے دل چاہ رہا تھا کہ بس  باقی زندگی بھی یہیں بسر ہو لیکن شام کے سائے بڑھتے جا رہے تھے اس لیےاندھیرا پھیلنے سے پہلے ہی وہاں سے واپسی کے لیے شوگراں کی طرف سفر کا آغاز کر دیا۔
پھر وہی جیپ اور ہم اور ہماری قسمت کے دھکے۔خیریہ مرحلہ بھی  جیسے تیسے گزر گیا اور ہم شوگراں پہنچے۔جلدی جلدی اپنی گاڑی میں سوار ہئےاور اٹک کے لیے نیت باندھ لی رستے میں  کئی جگہ گاڑی کی بریکوں کو  بریکوں کو سانس دلوانے کے لیے رکنا پڑا ۔سارے رستے پیچھے بیٹھے ہوئے فاران اور دیگر ساتھیوں نے کاشف بھائی کے صبر کا پورا امتحان لیا۔یہاں تک کہ کاشف بھائی اُٹھ کر فرنٹ سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ جا بیٹھے۔لیکن اٹک  آنے تک ان پرلطیفے اور مزاحیہ کلام کی برسات ہوتی رہی جسے وہ کھلے دل کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔
رات 2 بجے  ہم اٹک پہنچے میرے ساتھ کچھ مہمان اور حاجی شاہ سے تعلق رکھنے والے ایک ساتھی نعمان بھائی بھی تھے اس لیے میں نے رات ہاسٹل گزارنے کی بجائے دفتر میں سونے کا ارادہ کیا۔بستر پر لیٹتے ہی خلاف عادت نیند نے آ لیا اور اس وقت اس سفر نامے کو  مکمل کرنے کے بعد آپ کے سامنے حاضر ہوں۔
تحریر
ملک انس اعوان


(بی –ایس-سی-ایس کامسیٹس اٹک کیمپس)

Aik tafrehe dory ka Ahwal Jald hi Aa Raha hy..(AnaS)

0 comments

اندر کا بُت

0 comments
ہماری سب سے بڑی دشمن ہماری خود ساختہ حدود ہیں۔یہ خود ساختہ حدود ہی ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتیں۔ہمارے سامنے اکثر ایسے حالات آتے ہیں کہ جب ہمیں اپنی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار کرنا ہوتا ہے لیکن اُسی وقت یہ حدود ہمیں ایسا کرنے سے روک دیتی ہیں۔تاریخ نے صلاحیتوں اور قابلیت کو تبھی مانا ہے جب تک کہ اِس کو دنیا کے سامنے نہ لایا جائے اور منوایا نہ جائے۔وگرنہ یہ صلاحتیں بے فائدہ ہیں۔تو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے اندر موجود اس" ڈر " نامی بُت کو توڑیں اور دنیا کو دکھائیں کہ جناب" یہ ہیں ہم"،لیکن یہ بھی یاد رکھیے کہ بہادری اور بے وقوفی میں بلکل معمولی سا فرق ہوتا۔اور اس فرق کو قائم رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔جب اند کا بُت ٹوٹ جائے تو باہر کے بت خود بخود ٹوٹ جاتے ہیں۔اور جب باہر کے بت ٹوٹ جائیں تو منزل قریب تر ہو جاتی ہے۔

کس طرح خوش رہا جائے؟

2 comments
کئی بار زندگی میں ایسے موقعے آتے ہیں کہ آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن طاقت اور قدرت نہ ہونے کے باعث کچھ نہیں کر پاتے۔اور کئی بار ایسی صورت حال بھی پیش آتی ہے کہ آپ کے پاس طاقت بھی ہوتی ہے اور قدرت بھی آپ سب کچھ کر بھی سکتے ہیں، لیکن نہیں کرتےکسی کی کوئی بات کسی کا احساس یا کسی کا امکان آپ کو طاقت ہونے کا باوجود فیصلے بدلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اور یہی مجبوری ہمارے زندہ ہونے کی دلیل ہے۔اسی مجبوری کو تو زندگی کہتے ہیں۔اور اسی مجبوری کو زندی کا عذاب بھی۔ہم آج جس دور میں رہ رہے ہیں اگر اس کو مجبوریوں کا دور کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ہمارے ارد گرد مجبوریاں ہی تو ہیں۔ ہم کہیں معاش ،کہیں سماج اور کہیں اقتصاد میں جکڑے ہوئے ہیں۔ہمارے آپسی معاملات بھی اس سے پاک نہیں ہیں۔مطلب اور لالچ کی مجبوریاں ہمیں ایک ساتھ باندھے رکھتی ہیں ایک ساتھ جوڑے رکھتی ہیں۔جہاں مطلب اور لالچ کی مجبوریاں ختم ہوں ہووہاں رشتے ناتے ،دوستیاں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ پہلے سنا کرتے تھے کہ آنکھیں جھوٹ نہیں بولتیں لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اب چہروں کے ساتھ آنکھیں صرف بدلتی ہی نہیں بلکے جھوٹ بھی بولتی ہیں۔شاید اسی وجہ سے میں ان مجبوریوں کی بھی قدر کرتا ہوں جو ہمیں ایک ساتھ باندھے رکھتی ہیں۔اور ہمیں وقتی سکون مہیا کرتی ہیں۔خلوص تو آج کل ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔اب ایسے حالات میں اگر کوئی مجبوری کے باعث بھی پل دو پل پاس بیٹھ جائے تو یہ بھی غنیمت ہے۔اگر کوئی جھوٹی ہی محبت کرتا ہے توصد شکر کرتا تو ہے
ہماری زیادہ تر پریشانیوں کی وجہ تو  وہ اُمیدیں ہوتی ہیں جو ہم  چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے لگا لیتے ہیں اور دنیا کا یہ اٹل اُصول ہے کہ وہ سب کچھ نہیں دیتی ،ہر بار خواہشات پوری نہیں کرتی۔اور جب یہ خواہشات اور امیدیں پوری نہیں ہوتیں تو انسان بکھرنے لگتا ہے۔چناچہ اگر زندگی میں خوش رہنا ہو تو لوگوں سے امیدیں مت باندھیے۔مجبوریوں کو مجبوری نہیں بلکے آسائش کا ایک ذریعہ سمجھیے۔جو ہو چکا ہے اسے بھولنے کی کوشش کیجیے جو ہونے والا ہے اُس پر نظر رکھیے۔بارکییوں سے دور رہیے یقین محکم ہے کہ آپ ہمیشہ خوش رہیں گےبشرطے کہ آپ حساس طبعیت کے مالک نہیں ہیں۔
تحریر

ملک انس اعوان

وہ قطرہ ایک بارش کا

0 comments
وہ ھنستے دیس کا باسی
وہ قطرہ ایک بارش کا
نکل کر اپنے گلشن سے
ناجانے کیوں نکلتا ہے
بھلے کیا ضرورت ہے
ہوا میں کود جانے کی
آدمی کی خاک آلودہ زمینوں پر
سرکو پٹخنے کی
بھلے کیا ضرورت ہے؟


دنیا اور دیوانہ

0 comments



دنیا جو بھی کرے وہ صحیح ہوتا ہے کیوں کے وہ رواج ہوتا ہے اور جو اس کی مخالفت کرے وہ پاگل .چا ہے وہ کتنا ہی درست کیوں نہ ہو .چا ہے وو کتنی ہی سچائی کا مالک کیوں نہ ہو .یہی تو قصور ہے اسکا کے وہ دنیا کے مخالف کیوں سوچتا ہے .کیوں دستور دنیا کی خلاف عمل کرتا ہے
یقینن اسے اسی کی سزا ملتی ہے
.

چاہے وہ کوئی جان ایلیاء ہی کیوں نہ ہو یا کسی سڑک کے کنارے پڑا  ہوا ساغرؔ۔
ملک انس اعوان

محبت

0 comments

اس عشق  اور الفت  کا کیا فائدہ  جو اپ کو دوسروں کی عزت  کرنا، احساسات  کو سمجھنا اور رویوں  پر مناسب رد  عمل  کرنا نہ سکھائے .کوئی فائدہ نہیں  ایسی چند روزہ محبّت کا جس کے بعد  کسی معصوم کا  مستقبل داؤ پر لگ جائے .جب تک پاکیزگی  کا عنصر  نہیں پایا جائے گا تب تک یہ الفت  شخصیت  میں بگاڑ  اور  توڑ پھوڑ پیدا کرتی ہے .اور اس بگاڑ سے  صرف اس  فرد واحد ہی کی  نہیں  بلکے پورے معاشرے میں موجود اس سے  منسلک  تمام افراد  متاثر ہوتے ہیں .صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا ہے  اور  تخلیق  ناپید  ہو جاتی ہے
قصّہ مختصر
 ادب  پہلا قرینہ  ہے محبت  کے قرینوں میں
از ملک انس اعوان حزبی 


جمعیت محبتوں کا امیں قبیلہ(ایک آپ بیتی)

1 comments
آج سے کئی ماہ پہلے ایک کام سے  پشاور جانا پڑا۔حیات آباد سے واپسی کے لیے ٹیکسی کے انتظار میں سڑک کے کنارے کھڑا ہو گیا ۔کچھ دیر بعد ایک ٹیکسی پاس آ کر رکی اور ایک  ہلکی سی داڑھی والانوجوان گاڑی سے باہر آیا اور مجھ سے پوچھا  کہ بھائی آپ کہاں جائیں گے۔میں نے پشاور اڈے کا بتایا اور خلاف معمول پیسے طے کیے بغیر بیٹھ گیا۔دوران سفر مجھے اٹک جمعیت کے ناظم مقام برادر وقاص چغتائی کا فون آیا ۔فون سننے کے بعد جیسے ہی موبائل جیب میں رکھا وہ ٹیکسی چلانے والا نوجوان بولا کہ "ناظم صاحب  کیا حال ہے؟" میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ آپ مجھے کیسے جانتے ہیں۔تو وہ بولا کہ جس طریقے سے آپ بات کر رہے تھے اور جو ٹیپیکل الفاظ استعمال کر رہے تھے وہ صرف جمعیت والے ہی  استعمال کرتے ہیں۔اس بھائی نے مزید بتایا کہ میں بھی اسلامی جمعیت طلبہ کا کارکن ہوں اور حیات آباد کالج میں ایف ،ایس، سی (میڈیکل) کا طالب علم ہوں۔پھر کیا تھا
خوب بنے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو

سارے رستے خوب گفگو رہی ۔اس بھائی نے مزید بتایا کہ میں خیبر ایجنسی کا رہنے والا ہوں اور اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیکسی چلاتا ہوں۔منزل پر پہنچنے کے بعد اس بھائی نے پیسسے لینے سے انکار کر دیا لیکن میں نے زبر دستی پیسے پکڑائے اور واپسی کے لیے بس میں سوار ہو گیا۔لیکن سارے رستے میں سوچتا رہا کہ جمعیت کیسا الفت و مھبت کا رشتہ ہے کہ جس میں رنگ ،نسل ،زبان ، لباس کا کوئی فرق نہیں ۔
کہاں وہ خیبر ایجنسی کا رہنے والا ایک طالب علم اور کہاں وسطی پنجاب کا رہنے والا ایک  معمولی سا طالب علم ۔نہ کوئی رشتہ داری نہ کوئی  لسانی اور نسلی تعلق لیکن  پھر بھی حقیقی بھائیوں کی سی محبت  اور پیار۔ آج میں فخر سے کہتا  ہوں کہ میری شناخت صرف اسلامی جمعیت طلبہ کی وجہ سے ہے۔آج اگر میری کچھ پہچان ہے تو وہ انس اعوان کی حیثیت سے نہیں بلکہ "اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان" کے ایک عدنی' سے کارکن کی حیثیت سے ہے۔
انس اعوان

ایک دوست کے نام

0 comments


مجھے احساس ہے

 وقت  کے گزرنے  کا

یہاں ہر وقت  اور ہر پل

 موسم کے بدلنے کا

کبھی  رم جھم   کبھی سورج

 کبھی  بادل کبھی ساون

  مگر تم جان جاؤ گے

یہ سب کچھ  مان جاؤ  گے

کے باہر کا جو موسم  ہے

کبھی اسکے بدلنے  سے

جو اپنے  دل میں ہوتا ہے

جو اک یار  سچا  ہے

کبھی بھی تنگ نہیں  کرتے

که یہ وہ  لوگ ہوتے  ہیں

جو مڑ کر  آ تو جاتے  ہیں

مگر کچھ اس ادا  سے که

وہ پہچانے  نہیں جاتے

وہ ایسے کرب  میں ہوتے ہیں

سمبھالے  نہیں جاتے

 وہ اکثر ٹوٹ جاتے ہیں

ہوں برتن  کانچ  کے جسے

تم کو معلوم  ہی ہو گا

کسی حسرت کے  مارے وہ بھی

بانہیں  کھول دیتا ہے

کوئی اس کے روپ میں آ کر

اسے فریب دیتا ہے

وہ بھی معصوم دنیا  کا

یہ سب کچھ مان  لیتا ہے

سبھی سے جیت  کر بھی وہ

ہاں  اکثر  ہار لیتا  ہے

نجانے  کونسی دنیا  کے

راستے کھوج لیتاہے

بھری دنیا  کے چہرے  سے

وہ مطلب نوچ  لیتا ہے

مگر پھر  بات  ووہی ہی  سی ہے

کے باہر کا جو موسم  ہے

کبھی اسکے بدلنے  سے

جو اپنے  دل میں ہوتا ہے

جو اک یار  سچا  ہے

کبھی بھی تنگ نہیں  کرتے 
------
ملک انس اعوان

طالب علم اور سیاست

0 comments

آج کل اکثر سننے  کو اکثر ملتا ہے کے طلبہ کو سیاست سے دور رہنا چاہے .واہ کیا کمال سوچ ہے .آج اپ کسی بھی طالب علم کو روک کر پوچھ لیں کے جناب محترم آپ کے ملک میں کیا چل رہا ہے تو وہ آپ کو پہلے گھور کر دیکھے گا  کے جناب آپ کی طبیت تو ٹھیک ہے .طالب علم کا اس سے کیا کام .حلانکے  اسی طالب علم نے مستقبل میں آپ کے ملک و ملّت کی بھاگ دوڑ سمبھالنی ہے .اسی وجہ سے ہمارے ملک میں سیاست  کی نہ پختگی  ابھی بھی برقرار  ہے.ابھی بھی اصول  پسند  اور نظریاتی سیاست دانوں کا فقدان ہے.ہم سب سے زیادہ اپنے دشمن خود ہیں . ملک انس اعوان 

تلاش اُسکو نہ کر بتوں میں۔۔۔۔!

0 comments

اگر آپ سائنس کے طالب علم ہیں تو یقینی طور پر آپ یہ جانتے ہوں گے کہ اگر لوہے کے بہت بڑے ٹکڑے کا معائنہ کیا جائے اور اس کے ساتھ ہی ایک انتہائی چھوٹے سے ٹکڑے کا  بھی معائنہ کیا جائے تو دونوں  کی خصوصیات ایک سی ہو  ں گی۔بلکہ نظر بھی نہ آنے والے لوہے کے ایٹم میں بھی اُسی تناسب کے ساتھ اجزاء شامل ہوں گے جس تناست کے ساتھ ایک بڑے حصے میں موجود ہوتے ہیں۔بلکل یہی معاملہ ہمارے ارد گرد موجود قدرت کے اندر ہے۔قدرت کی چھوٹی سے چھوٹی چیز میں بھی  بنانے والے کا جلوہ نظر آتا ہے۔ہر چیز خالق کی کبریائی اور عظمت کی گواہی دیتی نظر آتی ہے۔چاہے وہ بلند وبالا پہاڑ ہوں یا سمندر کی تہہ میں ہزارں فُٹ نیچے  موجود ایک چھوٹی سی مچھلی ہر چیز میں چاہے وہ جان دار ہو یا بے جان خدا کا جلوہ موجود ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ  حسن دیکھنے والی آنکھ میں ہوتا ہےاور یہی حقیقت بھی ہے۔ایک ہی منظر ہوتا ہےلیکن  اُس کا اثر مختلف  ہوتا ہے مثال کے طور جب  ایک ہی منظر ایک شاعر اور ایک کسان کے سامنے رکھا جائے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ  شاعر اُس منظر کی خوبصورتی ،رنگوں کے کھیل اور اُتار  چڑھاؤ کو اپنے الفاظ میں ڈھال دے گا ۔جبکہ ایک کسان یہ سوچنا شروع کر دے گا کہ اس زمین میں کونسی فصل کاشت کی جائے تو مناست فائدہ حاصل ہو گا۔یعنی  کہ اچھائی ہو یا برائی دونوں کے لیے ایک ہی جہان ہے۔کافر کے لیے بھی ایک ہی جہان ہے اور مومن کے لیے بھی ۔کافر اگر پوری کائنات ،آسمان ،چاند اور ستارے بھی دیکھ لے تو اُسے کہیں بھی خدا نظر نہیں آتا جبکہ ایک اہل نظر کو ایک پھول میں ہی   پوری کائنات نظر آ جاتی ہے۔پوری کائنات کا جلوہ ایک  ہی نظر کو مطمئن کرنے کے لیے پھول کی پتیوں سمٹ جاتا ہے۔کوہ طور تو اب بھی موجود ہے اُس میں اب بھی کوئی خاص بات نہیں ہے خاص بات اور کمال تو  حضرت موسیؑ کلیم اللہ میں تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نیک بندےقدرت کے قریب رہتے ہیں۔کیونکہ  قدرت اللہ تعالی کی ڈائرکٹ  تخلیق ہے۔یہ شہر یہ مکان اور ان شہروں اور مکانوں میں رہنے والے لوگوں کے رویے یہ سب کچھ تو اب  مصنوعی پن کا شکار ہو چکے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ  جب کسی سے محبت ہو جائے تو اُس کی ہر چیز سے محبت ہو جاتی ہے۔محبوب کے  قریب کی چیزوں سے محبوب کی خوشبو آتی ہے۔ امام َکائنات  حضرت محمد ﷺ  بھی ایک عرصے تک  غار ِ حرا میں انسانوں سے دور  اللہ تعالی کی عبادت کرتے رہے اور قدرت کے قریب رہے (لیکن اس کا مطلب ہر گز رہبانیت نہیں ہے)۔یہ زمین بھی وہی ہے ،آسمان بھی وہی ہے،ستارے بھی وہی ہیں ،نظارے بھی وہی ہیں اور خدا بھی وہی ہے۔بس اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ ہے غور کرنے کی،سوچنے کی،تدبر کرنے کی اپنے ارد گرد موجود چیزوں میں خدا کو تلاش کرنےکی۔وہی خدا ہے جو آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے،اپنے پیاروں کی پیاس بجھانے کے لیے زمین سے چشمے جاری کر دیتا ہے ،ابابیلوں سے ایک لشکر کو شکست دلواتا ہےوہ اب بھی دنیا و مافیہا   پر قادر ہے۔اُس کے لیے اب بھی کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔وہ تو  اب بھی دیکھ رہا ہے ہے کہ ہے کوئی میری قدرت اور تخلیق پر غور کرنے والا ،ہے کوئی مجھسے مانگنے والا،مجھسے فریاد کرنے والا۔رب تو کہتا ہے کہ اگر تم میری طرف ایک قدم آؤ گے تو میں تمہاری طرف دو  قدم آؤں گا۔تم چل کر آؤ گے تو میں دوڑ کر آؤں گا۔کنتے بد نصیب ہیں ہم ،سب کو دینے والا ہمیں دینے کے لیے تیار ہے لیکن ہم مانگنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔افسوس کہ ہمارا  رویہ ایک سائل کی طرح ہے ایک طالب کی طرح نہیں۔سائل تو دروازے پر آتا ہے اور سوال کرتا ہے سوال کے بدلے میں  کچھ حاصل  ہو یا نہ ہو آخر کار اپنے  ٹھکانے لوٹ جاتا ہے۔لیکن طالب کا کام طلب کرتے رہنا ہے مالک کے در پر بیٹھے رہنا ہے۔کچھ ملے یا نہ ملے مانگتے رہنا ہے فریاد کرتے رہنا ہے۔کیونکہ
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ  نا ہم بھی سیر  کریں کوہ طور       کی
تحریر                                                                                                                                                   
ملک انس اعوان حزبی

لال مسجد

0 comments
اُسی اک لال مسجد کی
شکستہ تر دیواروں پر
کرا کر خون کی ہولی
امیر شہر ہنستا تھا
بتا تا تھا کہ ائے لوگو
یہ دہشت گرد ہیں سارے
شریعت کے یہ دیوانے
شدت پسند ہیں سارے
چلا کر حکم کی گولی
امیر شہر ہنستا تھا
مگر  اب کیا ہوا تم کو
وہی ہےمعاملہ درپیش
چلا دو گولیاں ان پر
کچل دو ا نقلابوں کو
مگر میں بھول جاتا ہوں
کہ ان کا جرم ہی کیا ہے
کہ یہ قرآن کی باتیں
شریعت کی نہیں کرتے
محمد ﷺ کے  نظام کی
کبھی  تائید نہیں کرتے
تو ان کو حق پہنچتا ہے
جلادیں سب اداروں کو
کہ آخر بوٹ کی خوشبو
انہیں محسور کرتی ہے
کہ ڈالر کی اک زنجیر
انہیں مجبور کرتی ہے
یہ تو کٹھ پتلیاں ساری
غیرت و دین سے عاری
نچا کر عزتیں اپنی
یہاں انقلاب لائیں گے
دیں گے مادر پدر آزادی
نئی دنیا سجائیں گے
کہ  یہ کنٹینروں سے اب
نئی تہذیب لائیں گے
کہ اس  با ذوق امت کو
سبق نئے پڑھائیں گے
بھائی روشن خیالی کی
نئی راہیں دکھائیں گے
ہمارے زندہ ضمیروں کو
یہ بوٹوں سے دبائیں  گے
ہماری عزتیں بہنیں
امریکہ بھجوئیں گے
مگر ایسا نہی ہو گا
ظلم پھر ظلم ہوتا ہے
اور فطرت ظلم کی یہ ہے
کہ جب یہ حد سے بڑھتا ہے
تو لوگوں ہم نے دیکھا ہے
کوئی قاسم ؒ   اُٹھتا ہے
نکل کر خانقاہوں سے
کوئی بن زیاد ؒ اُٹھتا ہے
ابھی بھی وقت ہے تم کو
خدا کی رسی ڈھیلی ہے
قیامت بھی تو آنی ہے
حساب  بھی تو چُکانا ہے
ہمارے ہاتھ خالی ہیں
مگر خالی ان ہاتھوں میں
کہ جب بھی خون آتا ہے
قیامت بھول جاؤ گے
تمہیں اس ہی دنیا میں
بھگتنا ہے  سزاؤں کو
ابھی فرصت ہے جو کر لو
ابھی قصاص ہونا ہے
ابھی قصاص ہونا ہے
کٹے معصوم بچوں کا
بڑے وکٹری نشانون کا
بس اتنا یاد رکھنا کہ
ابھی قصاص ہونا ہے
(ملک انس اعوان)