تلاش اُسکو نہ کر بتوں میں۔۔۔۔!

0 comments

اگر آپ سائنس کے طالب علم ہیں تو یقینی طور پر آپ یہ جانتے ہوں گے کہ اگر لوہے کے بہت بڑے ٹکڑے کا معائنہ کیا جائے اور اس کے ساتھ ہی ایک انتہائی چھوٹے سے ٹکڑے کا  بھی معائنہ کیا جائے تو دونوں  کی خصوصیات ایک سی ہو  ں گی۔بلکہ نظر بھی نہ آنے والے لوہے کے ایٹم میں بھی اُسی تناسب کے ساتھ اجزاء شامل ہوں گے جس تناست کے ساتھ ایک بڑے حصے میں موجود ہوتے ہیں۔بلکل یہی معاملہ ہمارے ارد گرد موجود قدرت کے اندر ہے۔قدرت کی چھوٹی سے چھوٹی چیز میں بھی  بنانے والے کا جلوہ نظر آتا ہے۔ہر چیز خالق کی کبریائی اور عظمت کی گواہی دیتی نظر آتی ہے۔چاہے وہ بلند وبالا پہاڑ ہوں یا سمندر کی تہہ میں ہزارں فُٹ نیچے  موجود ایک چھوٹی سی مچھلی ہر چیز میں چاہے وہ جان دار ہو یا بے جان خدا کا جلوہ موجود ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ  حسن دیکھنے والی آنکھ میں ہوتا ہےاور یہی حقیقت بھی ہے۔ایک ہی منظر ہوتا ہےلیکن  اُس کا اثر مختلف  ہوتا ہے مثال کے طور جب  ایک ہی منظر ایک شاعر اور ایک کسان کے سامنے رکھا جائے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ  شاعر اُس منظر کی خوبصورتی ،رنگوں کے کھیل اور اُتار  چڑھاؤ کو اپنے الفاظ میں ڈھال دے گا ۔جبکہ ایک کسان یہ سوچنا شروع کر دے گا کہ اس زمین میں کونسی فصل کاشت کی جائے تو مناست فائدہ حاصل ہو گا۔یعنی  کہ اچھائی ہو یا برائی دونوں کے لیے ایک ہی جہان ہے۔کافر کے لیے بھی ایک ہی جہان ہے اور مومن کے لیے بھی ۔کافر اگر پوری کائنات ،آسمان ،چاند اور ستارے بھی دیکھ لے تو اُسے کہیں بھی خدا نظر نہیں آتا جبکہ ایک اہل نظر کو ایک پھول میں ہی   پوری کائنات نظر آ جاتی ہے۔پوری کائنات کا جلوہ ایک  ہی نظر کو مطمئن کرنے کے لیے پھول کی پتیوں سمٹ جاتا ہے۔کوہ طور تو اب بھی موجود ہے اُس میں اب بھی کوئی خاص بات نہیں ہے خاص بات اور کمال تو  حضرت موسیؑ کلیم اللہ میں تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نیک بندےقدرت کے قریب رہتے ہیں۔کیونکہ  قدرت اللہ تعالی کی ڈائرکٹ  تخلیق ہے۔یہ شہر یہ مکان اور ان شہروں اور مکانوں میں رہنے والے لوگوں کے رویے یہ سب کچھ تو اب  مصنوعی پن کا شکار ہو چکے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ  جب کسی سے محبت ہو جائے تو اُس کی ہر چیز سے محبت ہو جاتی ہے۔محبوب کے  قریب کی چیزوں سے محبوب کی خوشبو آتی ہے۔ امام َکائنات  حضرت محمد ﷺ  بھی ایک عرصے تک  غار ِ حرا میں انسانوں سے دور  اللہ تعالی کی عبادت کرتے رہے اور قدرت کے قریب رہے (لیکن اس کا مطلب ہر گز رہبانیت نہیں ہے)۔یہ زمین بھی وہی ہے ،آسمان بھی وہی ہے،ستارے بھی وہی ہیں ،نظارے بھی وہی ہیں اور خدا بھی وہی ہے۔بس اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ ہے غور کرنے کی،سوچنے کی،تدبر کرنے کی اپنے ارد گرد موجود چیزوں میں خدا کو تلاش کرنےکی۔وہی خدا ہے جو آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے،اپنے پیاروں کی پیاس بجھانے کے لیے زمین سے چشمے جاری کر دیتا ہے ،ابابیلوں سے ایک لشکر کو شکست دلواتا ہےوہ اب بھی دنیا و مافیہا   پر قادر ہے۔اُس کے لیے اب بھی کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔وہ تو  اب بھی دیکھ رہا ہے ہے کہ ہے کوئی میری قدرت اور تخلیق پر غور کرنے والا ،ہے کوئی مجھسے مانگنے والا،مجھسے فریاد کرنے والا۔رب تو کہتا ہے کہ اگر تم میری طرف ایک قدم آؤ گے تو میں تمہاری طرف دو  قدم آؤں گا۔تم چل کر آؤ گے تو میں دوڑ کر آؤں گا۔کنتے بد نصیب ہیں ہم ،سب کو دینے والا ہمیں دینے کے لیے تیار ہے لیکن ہم مانگنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔افسوس کہ ہمارا  رویہ ایک سائل کی طرح ہے ایک طالب کی طرح نہیں۔سائل تو دروازے پر آتا ہے اور سوال کرتا ہے سوال کے بدلے میں  کچھ حاصل  ہو یا نہ ہو آخر کار اپنے  ٹھکانے لوٹ جاتا ہے۔لیکن طالب کا کام طلب کرتے رہنا ہے مالک کے در پر بیٹھے رہنا ہے۔کچھ ملے یا نہ ملے مانگتے رہنا ہے فریاد کرتے رہنا ہے۔کیونکہ
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ  نا ہم بھی سیر  کریں کوہ طور       کی
تحریر                                                                                                                                                   
ملک انس اعوان حزبی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔