کس طرح خوش رہا جائے؟

2 comments
کئی بار زندگی میں ایسے موقعے آتے ہیں کہ آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن طاقت اور قدرت نہ ہونے کے باعث کچھ نہیں کر پاتے۔اور کئی بار ایسی صورت حال بھی پیش آتی ہے کہ آپ کے پاس طاقت بھی ہوتی ہے اور قدرت بھی آپ سب کچھ کر بھی سکتے ہیں، لیکن نہیں کرتےکسی کی کوئی بات کسی کا احساس یا کسی کا امکان آپ کو طاقت ہونے کا باوجود فیصلے بدلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اور یہی مجبوری ہمارے زندہ ہونے کی دلیل ہے۔اسی مجبوری کو تو زندگی کہتے ہیں۔اور اسی مجبوری کو زندی کا عذاب بھی۔ہم آج جس دور میں رہ رہے ہیں اگر اس کو مجبوریوں کا دور کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ہمارے ارد گرد مجبوریاں ہی تو ہیں۔ ہم کہیں معاش ،کہیں سماج اور کہیں اقتصاد میں جکڑے ہوئے ہیں۔ہمارے آپسی معاملات بھی اس سے پاک نہیں ہیں۔مطلب اور لالچ کی مجبوریاں ہمیں ایک ساتھ باندھے رکھتی ہیں ایک ساتھ جوڑے رکھتی ہیں۔جہاں مطلب اور لالچ کی مجبوریاں ختم ہوں ہووہاں رشتے ناتے ،دوستیاں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ پہلے سنا کرتے تھے کہ آنکھیں جھوٹ نہیں بولتیں لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اب چہروں کے ساتھ آنکھیں صرف بدلتی ہی نہیں بلکے جھوٹ بھی بولتی ہیں۔شاید اسی وجہ سے میں ان مجبوریوں کی بھی قدر کرتا ہوں جو ہمیں ایک ساتھ باندھے رکھتی ہیں۔اور ہمیں وقتی سکون مہیا کرتی ہیں۔خلوص تو آج کل ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔اب ایسے حالات میں اگر کوئی مجبوری کے باعث بھی پل دو پل پاس بیٹھ جائے تو یہ بھی غنیمت ہے۔اگر کوئی جھوٹی ہی محبت کرتا ہے توصد شکر کرتا تو ہے
ہماری زیادہ تر پریشانیوں کی وجہ تو  وہ اُمیدیں ہوتی ہیں جو ہم  چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے لگا لیتے ہیں اور دنیا کا یہ اٹل اُصول ہے کہ وہ سب کچھ نہیں دیتی ،ہر بار خواہشات پوری نہیں کرتی۔اور جب یہ خواہشات اور امیدیں پوری نہیں ہوتیں تو انسان بکھرنے لگتا ہے۔چناچہ اگر زندگی میں خوش رہنا ہو تو لوگوں سے امیدیں مت باندھیے۔مجبوریوں کو مجبوری نہیں بلکے آسائش کا ایک ذریعہ سمجھیے۔جو ہو چکا ہے اسے بھولنے کی کوشش کیجیے جو ہونے والا ہے اُس پر نظر رکھیے۔بارکییوں سے دور رہیے یقین محکم ہے کہ آپ ہمیشہ خوش رہیں گےبشرطے کہ آپ حساس طبعیت کے مالک نہیں ہیں۔
تحریر

ملک انس اعوان

2 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔