کئی بار زندگی میں ایسے موقعے آتے ہیں کہ آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن طاقت اور قدرت نہ ہونے کے باعث کچھ نہیں کر پاتے۔اور کئی بار ایسی صورت حال بھی پیش آتی ہے کہ آپ کے پاس طاقت بھی ہوتی ہے اور قدرت بھی آپ سب کچھ کر بھی سکتے ہیں، لیکن نہیں کرتےکسی کی کوئی بات کسی کا احساس یا کسی کا امکان آپ کو طاقت ہونے کا باوجود فیصلے بدلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اور یہی مجبوری ہمارے زندہ ہونے کی دلیل ہے۔اسی مجبوری کو تو زندگی کہتے ہیں۔اور اسی مجبوری کو زندی کا عذاب بھی۔ہم آج جس دور میں رہ رہے ہیں اگر اس کو مجبوریوں کا دور کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ہمارے ارد گرد مجبوریاں ہی تو ہیں۔ ہم کہیں معاش ،کہیں سماج اور کہیں اقتصاد میں جکڑے ہوئے ہیں۔ہمارے آپسی معاملات بھی اس سے پاک نہیں ہیں۔مطلب اور لالچ کی مجبوریاں ہمیں ایک ساتھ باندھے رکھتی ہیں ایک ساتھ جوڑے رکھتی ہیں۔جہاں مطلب اور لالچ کی مجبوریاں ختم ہوں ہووہاں رشتے ناتے ،دوستیاں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ پہلے سنا کرتے تھے کہ آنکھیں جھوٹ نہیں بولتیں لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اب چہروں کے ساتھ آنکھیں صرف بدلتی ہی نہیں بلکے جھوٹ بھی بولتی ہیں۔شاید اسی وجہ سے میں ان مجبوریوں کی بھی قدر کرتا ہوں جو ہمیں ایک ساتھ باندھے رکھتی ہیں۔اور ہمیں وقتی سکون مہیا کرتی ہیں۔خلوص تو آج کل ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔اب ایسے حالات میں اگر کوئی مجبوری کے باعث بھی پل دو پل پاس بیٹھ جائے تو یہ بھی غنیمت ہے۔اگر کوئی جھوٹی ہی محبت کرتا ہے توصد شکر کرتا تو ہے
ہماری زیادہ تر پریشانیوں کی وجہ تو وہ اُمیدیں ہوتی ہیں جو ہم چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے لگا لیتے ہیں اور دنیا کا یہ اٹل اُصول ہے کہ وہ سب کچھ نہیں دیتی ،ہر بار خواہشات پوری نہیں کرتی۔اور جب یہ خواہشات اور امیدیں پوری نہیں ہوتیں تو انسان بکھرنے لگتا ہے۔چناچہ اگر زندگی میں خوش رہنا ہو تو لوگوں سے امیدیں مت باندھیے۔مجبوریوں کو مجبوری نہیں بلکے آسائش کا ایک ذریعہ سمجھیے۔جو ہو چکا ہے اسے بھولنے کی کوشش کیجیے جو ہونے والا ہے اُس پر نظر رکھیے۔بارکییوں سے دور رہیے یقین محکم ہے کہ آپ ہمیشہ خوش رہیں گےبشرطے کہ آپ حساس طبعیت کے مالک نہیں ہیں۔
تحریر











بہت خوبصورت ، ماشاء اللہ
اردو بلاگنگ میں خوش آمدید
آپکی حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ