یہ ایک چھوٹا سا پسماندہ سا گاؤں ہے۔جہاں بنیادی ضروریات زندگی بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ہر گھر میں بے روزگار لوگ ہیں جو صبح و شام اہنے مقدر کو کوستے رہتے ہیں۔اور سوچتے رہتے ہیں کہ کس طرح اس گاؤں سے بھاگ کر شہر چلے جائیں اور اور اپنے بچوں کے پیٹ پال سکیں۔
ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ ایک مداری والا آتاہے اور چوک کے اندر کھڑے ہو کر ڈھول کی تاپ پر سانپ کا ناچ دکھانے لگ جاتا ہے۔گاؤں کے بے شعور بچے دیونہ وار اس جگہ پہنچ کر دائرہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں۔آہستہ آہستہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی چو راہے میں آ جاتے ہیں لیکن بزرگ اس معاملے پر خاموش اختیار کرتے ہیں اور گھروں میں ہی بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔اتنے میں ایک اورمداری والا آتا ہے اور چوراہے میں بلکل سامنے ہی اپنے فن ِ زبان و بیان کا مظاہرہ شروع کر دیتا ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی بڑی تعداد دونوں کے گرد اکٹھی ہو جاتی ہے۔دونوں کافی دیر تک اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں آخر شام کے وقت دونوں مداری گاؤں کےسادہ لوح لوگوں سے پیسے اکٹھے کرتے ہیں اور کسی اور گاؤں کی تلاش میں چل پڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔