اُسی اک لال مسجد کی
شکستہ تر دیواروں پر
کرا کر خون کی ہولی
امیر شہر ہنستا تھا
بتا تا تھا کہ ائے لوگو
یہ دہشت گرد ہیں سارے
شریعت کے یہ دیوانے
شدت پسند ہیں سارے
چلا کر حکم کی گولی
امیر شہر ہنستا تھا
مگر اب کیا ہوا تم کو
وہی ہےمعاملہ درپیش
چلا دو گولیاں ان پر
کچل دو ا نقلابوں کو
مگر میں بھول جاتا ہوں
کہ ان کا جرم ہی کیا ہے
کہ یہ قرآن کی باتیں
شریعت کی نہیں کرتے
محمد ﷺ کے نظام کی
کبھی تائید نہیں کرتے
تو ان کو حق پہنچتا ہے
جلادیں سب اداروں کو
کہ آخر بوٹ کی خوشبو
انہیں محسور کرتی ہے
کہ ڈالر کی اک زنجیر
انہیں مجبور کرتی ہے
یہ تو کٹھ پتلیاں ساری
غیرت و دین سے عاری
نچا کر عزتیں اپنی
یہاں انقلاب لائیں گے
دیں گے مادر پدر آزادی
نئی دنیا سجائیں گے
کہ یہ کنٹینروں سے اب
نئی تہذیب لائیں گے
کہ اس با ذوق امت کو
سبق نئے پڑھائیں گے
بھائی روشن خیالی کی
نئی راہیں دکھائیں گے
ہمارے زندہ ضمیروں کو
یہ بوٹوں سے دبائیں گے
ہماری عزتیں بہنیں
امریکہ بھجوئیں گے
مگر ایسا نہی ہو گا
ظلم پھر ظلم ہوتا ہے
اور فطرت ظلم کی یہ ہے
کہ جب یہ حد سے بڑھتا ہے
تو لوگوں ہم نے دیکھا ہے
کوئی قاسم ؒ اُٹھتا ہے
نکل کر خانقاہوں سے
کوئی بن زیاد ؒ اُٹھتا ہے
ابھی بھی وقت ہے تم کو
خدا کی رسی ڈھیلی ہے
قیامت بھی تو آنی ہے
حساب بھی تو چُکانا ہے
ہمارے ہاتھ خالی ہیں
مگر خالی ان ہاتھوں میں
کہ جب بھی خون آتا ہے
قیامت بھول جاؤ گے
تمہیں اس ہی دنیا میں
بھگتنا ہے سزاؤں کو
ابھی فرصت ہے جو کر لو
ابھی قصاص ہونا ہے
ابھی قصاص ہونا ہے
کٹے معصوم بچوں کا
بڑے وکٹری نشانون کا
بس اتنا یاد رکھنا کہ
ابھی قصاص ہونا ہے
(ملک انس اعوان)











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔