سفر ہمیشہ تجربات سے بھر پور ہوتا ہے ۔قدم
قدم پر بہت کچھ سیکھنے کا موقعہ ملتا ہے۔اور میں اکثر انہی موقعوں کی تلاش میں
رہتا ہوں کہ کب مجھے کسی خوبصورت منزل کی طرف سفر کرنے کا موقعہ
ملے۔کیونکہ میرا ماننا یہ ہے کہ منزل جتنی خوبصورت ہوگی سفر اتنا ہی مشکل لیکن
نصیحت آموز ہوگا۔چناچہ اسی طلب کو پورا کرنے کے لیےایک کلب کا قیام عمل میں لایا
گیا جس کا نام کامسیٹس سٹوڈنٹ ایڈوینچر کلب
رکھا گیا۔جس میں اس بندہ نا چیز کو
بھی شامل کیا گیا۔اس بار ہماری منزل اٹک سے قریباً 216کلومیٹر دور شوگران (سری پائے) مورخہ 13
ستمبر اور 2014روانگی کا وقت نماز ِفجر کے
بعد طے پایا گیا۔
حسب معمول
طے شدہ تاریخ پر میری شب،شبِ بیدار ہی رہی۔صبح نماز کے بعد تمام ساتھیوں کو فون کرکے اُٹھانا پڑا۔کئی تو پہلے سے ہی تیار بیٹھے تھے۔ پورے
پانچ بجے گاڑی ھاسٹل کے باہر آن کھڑی ہوئی۔ کچھ ضروری سامان مثلاً فرسٹ ایڈ
باکس،مشروبات وغیرہ کو گاڑی میں رکھا
اورتمام اشیاء کو رکھنے تک محسن بھائی بھی تیار ہو کر آ گئے اور باقی ساتھیوں کا
انتظار کرنے لگےلاہور سے آئے ہوئے دوست اٹک کینٹ میں میں رہائیش پزیر تھے انہیں
کینٹ گیٹ سے بٹھا لیا گیا۔ہمارے ایک انتہائی چل بل سے ساتھی جن کا نام کاشف خان ہے
وہ مقررہ وقت پر طے شدہ سٹاپ پر آ پہنچے ۔قریباً ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد کاشف
بھائی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور ہو مجھے دھمکی آمیز میسج کرنے لگے ۔حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے
بغیر کوئی وقت ضائع کیے اُنکو سفر میں
شریک کیا۔امیر سفر راجہ سروش بھائی کی سربراہی میں اٹک سے روانہ ہو گئے۔روانگی کا وقت
6:13 تھا۔نفیس بھائی نے بلند آواز میں سفر کی
اجتماعی دعا کروائی اور اور ہم چل دیے۔حسن ابدال سے گزرتے وقت پولیس ناکے
پر ہمیں روک لیا گیا لیکن کامسیٹس کے کارڈ دکھانے پر ہمیں جانے دیا گیا۔اتر شی شاہ
کے مقام پر گاڑی روک کر ایک ہوٹل پر ناشتے کے لیے رک گیے۔میں نے شدید بھوک کے
باوجود بھی ناشتہ نہیں کیا کیونکہ آگے چڑھائی تھی اور ایسےکرنے سے متلی کا ڈر رہتا
ہے۔جیسے ہی چڑھائی شروع ہوئی بریک ٹائروں کی بو نے ناک میں دم کر دیا۔
سڑک کی دونوں اطراف اللہ کی قدرت اپنا جلوہ
دکھا رہی تھی۔بلند و بالا پہاڑوں پر قدرت کا سبز کارپٹ پڑا ہوا تھا۔حد نظر انسان
قدرت سے شکست کھاتا نظر آ رہاتھا۔قدرت اِدھر راستہ روکتی تو انسان دوسری سمت
سےرستہ نکال لیتا۔قدرت اور انسان کی جنگ ہر طرف جلوہ نما تھی۔کہیں کہیں قدرت اور
انسان نے مل کر ایسے خوبصورت منظر ترتیب دیے تھے کہ زبان «سبحان اللہ»کہنے پر
مجبور ہو جاتی۔
خوبصورتی دیکھ کر اکثر نیت خراب ہو جاتی
ہے۔سرمد اعوان کا بھی یہی حال تھا ۔جب منظر مزید خوبصورت ہونے لگے تو بھائی کی نیت
خراب ہو گئی اور اُلٹیاں آنے کا بہانہ کر کے ایک چشمے پر گاڑی کو رکوا لیا۔خوب
تصویریں بنائی گئیں۔
تھوڑا آگےآگے جا کرسروش بھائی نے جوشِ
خطابت میں آکر ایک بہت ہی بڑا پہاڑ لاہور سے آنے والے یونیورسٹی آف لاہور کے دو ساتھیوں اکبر اشرف
اور حسیب اکبر کے نام کر دیا۔لیکن یہ بیان صرف بیان ہی رہا۔
عادل بھائی جو کہ ناشتے میں ٹھیک ٹھاک
پراٹھے کھا چکے تھے وہ اُلٹیوں کی
صورت میں نکالنا شروع کر دیے۔کبھی آگے سے
کوئی بھائی شاپر عنایت فرماتا کبھی کوئی پیچھے سےلیکن یہ معاملہ بھی افہام و تفہیم
سے طے پا گیا۔
سڑک کے
بیشتر چکرلگانے کے بعد آخر کار ہم 2:40 پر شو گراںپہنچ ہی گئے۔بس یہ نہ
پوچھیے کہ کیسے پہنچے؟
گاڑی گرم ہونے کے باعث ہم گاڑی سے اُتر آئے
اور پیدل ہی شوگراں کی طرف چل پڑے لیکن
کچھ ہی دیر بعد سب ساتھی سڑک پر
لیٹ گئے کہ جلدی گاڑی کو اوپر بلایا
جائے۔کچھ ساتھی گاڑی میں بیٹھ گئے لیکن کچھ باز نہیں آئے اور چلتے رہے ہمارے
پہنچنے کے ٹھیک 5 منٹ بعد فہد بھائی کی کال آئی کےجناب ہماری بس ہو گئی ہے چناچہ
گاڑی کو نیچے بھیجا جائے۔
شوگران سے ملکہ کوہسار نانگہ پربت کا منظر
دل موہ لینے والاتھا۔ہوا میں خنکی بھی کافی تھی۔اور بھوک کے مارے پیٹ میں چوہے
گردش کر رہے تھے۔اسی گردش کو روکنے کے لیے
«پہلے پیٹ پوجا فِر کام دوجا»
کے فارمولے کا اطلاق کیا گیا اور ایک ہوٹل
میں تمام 18 افراد سے مشاورت کے بعد مینیو
فائنل کیاگیا اور دیوانہ وار کھانے کو ختم کیا گیا۔ساتھ ساتھ گرما گرم کوک بھی
اپنے مزہ دے رہی تھی۔کھانے کے بعدسری پائے کے لیے جیپوں کا انتظام کیا گیا۔
شوگراں سے سری پائے تک ایک پہاڑ نما رستے پر روانہ ہو گئے۔رستہ اتنا خراب
تھا کہ کھانا پیٹ میں رقص میں محو رہا۔میں
نشست پر کم اور ہوا میں زیادہ رہا۔اللہ اللہ کر کے پائے کا مقام آیا ۔اللہ کا شکر
ادا کیا اور آگے چل دیے۔منظر دیکھ کر سفر کی تھکان ختم ہو گئی۔
چاروں جانب برف پوش پہاڑ سبز پہاڑوں کی اوٹ سے اٹک سے آئے ہوئے طالب علموں کو دیکھ رہے تھے۔سبز گھاس پر پیلے
اور سرخ رنگوں کے پھول اور ہوا میں معلق بادل آنکھوں کو سحر انگیز کر رہے تھے دل
چاہ رہا تھا کہ بس باقی زندگی بھی یہیں
بسر ہو
لیکن شام کے سائے بڑھتے جا رہے تھے اس لیےاندھیرا پھیلنے سے پہلے ہی وہاں سے واپسی
کے لیے شوگراں کی طرف سفر کا آغاز کر دیا۔
پھر وہی جیپ اور ہم اور ہماری قسمت کے
دھکے۔خیریہ مرحلہ بھی جیسے تیسے گزر گیا
اور ہم شوگراں پہنچے۔جلدی جلدی اپنی گاڑی میں سوار ہئےاور اٹک کے لیے نیت باندھ لی
رستے میں کئی جگہ گاڑی کی بریکوں کو بریکوں کو سانس دلوانے کے لیے رکنا پڑا ۔سارے
رستے پیچھے بیٹھے ہوئے فاران اور دیگر ساتھیوں نے کاشف بھائی کے صبر کا پورا
امتحان لیا۔یہاں تک کہ کاشف بھائی اُٹھ کر فرنٹ سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ جا
بیٹھے۔لیکن اٹک آنے تک ان پرلطیفے اور
مزاحیہ کلام کی برسات ہوتی رہی جسے وہ کھلے دل کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔
رات 2 بجے
ہم اٹک پہنچے میرے ساتھ کچھ مہمان اور حاجی شاہ سے تعلق رکھنے والے ایک
ساتھی نعمان بھائی بھی تھے اس لیے میں نے رات ہاسٹل گزارنے کی بجائے دفتر میں سونے
کا ارادہ کیا۔بستر پر لیٹتے ہی خلاف عادت نیند نے آ لیا اور اس وقت اس سفر نامے
کو مکمل کرنے کے بعد آپ کے سامنے حاضر
ہوں۔
تحریر
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔