ساری زندگی بھیڑ میں گزاری۔رونقوں اور محفلوں میں گزاری۔رنگ جمائے گئے اتارے بھی گئے اور چڑھائے بھی گئے، کبھی محفل میں لائے گئے لیکن کبھی نکالے بھی گئے۔جب میں محفل میں ہوتا تو وہ باہر بیٹھ کر میرا انتظار کرتا۔جب میں تنہا ہو جاتا تو وہ میرے ساتھ چلنے لگتا اور مجھے راہ دکھاتا۔لیکن میں نے کبھی اس کی طرف توجہ نہ کی بلکہ ہمیشہ اُسے نظر انداز ہی کرتا رہا۔ میرے اِس رویے سے اُسے کچھ فرق نہ پڑتا۔وہ اُسی طرح میری تنہائوں کا ساتھی بنتا رہا۔وہ بھی کتنا عجیب تھا؟ شاید اسے رونقوں سے ڈر لگتا تھا، وہ ہمیشہ لوگوں سے دور رہتا تھا۔
جیسے ہی میں کسی سے ملتا وہ میرے پاس سے جلدی سے گزر کر کسی جانب غائب ہو جاتا۔اور تب تک سامنے نہ آتا جب تک کہ میں تنہا نہ ہو جاتا۔وہ مجھے سمجھاتا کہ دنیا کے ساتھ کس طرح گزارہ کیا جائے۔وہ مجھے نئے دوست بنانے سے روکتااور اکثر کہتا کہ میں ہی تمہارا دوست اور ساتھی ہوں میری طرف بھی دیکھا کرو۔لیکن شاید مجھے اس کی کسی بات کا اثر نہ ہوتا تھا۔لیکن وہ آہستہ آہستہ میرے اتنے قریب آ گیا کہ مجھے اُس کی عادت ہو گئی۔لیکن اب بھی میں نے کبھی اُس پر دیہان نہیں دیا تھا۔لیکن دل میں ملال سا رہتا کہ آخر وہ کون ہے،کہاں سےآتا ہے اور کہاں چلا جاتا ہے۔
ایک روز جب وہ آیا تو میں نے اُسے روک لیا اور اپنے سامنے بٹھا کر غور سے دیکھنے لگا۔وہ 6 فٹ کا زرا صحت مند جسامت کا حامل تھا۔وہ بلکل میرا ہمشکل تھا لیکن بوڑھا ہو چکا تھا۔میں ٹکٹکی باندھے اُسے دیکھتا رہا آخر اس نے ہی خاموشی کو توڑا اور کہا کہ میں اصل میں تم ہوں۔میں وہ ہوں جو ہر پل تمہارے ساتھ رہتا ہوں۔لیکن تم میری پرواہ نہیں کرتے۔دیکھو آج میں کتنا بوڑھا ہو چکا ہوں تماہرے سا تھ چل چل کہ بوڑھا ہو چکا ہوں۔حالات اور تمہارے نئے سبق سیکھنے کے شوق نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔مجھ پر کئی کتابوں اور خیالوں کا وزن ہے۔ایسے خیالوں کا بھی جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ایسے جزبات کا جن کا کوئی فائدہ نہیں ،ایسی یادوں کا جو اذیت کا باعث ہیں۔
یہ کہتے کہتے وہ رو پڑا ۔میں نے اُسے سہارا دیا اور سوچنے لگا کہ میں کتنا کم ظرف انسان ہوں۔اپنے آپ ہی کو بھول گیا۔اپنے اصل کو ہی دوسروں پر قربان کر دیا۔بدلے میں کیا ملا؟ کچھ بھی نہیں۔اس وقت کے بعد سے اب تک میں صرف اُس ہی کی سنتا ہوں اُسی کی مانتا ہوں،اُسی کے فیصلے پر چلتا ہوں، شاید اسی وجہ سے مجھے ہار پر کبھی دکھ نہیں ہوا۔مین نے کبھی خود کو کسی سے کم تر نہیں سمجھا۔جو من میں آیا وہ کیا ۔جس سے من نے انکار کیا وہ چھوڑ دیا۔شاید یہ اعتماد میرے اُسی دوست کا دیا ہوا ہے۔میں آج جو کچھ بھی ہوں جیسا بھی ہوں اُسی کی وجہ سے ہوں۔میں نے تنہائی کو کاٹنے کا فن بھی اُسی دوست سے سیکھا۔وہی مجھے لکھنے پر مجبور کرتا ہے اور مین لکھتا جاتا ہوں۔اب یہ دوستی مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔اتنی گہری کہ اب لوگوں کی باتیں میرے فیصلوں پر نظر انداز نہیں ہو سکتیں۔کیونکہ
میں اپنا بہترین دوست ہوں











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔