الفاظ

0 comments
الفاظ تو ہمیشہ سے ہی اہم رہے ہیں۔چاہے وہ ادا کر دیے گئے ہوں یا پھر ضبط کر لیے گئے ہوں۔اگر ادا کر دیے گئے ہوں تو اثر انداز ہو جاتے ہیں اور اگر وہ ادا نہ ہو سکیں تو اندر ہی توڑ پھوڑ کر دیتے ہیں۔انکی ایک اپنی قیمت ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی چیز کی قیمت اصل میں خریدار ہی لگاتا ہے۔اسی طرح الفاظ کی قیمت بھی سننے والا یا پڑھنے والا لگاتا ہے۔لکھے یا ادا کیے لفظ اگر مناسب طریقے سے سُنے یا پڑھے نہ جائیں تو  مہمل بن جاتے ہیں جو ادا تو کر دیے جاتے ہیں لیکن مطلب نہیں دیتے۔کئی بار لفظ کچھ نہیں ہوتے لیکن ادا کرنے والی زبان اِنکو انمول بنا دیتی ہے۔ کبھی کبھی ادا کرنے والے معمولی الفاظ کو بھی وزن عطا کر دیتے ہیں۔ لفظ تو ایک سے ہی ہوتے ہیں لیکن ادا کرنے والی زبان اس میں وہ تاثیر پیدا کرتی ہے کہ پتھر کے دل بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور فکر و نظر کی دنیا تبدیل ہو جاتی ہے۔ڈرنا چاہیے الفاظ سے بھی اور اُس سے زیادہ لفظ اداء کرنے والوں سے ۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔