مجھے احساس ہے
وقت کے گزرنے کا
یہاں ہر وقت اور ہر پل
موسم کے بدلنے کا
کبھی رم جھم کبھی سورج
کبھی بادل کبھی ساون
مگر تم جان جاؤ گے
یہ سب کچھ مان جاؤ گے
کے باہر کا جو موسم ہے
کبھی اسکے بدلنے سے
جو اپنے دل میں ہوتا ہے
جو اک یار سچا ہے
کبھی بھی تنگ نہیں کرتے
که یہ وہ لوگ ہوتے ہیں
جو مڑ کر آ تو جاتے ہیں
مگر کچھ اس ادا سے که
وہ پہچانے نہیں جاتے
وہ ایسے کرب میں ہوتے ہیں
سمبھالے نہیں جاتے
وہ اکثر ٹوٹ جاتے ہیں
ہوں برتن کانچ کے جسے
تم کو معلوم ہی ہو گا
کسی حسرت کے مارے وہ بھی
بانہیں کھول دیتا ہے
کوئی اس کے روپ میں آ کر
اسے فریب دیتا ہے
وہ بھی معصوم دنیا کا
یہ سب کچھ مان لیتا ہے
سبھی سے جیت کر بھی وہ
ہاں اکثر ہار لیتا ہے
نجانے کونسی دنیا کے
راستے کھوج لیتاہے
بھری دنیا کے چہرے سے
وہ مطلب نوچ لیتا ہے
مگر پھر بات ووہی ہی سی ہے
کے باہر کا جو موسم ہے
کبھی اسکے بدلنے سے
جو اپنے دل میں ہوتا ہے
جو اک یار سچا ہے
کبھی بھی تنگ نہیں کرتے
------
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔