صحرا کا شیر

0 comments
مختصر افسانہ "2"
وہ ادھیڑ عمر خاتون پریشانی کے عالم میں خیمے کے اندر ٹہل رہی تھی. چند مزید خیموں  اور خواتین کے علاوہ اس تپتے صحرا میں دور دور تک سوائے ریت کے ٹیلوں کے کچھ نظر نہ آتا تھا. جیسے جیسے مغرب کا وقت قریب آ رہا تھا اس کی بے چینی بھی بڑھتی جا رہی تھی.انتہائی ضرورت کا سامان ایک پوٹلی کی صورت میں باندھ کر خیمے کی ایک جانب پڑا ہوا تھا. جیسے ہی کہیں دور فضا سے کسی اطالوی ہوائی جہاز کی آواز ہوا کو چیرتی ہوئی اس کے کانوں تک پہنچتی تو وہ اس پوٹلی کو اٹھاتی اور خیمے کے دروازے پر آ کر کسی محفوظ مقام کی جانب بھاگ جانے کے لیے کھڑی ہو جاتی، مگر اس دوران بھی اس کی آنکھیں ان سنہرے ٹیلوں میں کسی کو تلاش کر رہی ہوتیں .
انتظار کے لمحے کٹھن ہوتے جا رہے تھے اور خاتون کی زباں پہ دعاؤں کا سلسلہ جاری ہو چکا تھا. سورج اپنی نیند پوری کر نے کے لیے پر تول رہا تھا کہ اچانک ایک دوسری عورت جس کا خیمہ قدرے بلند مقام پر تھا قریباً چیختے ہوئے عربی زبان میں اس خاتون کو مطلع کرتی ہے کہ وہ دیکھو "صحرا کا شیر" کا شیر آ رہا ہے!
ادھیڑ عمر کی خاتون یہ سنتی ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتی ہیں، جلدی سے پوٹلی کھولتی ہیں اس میں سے کھانے کا سامنا نکالتی ہیں اور جو جو کچھ میسر تھا اس کے ساتھ دسترخوان سجا دیتی ہیں.
وہ پردے کی اوٹ سے دیکھتی ہے کہ.....
ایک 60 سے ستر سال کے درمیان کا  ایک بوڑھا ، ہاتھ میں اطالوی فوج سے چھینی ہوئی بندوق تھامے عجیب جاہ و جلال سے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ خیموں کی جانب  چلا آ رہا تھا . اس بوڑھے کو جس کو دنیا صحرا کا شیر کا شیر کہتی ہے، جیسے ہی خیموں کے نزدیک پہنچتا ہے اس کے دیگر ساتھی منتشر ہو جاتے ہیں.
وہ ادھیڑ عمر خاتون اب بھی پردے کی اوٹ سے اس بوڑھے کو دیکھ رہی تھی. جیسے ہی بوڑھا خیمے میں داخل ہونے لگتا ہے،
اور وہ خاتون بلند آواز میں کہتی ہیں کہ "اللہ کا شکر کہ جس نے تمہیں خدا کی راہ میں جان نچھاور کرنے کے لیے مزید زندگی عطا فرمائی"
اتنا کہہ کر خاتون آگے بڑھ کر اور بازو بلند کر کے دروازے کے پردے کو اوپر اٹھا دیتی ہیں، کہ کہیں اس  شیر کو خیمے میں داخل ہونے کے لیے اپنا سر نہ جھکانا پڑے...... الله اکبر....!
یہ بوڑھا لیبیا کے عظیم مجاہد رہنما اور معلم قرآن "عمر مختار شہید" تھے اور وہ خاتون ان کی بیوی تھیں.
بلاشبہ اگر وہ بوڑھا صحرا کا شیر تھا تو ان کی بیوی بھی صحرا کی شیرنی تھی.
______
ملک انس اعوان

مختصر افسانہ

0 comments

قریباً یہی سردیوں کے دن تھے. کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی. چاروں جانب دبیز دھند کا راج تھا جس کے باعث سڑکیں اور گلیاں سنسان تھیں. ایسے میں شہر کے ایک مشہور و معروف مدرسے کے ایک جانب برآمدے کے اندر ایک برقی بلب جل رہا تھا. اور اسی کے پہلو میں چند افراد کی دھیمی دھیمی آوازیں آ رہی تھیں، ان افراد میں ایک مفتی صاحب اور انکے 7 شاگرد اور دوسری جانب ایک یونیورسٹی کا طالب علم تکیوں سے ٹیک لگائے کسی بات پہ احسن انداز میں گفتگو کر رہے تھے.
اس یونیورسٹی کے نوجوان کا موقف تھا کہ اقامت دین کا کام ایک اجتماعی فریضہ ہے.
جبکہ دوسری جانب مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ، آپ اپنا آپ درست کر لیں دنیا خودبخود درست ہو جائے گی، سب سے پہلے نفس کی اصلاح کریں جب یہ ہو گئی تو پھر آگے کا دیکھیں گے.
مفتی صاحب کے تمام شاگردنہایت دلچسپی اس سارے معاملے کو دیکھ اور سن رہے تھے.
دونوں جانب سے دلائل کا سلسلہ جاری تھا لیکن کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا. بالآخر جب بات بنائے نہ بن پا رہی تھی تو وہ نوجوان تیزی سے اٹھا اور  کمرے کا دروازہ کھول کر واپس اپنی جگہ پہ آ کر بیٹھ گیا.
مفتی صاحب نے فوراً اپنے گرد لپیٹے ہوئے کمبل کو مزید کَس کر اپنے گرد لپیٹ لیا اور سختی سے اپنے شاگرد سے بولے کہ جائیں اور دروازہ بند کریں ٹھنڈ اندر آ رہی ہے.
لیکن نوجوان نے اپنے پہلو سے اٹھتے ہوئے مدرسے کے طالب علم کو روک لیا.
طالب علم کشمکش کے عالم میں وہیں زمین پہ اکڑوں ہو کر بیٹھ گیا.
نوجوان نے مفتی صاحب سے پوچھا "جی مولانا آپ نے دروازہ بند کرنے کا کیوں کہا؟، آپ اپنا کمبل درست کریں اور الله سے دعا کریں کہ یا الله خودبخود کمرے کا درجہ حرارت معتدل ہوجائے"
مفتی صاحب  بغیر وقت ضائع کیے ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے ہوئے بولے کہ
جب تک دروازہ بند نہیں ہو گا میری کوشش کے باوجود ٹھنڈ لگنے کا خدشہ موجود رہے گا اور میرے علاوہ یہ میرے شاگرد وں کا کیا بنے گا؟
تو وہ نوجوان دھیما سا مسکرایا اور بولا "مفتی صاحب یہی بات تو میں آپکو کتنی دیر سے سمجھا رہا ہوں کہ اگر دین کو بچانا ہے تو ریاست میں اقامت دین کی جدوجہد لازمی ہے تاکہ کفر کی آمد کا دروازہ ہی بند کیا جا سکے.
یہ دروازہ بند نہ کیا گیا تو صبح تک آپ تو شاید اپنے کمبل کے باعث بچ جائیں مگر آپکے شاگردوں کی قلفی جم جائے گی.
اتنا کہہ کر وہ نوجوان اٹھا اور جاکر دروازہ بند کر دیا اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھ کر اپنی بات جہاں سے ختم کی تھی وہیں سے شروع کر دی کہ
اب دیکھیے ناں زرا سا بستر چھوڑ کر اور اپنے نفس سے زیادہ اجتماعیت کی فکر اختیار کرتے ہوئے اٹھ کر دروازہ بند کر دینے سے آپ کے علاوہ اس پورے کمرے میں موجود ہر کسی کا فائدہ ہو رہا ہے اور ہر کسی کو اسکی ذاتی حد تک بھی تقویت مل رہی ہے.
مفتی صاحب نے داڑھی کھجاتے ہوئے اور اپنے کمبل کی گرفت ڈھیلی کرتے ہوئے پر فکر انداز میں اس نوجوان کی جانب دیکھا اور بے اختیار مسکرا اٹھے اور کہنے لگے.
لڑکے تم ٹھیک کہتے ہو.....!
___
ملک انس اعوان

روداد

0 comments
اک جستجو مسلسل ہے
جانے کب
تھکن ٹوٹے گی
کب شوخ ہواؤں کے بادباں کُھلیں گے
زمیں، فلک اور ستارے آ ملیں گے
رنگ و نور کے چھینٹوں سے چہرے پھر دھلیں گے
خلعت مُشک سے سب پیرہن یک بار سجیں گے
ہنسیں گے...
وہاں کے سب مکیں ہی دلربا ہیں
حسیں ہیں خوبصورت ہیں جواں ہیں
مکاں ہیں موتیوں کی شال اوڑھے
مگر چھوڑے سبھی اک جانب رواں ہیں
کسی نے کہہ دیا کہ متوجہ سبھی ہوں
ختم الرسل، مولائے کل، ساقی کوثر وہاں ہیں
چلیں پھر شوق تھامے دل کو آنکھوں کو سنبھالے
سبھی ہی چاہتے تھے سب سے پہلے
وہی ہو جو مرکز حسن و جمال آنکھوں میں بسا لے
جہاں کی مستیوں کو پلکوں پہ سجا لے
بڑھ کر دست اقدس سے جام کوثر کو اٹھالے
تبھی پھر انتہائے شوق سے گھبرا کر پُتلیوں نے
دامن چشم کو بے طور چھوڑا
گھٹن اور جبس سے  تنگ اس دل کو جھنجھوڑا
ائے خدا اب کب تلک یہ خواب دیکھوں
ادھوری دید کے کیوں کب تلک یہ باب دیکھوں
رب العالمین.....
اک التجا ہے آرزو ہے یہی دعا ہے 
سنا ہے مانگنے والوں کی تو ہی مانتا ہے
جو میرے دل میں ہے تو جانتا ہے
سو تجھ سے مانگتا ہوں
وہی جو تو جانتا ہے....!
_______
ملک انس اعوان

قصر اذیت

0 comments
ہم بھی عجیب لوگ ہیں. عجیب اس طرح سے کہ جب مصروفیت میں کھو جاتے ہیں تو اپنا آپ بھلا بیٹھتے ہیں اور پھر جب اندر کا خالی پن وجود سے باہر آنے لگتا ہے تو کسی اندھے کی طرح اپنی چھڑی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں. گرتے پڑتے، رینگتے، گھسٹتے خود کی تلاش میں نکل جاتے ہیں. دور دور تک جاتے ہیں، طرح طرح کے طریقے آزماتے ہیں. اپنے وجود کے محل کے تالے توڑنے لگتے ہیں. ایک دروازے کے بعد دوسرا اور اس طرح ان گنت دروازوں کے تالے توڑتے ہوئے ہم بالآخر اپنے آپ تک پہنچ جاتے ہیں. ہم کیا دیکھتے ہیں......؟
ایک چھوٹا سا بچہ جو "نفس" کی آغوش میں پڑا سو رہا ہوتا ہے. ہم جیسے ہی آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں،نفس اپنی گود میں پڑے ہوئے بچے کو جگا دیتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ دیکھو یہ کون آیا ہے؟
وہ ضدی غصیل بچہ آنکھیں کھولتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور روتے ہوئے نفس سے لپٹ جاتا ہے.
ہم اس نفس سے بچے کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، روتے ہیں، فریاد کرتے ہیں اس کے پاؤں پکڑتے ہیں، مگر سب بے سود....... ہمارا اپنا اندر والا حصہ ہمیں ماننے اور جاننے سے انکار کر دیتا ہے، اس مقام پہ اذیت اپنی حد کو چھونے لگتی ہے، رونا چاہتے ہیں لیکن رو نہیں پاتے ہیں،  گڑگڑانا چاہتے ہیں لیکن گڑگڑا نہیں پاتے ہیں، ایسے جیسے شریانوں میں موجود لہو، شریانوں سے الجھنے لگ جائے.
سب تدبیریں ناکام رہتی ہیں تو قوت والے لوگ آگے بڑھ کر بچے کو چھیننے کی کوشش کرتے ہیں، مگر نفس کے ہاتھوں زخمی ہو کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں. سب رستوں کو کھلا چھوڑتے ہوئے، جس میں سے دیگر لوگ بھی آپکی ذات کے محل میں جھانکنے لگتے ہیں.
جبکہ کچھ اچھے لوگ احتیاط کرتے ہیں،  دوبارہ حاضری کے لیے اٹھتے ہیں، ایک ایک دروازے کو بند کرتے ہوئے باہر آ جاتے ہیں. اپنے رب سے مدد مانگتے ہیں اس کی نصرت طلب کرتے ہیں اور دوبارہ اپنی ذات کے محل میں جاتے ہیں، بار بار جاتے ہیں، اتنی بار جاتے ہیں کہ وہ بچہ آپ سے مانوس ہونے لگتا ہے اور نفس کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگتی ہے، ایک وقت ایسا آتا ہے کہ آپ کی ذات، آپ کا اپنا آپ، آپ کا وجود، آپ کو حاصل ہو جاتا ہے. نفس کو وہیں کہیں بند رہنے دیجیے اور سب تالے لگا دیجیے اور بچے کو اپنے ساتھ باہر لے آئیے.
اس بچے کو نفس سے ہمیشہ دور رکھیے، اس کے ساتھ سمجھوتوں کا معاملہ کیجیے، اس کی سنیں، اس کو وقت دیں، محبت سے طریقے سے، سلیقے سے اس کو پروان چڑھائیں. جب اس کا قد آپکے قد کے برابر ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ آج آپ مکمل ہو گئے.
کامیابی کی بس ایک ہی شرط ہےکہ .......
تب تک دستک دیجیے، جب تک دروازہ نہیں کھلتا.
تحریر
ملک انس اعوان

وہ درست کہتے تھے

0 comments
آج سے کچھ سال پہلے ہم نے ایک طوطے کو خریدا اور بہت محبت اور محنت سے اسے طرح طرح کے کرتب سکھائے، بولنا سکھایا اور اتنا مانوس کر لیا کہ وہ گھر کے کسی بھی فرد کے کندھے پہ سوار ہو جاتا اور "میاں مٹھو میاں مٹھو" کے شور سے پورا گھر سر پہ اٹھائے رکھتا.
2 بجے کے آس پاس جب قریبی سکول میں چھٹی ہوتی تو وہ مرکزی آہنی دروازے کے اوپر آ بیٹھتا اور گزرنے والے بچوں سے خوب چھیڑ چھاڑ کرتا  اسکی یہ ادائیں اس قدر بھاتیں تھیں کہ ہم اسے قید نہیں کر پاتے تھے .
ایک دن کوئی آدمی آیا اور کو دروازے پر سے چوری کر کے چلا گیا.
پورے گھر میں افسردگی چھا گئی، سب لوگ چور کو کوس رہے تھے اور میں خود کو کہ ہم نے اسے بات کرنا سکھایا، پاؤں کے اشاروں سے سلام کرنا سکھایا، سیٹی اور گھر کی ڈور بیل کی آوازوں کی نقل اتارنا سکھائی، الغرض اپنی تسکین کے لیے اسے سب کچھ سکھایا جو اسے نہیں آتا تھا. لیکن اڑنا نہیں سکھایا، فطری انداز میں رہنا اور اپنا دفاع کرنا نہیں سکھایا.
صرف اس ڈر سے کہ کہیں یہ اڑ کر بھاگ نہ جائے. صرف اس بنیاد پر کہ ہمیں اس سے محبت تھی.
تادم تحریر  میرے گھر تیسرا طوطا موجود ہے مگر ہمارا برتاؤ بہت مختلف ہے. ہم اسے ایسے کمرے میں رکھتے ہیں جہاں لوگوں کا گزر کم ہو،  نہ ہی اس کے قریب جاتے ہیں، نہ ہی اس سے بات کرتے ہیں، کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہم اس سے مانوس ہوں اور وہ ہم سے مانوس ہو. دیکھنے میں یہ پہلے دونوں سے خوبصورت اور دلکش ہے. ہم اس سے اس لیے دوری بنا کر رہتے ہیں کہ یہ اپنی فطری طرز عمل میں ڈھلا رہے، انسانوں سے ڈرا رہے،قید کو قید سمجھے اور اپنے پروں کی قوت پہ انحصار کرے.
ہم یہ ناروا سلوک اسی کی محبت میں اسی کی بہتری کے لئے برت رہے ہیں حلانکہ ہم اگر چاہتے تو اس سے برعکس اس سے اپنی ذات کی تسکین کا ذریعہ بھی بنا سکتے تھے اور بے شک ہم اس چیز پہ قادر بھی ہیں.
لیکن
ان شاءاللہ جلد ہی ہم اسے آزاد کرنے والے ہیں.
بڑے کہا کرتے تھے کہ اگر بچوں میں احساس ذمہ داری اور خیال رکھنے کی خاصیت کو بیدار کرنا ہو تو انہیں پالتو جانداروں کے قریب رکھیں. واقعی وہ درست کہتے تھے.
تحریر
ملک انس اعوان

خراج نظر

0 comments

سڑک شیشے کی سِل ہو جیسے
رنگ روشنی کے سنگ
رقص کرتے ہوئے
مدار اندر مدار
گزرنے والوں سے
نظر کا خراج لیتے ہیں.
---
ملک انس اعوان

گھٹیا عمل کی اعلی مثال

0 comments

بڑے شہر چھوٹے ذہنوں کو کس قدر تیزی سے بدل دیتے ہیں اس کی رفتار کو جاننا ایک دلچسپ عمل ہے، کیونکہ ہر انسان ایک منفرد تخلیق ہے اس لیے دنیا بھر میں ہم اپنے ارد گرد لوگوں کی تعریف definition کو ان کے مزاج کی انتہاؤں سے تعبیر کرتے ہیں،  مثلاً فلاں شخص ہمارے نزدیک اس لیے خوش مزاج ہے کہ یہ زیادہ شدت کے غم کو برداشت اور دفن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے. جبکہ بیرونی عوامل اس کے علاوہ ہیں.
کیونکہ انسان کے اندر سیکھنے کا ایک کُل وقتی عمل جاری رہتا ہے اور اس عمل میں سب سے زیادہ مؤثر جزو ماحول ہوتا ہے. انسان جس ماحول میں رہتا ہے سوائے چند منفرد صورتوں کے، وہ ارادتاً یا غیر ارادتاً اس سے خاطر خواہ اثر قبول کرتا ہے.
بنیادی طور پر ہمارے حواس کے سامنے وجود پانے والے تمام عمل اپنی اپنی نوعیت میں ایک سے ہی ہوتے ہیں. لیکن ہر بار ہمارا اخز کردہ نتیجہ نقطہ نظر بدلنے کے باعث کچھ نہ کچھ تبدیل شکل میں ملتا ہے.
ہم جو کچھ زیادہ دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں وہی کچھ ہمیں اپنے ارد گرد زیادہ واضح انداز میں نظر آتا ہے. اور رفتہ رفتہ یہ pattern اس قدر پختہ ہو جاتا ہے اس کے علاوہ کچھ اور نظر ہی نہیں آ پاتا.
اب چاہے یہ ذاتی سطح پہ ہو یا اجتماعی سطح پر اپنے اندر ایک المیہ ہے.
گزشتہ دنوں ایک نہایت ہی نفیس طبعیت کے حامل جناب کی جانب سے ایک دوسرے شخص کے لیے یہ بیان جاری ہوا کہ
"فلاں کو تو بس ایک رازدان کی ضرورت تھی، اس سے بڑھ کر فلاں کو میری کوئی ضرورت نہیں..!"
یہ سن کر پہلے تو شدید حیرت بھی ہوئی اور دھجکا بھی لگا کہ حضرت کے ہاں یعنی کسی کو قابل اعتماد سمجھنا کوئی بات ہی نہیں ہے. حلانکہ کسی کے لیے قابل اعتماد ہونا بذات خود ایک سعادت ہے، اور ہمارے یا کم از کم آج کل کے اس گئے گزرے دور میں بھی اسے ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے اور ہر ممکن طریقے سے اس کا پاس بھی رکھا جاتا ہے.
بہرحال یہ حیرت بالکل ختم ہو گئی جب تحقیق سے پتہ چلا کہ موصوف کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا، پینا کن لوگوں کے ساتھ ہے. ذات پات کا فرق رکھنا ایک قبیح عمل ہے مگر یہ صاف حقیقت ہے کہ نسل کا ایک بہت گہرا اثر مجموعی طور پر شخصیت پر بھی ہوتا ہے، اس قدر گہرا کہ ایک اچھے انسان کو بھی اگر بد نسلوں میں رکھا جائے تو وہ اس کی شخصیت کو بھی بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں. وہ وہی کچھ دیکھنے لگتا ہے جو دوسرے اسے دکھا رہے ہوتے ہیں، یا جو دیکھنے کی اس کو عادت ہوتی ہے.
واللہ اعلم
تحریر
ملک انس اعوان

ایندھن

0 comments
رات کے پچھلے پہر ایک بڑے  گھر کے وسیع صحن میں چند شناسا چہرے کرسیوں کے ساتھ ٹیک لگائے درمیان میں لگی ہوئی آگ سے راحت حاصل کر رہے تھے، چاروں جانب سے  پنجابی کے جملے اچھالے اور کسے جا رہے تھے،  شاید دن بھر کی تھکن کے باعث جملوں میں اب وہ پہلے کی سی آنچ باقی نہیں رہی تھی، اور میرے پاس فقط سر ہلا دینے اور مخصوص دورانیے کے بعد آہستگی سے ہاں میں ہاں ملا دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ میری دلچسپی کا مرکز وہ آگ اور اس کے شعلے تھے جو بے ہنگم انداز میں پیدا، بڑھتے اور ختم ہوتے نظر آ رہے تھے، جن کی تپش سردی کی شدت کے باعث بہت بھلی لگ رہی تھی.
ایک چھوٹا سا لکڑی کا ٹکڑا لیے میں ادھ جلی ہوئی لکڑیوں کو آگ میں دھکیل دیتا اور ان کے مکمل جلنے سے پہلے پہلے پہلو میں پڑی ہوئی مزید لکڑیوں کو  آگ کے اندر رکھ دیتا. یہ ایک مخصوص رفتار سے اس طرح ہو رہا تھا کہ مجھے اپنے اس عمل کا احساس تک نہیں ہو پا رہا تھا. ایک مشینی انداز میں خودکار طریقے سے ہاتھ اٹھتے اور آگ کی تپش کو برقرار کر دیتے، رفتہ رفتہ پاس سے آنے والی آوازیں معدوم ہوتی چلیں گئیں اور تصور کے قرطاس پہ وہی شعلے دوڑنے لگے جن میں مختلف چہروں کے خدوخال ابھرتے اور غائب ہوتے، پھر کوئی چہرہ یا کوئی لمحہ شعلے کی صورت میں سامنے آتا اور تیزی سے گزر جاتا. وہ شعلے بڑے ہوتے ہوتے ذہن سے خون کی مانند رگوں میں اترتے ہوئے محسوس ہونے لگے، گویا یہ میرا جسم نہیں بلکہ آگ کا ہی کوئی شعلہ ہو جو باہر کے سرد موسم میں اپنی خواہشات کے ایندھن کو جلا جلا کر لوگوں کے لیے راحت کا سامان سامان پیدا کر رہا ہے مگر اس کی قسمت میں اس کا حاصل صرف چٹکی بھر بے وقعت راکھ اور فضا میں بلند ہوتا ہوا کسیلا کڑوا دھواں ہے جو کسی کی بھی آنکھ تک پہنچے بھی تو اس میں چبھن اور تکلیف پیدا کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتا ہے.
تحریر
ملک انس اعوان
گجرات، پنجاب، پاکستان

کئی روز ہوئے

0 comments

کئی روز ہوئے
سامنا نہیں ہوا
افق پہ ڈوبتے کے سورج کے ہمراہی
سیاہ سفید اور زرد بادل
پوچھتے ہوں گے
کہاں گیا ہے وہ شخص
افق پہ پھوٹنے والے
رنگ جس کو سبھی تو بھاتے تھے
ہوا کے ساز جس کو سمجھ میں آتے تھے
آزاد جس کی فقط لے تھی
قافیہ ردیف جس سے نہ بننے پاتے تھے
وہی ضعیف روح
جواں جسم لیے
ہر شام تجسس ایجاد کرتی تھی
سنا ہے دشت طلب میں
ابر نے مار ڈالا ہے
رنگِ خیال، گماں ، امید، سکوں 
نچوڑ ڈالا ہے

ملک انس اعوان

روح کیا ہوتی ہے

0 comments
سہ پہر سے  ہلکی ہلکی بارش جو دل کو بھاری بھاری محسوس ہو رہی تھی وقفے وقفے سے  تک رات گئے تک جاری رہی تھی۔ایک دوست کے ہاں سے اٹھ  کر وقت دیکھا تو 11 بج رہے تھے ، میسر لباس کو درست کیا اٹک کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سواری کے خیال کو پس پشت ڈالتے ہوئے پیدل ہی ہاسٹل کے لیے چل پڑا ۔ سڑک پہ اکا دکا گاڑیاں نظر آتیں اور پاس سے سرعت کے ساتھ گزر جاتیں ، ان کی آمد اور گزرنے سے پہلے پہلے مجھ تک اور میرے گرد و نواح تک جو چیز پہنچتی وہ ان کی ہیڈ لائٹ کی روشنی ہو تی جو گزرتے گزرتے بھیگی ہوئی سڑک پہ بجری کے ابھار اور نقش کو واضح کرتے ہوئے گاڑی سے ساتھ ہی مجھسے آگے نکل جاتی ، بالکل وقت کی مانند جو تھمتا نہیں ہے بس گزرتا ہی چلا جاتا ہے ۔
دھیمی رفتار سے چلتے ہوئے یادوں کی البم کا سرا کھلتا چلا گیا اور کہاں کہاں سے گزرتا ہوا خیال بلآخر ایک آواز کی آمد کے ساتھ ہی حقیقت میں گم ہو گیا ، سامنے ایک رکشہ رکا ہوا تھا اور ایک معمر بابا جی ہاتھ کے اشارے سے اور زبان کی حرک  سے پوچھتے معلوم پڑتے تھے کہ " مولوی صآحب شہر جاؤ گے؟"۔ 
غنیمت سمجھتے ہوئے سوار ہو گیا ، رکشا ابھی چلا ہی تھا کہ بابا جی بولے کہ "پتر کہاں سے آرہے ہو اور کیا کرتے ہو؟"
دل گفتگوں پہ مائل نہیں تھا چناچہ پکا سا جواب بنا کر دیا کہ "پڑھتا ہوں۔۔!! "
ابھی میں یہ کہہ بھی نہ پایا تھا اگلا سوال میری سماعتوں سے ٹکرا چکا تھا کہ "کیا پڑھتے ہو؟ " میں تحمل سے جوابات دیتا گیا اور پھر انہوں سے پوچھا کہ "پتر یہ سافٹ وئیر کیا ہوتا ہے؟ "
پہلے تو میں استعارے اور مثالیں تلاش کرنے لگا مگر جب کچھ بن نہ پایا تو وہی کہہ دیا جو اکثر کہتا ہوں کہ ،جیسے انسان میں روح ہوتی ہے اسی طرح کمپیوٹر میں سافٹ وئیر ہوتا ہے" 
میں گمان میں تھا کہ اب شاید سوالات کا سلسلہ رک جائے گا مگر اگلا سوال پھر میرے دامن میں پھینکا جا چکا تھا  کہ " پتر آپ تو پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہو ، یہ بھی بتا دو کہ روح کیا ہوتی ہے ؟"
میں ایسے کسی سوال کے لیے تیار نہیں تھا اور ذہن بھی شاید متوجہ نہیں تھا مگر یہ سننے کے بعد جیسے ساری توجہ اسی جانب چلی گئی تھی ۔ میں نے  جواب دیا کہ " چاچا یہ مشکل چیز ہے لیکن ایک آیت ہے
 ََوَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی 
 ”اور پیغمبر یہ آپ  سے روح کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ دیجیئے کہ یہ میرے پروردگار کا ایک امر ہے “۔
اور پتہ نہیں کیا کچھ بولتے بولتے میری منزل بھی آ چکی تھی ، رکشے سے نیچے اترکر جیب سے پیسے نکالتے ہوئے مین نے چاچا جی کو مخاطب کیا اور کہا کہ "چاچا جی ایک آخری بات یہ ہے ، کسی جاننے والے نے بتایا تھا کہ روح وہ ہوتی ہے جو محسوس ہوتی ہے ، لیکن چاچا یہ نظر نہیں آتی ہے ، اوجھل ہو جاتی ہے"
اتنا کہہ کر میں  مطمئن انداز  میں مڑ چکا تھا اور رکشہ بھی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گیا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

سرگشت

ملک انس اعوان 
15 جنوری 2017
اٹک ، پنجاب ،پاکستان