وہ ادھیڑ عمر خاتون پریشانی کے عالم میں خیمے کے اندر ٹہل رہی تھی. چند مزید خیموں اور خواتین کے علاوہ اس تپتے صحرا میں دور دور تک سوائے ریت کے ٹیلوں کے کچھ نظر نہ آتا تھا. جیسے جیسے مغرب کا وقت قریب آ رہا تھا اس کی بے چینی بھی بڑھتی جا رہی تھی.انتہائی ضرورت کا سامان ایک پوٹلی کی صورت میں باندھ کر خیمے کی ایک جانب پڑا ہوا تھا. جیسے ہی کہیں دور فضا سے کسی اطالوی ہوائی جہاز کی آواز ہوا کو چیرتی ہوئی اس کے کانوں تک پہنچتی تو وہ اس پوٹلی کو اٹھاتی اور خیمے کے دروازے پر آ کر کسی محفوظ مقام کی جانب بھاگ جانے کے لیے کھڑی ہو جاتی، مگر اس دوران بھی اس کی آنکھیں ان سنہرے ٹیلوں میں کسی کو تلاش کر رہی ہوتیں .
انتظار کے لمحے کٹھن ہوتے جا رہے تھے اور خاتون کی زباں پہ دعاؤں کا سلسلہ جاری ہو چکا تھا. سورج اپنی نیند پوری کر نے کے لیے پر تول رہا تھا کہ اچانک ایک دوسری عورت جس کا خیمہ قدرے بلند مقام پر تھا قریباً چیختے ہوئے عربی زبان میں اس خاتون کو مطلع کرتی ہے کہ وہ دیکھو "صحرا کا شیر" کا شیر آ رہا ہے!
ادھیڑ عمر کی خاتون یہ سنتی ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتی ہیں، جلدی سے پوٹلی کھولتی ہیں اس میں سے کھانے کا سامنا نکالتی ہیں اور جو جو کچھ میسر تھا اس کے ساتھ دسترخوان سجا دیتی ہیں.
وہ پردے کی اوٹ سے دیکھتی ہے کہ.....
ایک 60 سے ستر سال کے درمیان کا ایک بوڑھا ، ہاتھ میں اطالوی فوج سے چھینی ہوئی بندوق تھامے عجیب جاہ و جلال سے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ خیموں کی جانب چلا آ رہا تھا . اس بوڑھے کو جس کو دنیا صحرا کا شیر کا شیر کہتی ہے، جیسے ہی خیموں کے نزدیک پہنچتا ہے اس کے دیگر ساتھی منتشر ہو جاتے ہیں.
وہ ادھیڑ عمر خاتون اب بھی پردے کی اوٹ سے اس بوڑھے کو دیکھ رہی تھی. جیسے ہی بوڑھا خیمے میں داخل ہونے لگتا ہے،
اور وہ خاتون بلند آواز میں کہتی ہیں کہ "اللہ کا شکر کہ جس نے تمہیں خدا کی راہ میں جان نچھاور کرنے کے لیے مزید زندگی عطا فرمائی"
اتنا کہہ کر خاتون آگے بڑھ کر اور بازو بلند کر کے دروازے کے پردے کو اوپر اٹھا دیتی ہیں، کہ کہیں اس شیر کو خیمے میں داخل ہونے کے لیے اپنا سر نہ جھکانا پڑے...... الله اکبر....!
یہ بوڑھا لیبیا کے عظیم مجاہد رہنما اور معلم قرآن "عمر مختار شہید" تھے اور وہ خاتون ان کی بیوی تھیں.
بلاشبہ اگر وہ بوڑھا صحرا کا شیر تھا تو ان کی بیوی بھی صحرا کی شیرنی تھی.
______
ملک انس اعوان
