رات کے پچھلے پہر ایک بڑے گھر کے وسیع صحن میں چند شناسا چہرے کرسیوں کے ساتھ ٹیک لگائے درمیان میں لگی ہوئی آگ سے راحت حاصل کر رہے تھے، چاروں جانب سے پنجابی کے جملے اچھالے اور کسے جا رہے تھے، شاید دن بھر کی تھکن کے باعث جملوں میں اب وہ پہلے کی سی آنچ باقی نہیں رہی تھی، اور میرے پاس فقط سر ہلا دینے اور مخصوص دورانیے کے بعد آہستگی سے ہاں میں ہاں ملا دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ میری دلچسپی کا مرکز وہ آگ اور اس کے شعلے تھے جو بے ہنگم انداز میں پیدا، بڑھتے اور ختم ہوتے نظر آ رہے تھے، جن کی تپش سردی کی شدت کے باعث بہت بھلی لگ رہی تھی.
ایک چھوٹا سا لکڑی کا ٹکڑا لیے میں ادھ جلی ہوئی لکڑیوں کو آگ میں دھکیل دیتا اور ان کے مکمل جلنے سے پہلے پہلے پہلو میں پڑی ہوئی مزید لکڑیوں کو آگ کے اندر رکھ دیتا. یہ ایک مخصوص رفتار سے اس طرح ہو رہا تھا کہ مجھے اپنے اس عمل کا احساس تک نہیں ہو پا رہا تھا. ایک مشینی انداز میں خودکار طریقے سے ہاتھ اٹھتے اور آگ کی تپش کو برقرار کر دیتے، رفتہ رفتہ پاس سے آنے والی آوازیں معدوم ہوتی چلیں گئیں اور تصور کے قرطاس پہ وہی شعلے دوڑنے لگے جن میں مختلف چہروں کے خدوخال ابھرتے اور غائب ہوتے، پھر کوئی چہرہ یا کوئی لمحہ شعلے کی صورت میں سامنے آتا اور تیزی سے گزر جاتا. وہ شعلے بڑے ہوتے ہوتے ذہن سے خون کی مانند رگوں میں اترتے ہوئے محسوس ہونے لگے، گویا یہ میرا جسم نہیں بلکہ آگ کا ہی کوئی شعلہ ہو جو باہر کے سرد موسم میں اپنی خواہشات کے ایندھن کو جلا جلا کر لوگوں کے لیے راحت کا سامان سامان پیدا کر رہا ہے مگر اس کی قسمت میں اس کا حاصل صرف چٹکی بھر بے وقعت راکھ اور فضا میں بلند ہوتا ہوا کسیلا کڑوا دھواں ہے جو کسی کی بھی آنکھ تک پہنچے بھی تو اس میں چبھن اور تکلیف پیدا کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتا ہے.
ایک چھوٹا سا لکڑی کا ٹکڑا لیے میں ادھ جلی ہوئی لکڑیوں کو آگ میں دھکیل دیتا اور ان کے مکمل جلنے سے پہلے پہلے پہلو میں پڑی ہوئی مزید لکڑیوں کو آگ کے اندر رکھ دیتا. یہ ایک مخصوص رفتار سے اس طرح ہو رہا تھا کہ مجھے اپنے اس عمل کا احساس تک نہیں ہو پا رہا تھا. ایک مشینی انداز میں خودکار طریقے سے ہاتھ اٹھتے اور آگ کی تپش کو برقرار کر دیتے، رفتہ رفتہ پاس سے آنے والی آوازیں معدوم ہوتی چلیں گئیں اور تصور کے قرطاس پہ وہی شعلے دوڑنے لگے جن میں مختلف چہروں کے خدوخال ابھرتے اور غائب ہوتے، پھر کوئی چہرہ یا کوئی لمحہ شعلے کی صورت میں سامنے آتا اور تیزی سے گزر جاتا. وہ شعلے بڑے ہوتے ہوتے ذہن سے خون کی مانند رگوں میں اترتے ہوئے محسوس ہونے لگے، گویا یہ میرا جسم نہیں بلکہ آگ کا ہی کوئی شعلہ ہو جو باہر کے سرد موسم میں اپنی خواہشات کے ایندھن کو جلا جلا کر لوگوں کے لیے راحت کا سامان سامان پیدا کر رہا ہے مگر اس کی قسمت میں اس کا حاصل صرف چٹکی بھر بے وقعت راکھ اور فضا میں بلند ہوتا ہوا کسیلا کڑوا دھواں ہے جو کسی کی بھی آنکھ تک پہنچے بھی تو اس میں چبھن اور تکلیف پیدا کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتا ہے.
تحریر
ملک انس اعوان
گجرات، پنجاب، پاکستان
گجرات، پنجاب، پاکستان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔