وہ درست کہتے تھے

0 comments
آج سے کچھ سال پہلے ہم نے ایک طوطے کو خریدا اور بہت محبت اور محنت سے اسے طرح طرح کے کرتب سکھائے، بولنا سکھایا اور اتنا مانوس کر لیا کہ وہ گھر کے کسی بھی فرد کے کندھے پہ سوار ہو جاتا اور "میاں مٹھو میاں مٹھو" کے شور سے پورا گھر سر پہ اٹھائے رکھتا.
2 بجے کے آس پاس جب قریبی سکول میں چھٹی ہوتی تو وہ مرکزی آہنی دروازے کے اوپر آ بیٹھتا اور گزرنے والے بچوں سے خوب چھیڑ چھاڑ کرتا  اسکی یہ ادائیں اس قدر بھاتیں تھیں کہ ہم اسے قید نہیں کر پاتے تھے .
ایک دن کوئی آدمی آیا اور کو دروازے پر سے چوری کر کے چلا گیا.
پورے گھر میں افسردگی چھا گئی، سب لوگ چور کو کوس رہے تھے اور میں خود کو کہ ہم نے اسے بات کرنا سکھایا، پاؤں کے اشاروں سے سلام کرنا سکھایا، سیٹی اور گھر کی ڈور بیل کی آوازوں کی نقل اتارنا سکھائی، الغرض اپنی تسکین کے لیے اسے سب کچھ سکھایا جو اسے نہیں آتا تھا. لیکن اڑنا نہیں سکھایا، فطری انداز میں رہنا اور اپنا دفاع کرنا نہیں سکھایا.
صرف اس ڈر سے کہ کہیں یہ اڑ کر بھاگ نہ جائے. صرف اس بنیاد پر کہ ہمیں اس سے محبت تھی.
تادم تحریر  میرے گھر تیسرا طوطا موجود ہے مگر ہمارا برتاؤ بہت مختلف ہے. ہم اسے ایسے کمرے میں رکھتے ہیں جہاں لوگوں کا گزر کم ہو،  نہ ہی اس کے قریب جاتے ہیں، نہ ہی اس سے بات کرتے ہیں، کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہم اس سے مانوس ہوں اور وہ ہم سے مانوس ہو. دیکھنے میں یہ پہلے دونوں سے خوبصورت اور دلکش ہے. ہم اس سے اس لیے دوری بنا کر رہتے ہیں کہ یہ اپنی فطری طرز عمل میں ڈھلا رہے، انسانوں سے ڈرا رہے،قید کو قید سمجھے اور اپنے پروں کی قوت پہ انحصار کرے.
ہم یہ ناروا سلوک اسی کی محبت میں اسی کی بہتری کے لئے برت رہے ہیں حلانکہ ہم اگر چاہتے تو اس سے برعکس اس سے اپنی ذات کی تسکین کا ذریعہ بھی بنا سکتے تھے اور بے شک ہم اس چیز پہ قادر بھی ہیں.
لیکن
ان شاءاللہ جلد ہی ہم اسے آزاد کرنے والے ہیں.
بڑے کہا کرتے تھے کہ اگر بچوں میں احساس ذمہ داری اور خیال رکھنے کی خاصیت کو بیدار کرنا ہو تو انہیں پالتو جانداروں کے قریب رکھیں. واقعی وہ درست کہتے تھے.
تحریر
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔