روح کیا ہوتی ہے

0 comments
سہ پہر سے  ہلکی ہلکی بارش جو دل کو بھاری بھاری محسوس ہو رہی تھی وقفے وقفے سے  تک رات گئے تک جاری رہی تھی۔ایک دوست کے ہاں سے اٹھ  کر وقت دیکھا تو 11 بج رہے تھے ، میسر لباس کو درست کیا اٹک کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سواری کے خیال کو پس پشت ڈالتے ہوئے پیدل ہی ہاسٹل کے لیے چل پڑا ۔ سڑک پہ اکا دکا گاڑیاں نظر آتیں اور پاس سے سرعت کے ساتھ گزر جاتیں ، ان کی آمد اور گزرنے سے پہلے پہلے مجھ تک اور میرے گرد و نواح تک جو چیز پہنچتی وہ ان کی ہیڈ لائٹ کی روشنی ہو تی جو گزرتے گزرتے بھیگی ہوئی سڑک پہ بجری کے ابھار اور نقش کو واضح کرتے ہوئے گاڑی سے ساتھ ہی مجھسے آگے نکل جاتی ، بالکل وقت کی مانند جو تھمتا نہیں ہے بس گزرتا ہی چلا جاتا ہے ۔
دھیمی رفتار سے چلتے ہوئے یادوں کی البم کا سرا کھلتا چلا گیا اور کہاں کہاں سے گزرتا ہوا خیال بلآخر ایک آواز کی آمد کے ساتھ ہی حقیقت میں گم ہو گیا ، سامنے ایک رکشہ رکا ہوا تھا اور ایک معمر بابا جی ہاتھ کے اشارے سے اور زبان کی حرک  سے پوچھتے معلوم پڑتے تھے کہ " مولوی صآحب شہر جاؤ گے؟"۔ 
غنیمت سمجھتے ہوئے سوار ہو گیا ، رکشا ابھی چلا ہی تھا کہ بابا جی بولے کہ "پتر کہاں سے آرہے ہو اور کیا کرتے ہو؟"
دل گفتگوں پہ مائل نہیں تھا چناچہ پکا سا جواب بنا کر دیا کہ "پڑھتا ہوں۔۔!! "
ابھی میں یہ کہہ بھی نہ پایا تھا اگلا سوال میری سماعتوں سے ٹکرا چکا تھا کہ "کیا پڑھتے ہو؟ " میں تحمل سے جوابات دیتا گیا اور پھر انہوں سے پوچھا کہ "پتر یہ سافٹ وئیر کیا ہوتا ہے؟ "
پہلے تو میں استعارے اور مثالیں تلاش کرنے لگا مگر جب کچھ بن نہ پایا تو وہی کہہ دیا جو اکثر کہتا ہوں کہ ،جیسے انسان میں روح ہوتی ہے اسی طرح کمپیوٹر میں سافٹ وئیر ہوتا ہے" 
میں گمان میں تھا کہ اب شاید سوالات کا سلسلہ رک جائے گا مگر اگلا سوال پھر میرے دامن میں پھینکا جا چکا تھا  کہ " پتر آپ تو پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہو ، یہ بھی بتا دو کہ روح کیا ہوتی ہے ؟"
میں ایسے کسی سوال کے لیے تیار نہیں تھا اور ذہن بھی شاید متوجہ نہیں تھا مگر یہ سننے کے بعد جیسے ساری توجہ اسی جانب چلی گئی تھی ۔ میں نے  جواب دیا کہ " چاچا یہ مشکل چیز ہے لیکن ایک آیت ہے
 ََوَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی 
 ”اور پیغمبر یہ آپ  سے روح کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ دیجیئے کہ یہ میرے پروردگار کا ایک امر ہے “۔
اور پتہ نہیں کیا کچھ بولتے بولتے میری منزل بھی آ چکی تھی ، رکشے سے نیچے اترکر جیب سے پیسے نکالتے ہوئے مین نے چاچا جی کو مخاطب کیا اور کہا کہ "چاچا جی ایک آخری بات یہ ہے ، کسی جاننے والے نے بتایا تھا کہ روح وہ ہوتی ہے جو محسوس ہوتی ہے ، لیکن چاچا یہ نظر نہیں آتی ہے ، اوجھل ہو جاتی ہے"
اتنا کہہ کر میں  مطمئن انداز  میں مڑ چکا تھا اور رکشہ بھی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گیا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

سرگشت

ملک انس اعوان 
15 جنوری 2017
اٹک ، پنجاب ،پاکستان




0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔