روداد

0 comments
اک جستجو مسلسل ہے
جانے کب
تھکن ٹوٹے گی
کب شوخ ہواؤں کے بادباں کُھلیں گے
زمیں، فلک اور ستارے آ ملیں گے
رنگ و نور کے چھینٹوں سے چہرے پھر دھلیں گے
خلعت مُشک سے سب پیرہن یک بار سجیں گے
ہنسیں گے...
وہاں کے سب مکیں ہی دلربا ہیں
حسیں ہیں خوبصورت ہیں جواں ہیں
مکاں ہیں موتیوں کی شال اوڑھے
مگر چھوڑے سبھی اک جانب رواں ہیں
کسی نے کہہ دیا کہ متوجہ سبھی ہوں
ختم الرسل، مولائے کل، ساقی کوثر وہاں ہیں
چلیں پھر شوق تھامے دل کو آنکھوں کو سنبھالے
سبھی ہی چاہتے تھے سب سے پہلے
وہی ہو جو مرکز حسن و جمال آنکھوں میں بسا لے
جہاں کی مستیوں کو پلکوں پہ سجا لے
بڑھ کر دست اقدس سے جام کوثر کو اٹھالے
تبھی پھر انتہائے شوق سے گھبرا کر پُتلیوں نے
دامن چشم کو بے طور چھوڑا
گھٹن اور جبس سے  تنگ اس دل کو جھنجھوڑا
ائے خدا اب کب تلک یہ خواب دیکھوں
ادھوری دید کے کیوں کب تلک یہ باب دیکھوں
رب العالمین.....
اک التجا ہے آرزو ہے یہی دعا ہے 
سنا ہے مانگنے والوں کی تو ہی مانتا ہے
جو میرے دل میں ہے تو جانتا ہے
سو تجھ سے مانگتا ہوں
وہی جو تو جانتا ہے....!
_______
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔