بڑے شہر چھوٹے ذہنوں کو کس قدر تیزی سے بدل دیتے ہیں اس کی رفتار کو جاننا ایک دلچسپ عمل ہے، کیونکہ ہر انسان ایک منفرد تخلیق ہے اس لیے دنیا بھر میں ہم اپنے ارد گرد لوگوں کی تعریف definition کو ان کے مزاج کی انتہاؤں سے تعبیر کرتے ہیں، مثلاً فلاں شخص ہمارے نزدیک اس لیے خوش مزاج ہے کہ یہ زیادہ شدت کے غم کو برداشت اور دفن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے. جبکہ بیرونی عوامل اس کے علاوہ ہیں.
کیونکہ انسان کے اندر سیکھنے کا ایک کُل وقتی عمل جاری رہتا ہے اور اس عمل میں سب سے زیادہ مؤثر جزو ماحول ہوتا ہے. انسان جس ماحول میں رہتا ہے سوائے چند منفرد صورتوں کے، وہ ارادتاً یا غیر ارادتاً اس سے خاطر خواہ اثر قبول کرتا ہے.
بنیادی طور پر ہمارے حواس کے سامنے وجود پانے والے تمام عمل اپنی اپنی نوعیت میں ایک سے ہی ہوتے ہیں. لیکن ہر بار ہمارا اخز کردہ نتیجہ نقطہ نظر بدلنے کے باعث کچھ نہ کچھ تبدیل شکل میں ملتا ہے.
ہم جو کچھ زیادہ دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں وہی کچھ ہمیں اپنے ارد گرد زیادہ واضح انداز میں نظر آتا ہے. اور رفتہ رفتہ یہ pattern اس قدر پختہ ہو جاتا ہے اس کے علاوہ کچھ اور نظر ہی نہیں آ پاتا.
اب چاہے یہ ذاتی سطح پہ ہو یا اجتماعی سطح پر اپنے اندر ایک المیہ ہے.
گزشتہ دنوں ایک نہایت ہی نفیس طبعیت کے حامل جناب کی جانب سے ایک دوسرے شخص کے لیے یہ بیان جاری ہوا کہ
"فلاں کو تو بس ایک رازدان کی ضرورت تھی، اس سے بڑھ کر فلاں کو میری کوئی ضرورت نہیں..!"
یہ سن کر پہلے تو شدید حیرت بھی ہوئی اور دھجکا بھی لگا کہ حضرت کے ہاں یعنی کسی کو قابل اعتماد سمجھنا کوئی بات ہی نہیں ہے. حلانکہ کسی کے لیے قابل اعتماد ہونا بذات خود ایک سعادت ہے، اور ہمارے یا کم از کم آج کل کے اس گئے گزرے دور میں بھی اسے ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے اور ہر ممکن طریقے سے اس کا پاس بھی رکھا جاتا ہے.
بہرحال یہ حیرت بالکل ختم ہو گئی جب تحقیق سے پتہ چلا کہ موصوف کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا، پینا کن لوگوں کے ساتھ ہے. ذات پات کا فرق رکھنا ایک قبیح عمل ہے مگر یہ صاف حقیقت ہے کہ نسل کا ایک بہت گہرا اثر مجموعی طور پر شخصیت پر بھی ہوتا ہے، اس قدر گہرا کہ ایک اچھے انسان کو بھی اگر بد نسلوں میں رکھا جائے تو وہ اس کی شخصیت کو بھی بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں. وہ وہی کچھ دیکھنے لگتا ہے جو دوسرے اسے دکھا رہے ہوتے ہیں، یا جو دیکھنے کی اس کو عادت ہوتی ہے.
واللہ اعلم
تحریر
ملک انس اعوان
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)
آمدو رفت
گھٹیا عمل کی اعلی مثال
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔