قریباً یہی سردیوں کے دن تھے. کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی. چاروں جانب دبیز دھند کا راج تھا جس کے باعث سڑکیں اور گلیاں سنسان تھیں. ایسے میں شہر کے ایک مشہور و معروف مدرسے کے ایک جانب برآمدے کے اندر ایک برقی بلب جل رہا تھا. اور اسی کے پہلو میں چند افراد کی دھیمی دھیمی آوازیں آ رہی تھیں، ان افراد میں ایک مفتی صاحب اور انکے 7 شاگرد اور دوسری جانب ایک یونیورسٹی کا طالب علم تکیوں سے ٹیک لگائے کسی بات پہ احسن انداز میں گفتگو کر رہے تھے.
اس یونیورسٹی کے نوجوان کا موقف تھا کہ اقامت دین کا کام ایک اجتماعی فریضہ ہے.
جبکہ دوسری جانب مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ، آپ اپنا آپ درست کر لیں دنیا خودبخود درست ہو جائے گی، سب سے پہلے نفس کی اصلاح کریں جب یہ ہو گئی تو پھر آگے کا دیکھیں گے.
مفتی صاحب کے تمام شاگردنہایت دلچسپی اس سارے معاملے کو دیکھ اور سن رہے تھے.
دونوں جانب سے دلائل کا سلسلہ جاری تھا لیکن کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا. بالآخر جب بات بنائے نہ بن پا رہی تھی تو وہ نوجوان تیزی سے اٹھا اور کمرے کا دروازہ کھول کر واپس اپنی جگہ پہ آ کر بیٹھ گیا.
مفتی صاحب نے فوراً اپنے گرد لپیٹے ہوئے کمبل کو مزید کَس کر اپنے گرد لپیٹ لیا اور سختی سے اپنے شاگرد سے بولے کہ جائیں اور دروازہ بند کریں ٹھنڈ اندر آ رہی ہے.
لیکن نوجوان نے اپنے پہلو سے اٹھتے ہوئے مدرسے کے طالب علم کو روک لیا.
طالب علم کشمکش کے عالم میں وہیں زمین پہ اکڑوں ہو کر بیٹھ گیا.
نوجوان نے مفتی صاحب سے پوچھا "جی مولانا آپ نے دروازہ بند کرنے کا کیوں کہا؟، آپ اپنا کمبل درست کریں اور الله سے دعا کریں کہ یا الله خودبخود کمرے کا درجہ حرارت معتدل ہوجائے"
مفتی صاحب بغیر وقت ضائع کیے ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے ہوئے بولے کہ
جب تک دروازہ بند نہیں ہو گا میری کوشش کے باوجود ٹھنڈ لگنے کا خدشہ موجود رہے گا اور میرے علاوہ یہ میرے شاگرد وں کا کیا بنے گا؟
تو وہ نوجوان دھیما سا مسکرایا اور بولا "مفتی صاحب یہی بات تو میں آپکو کتنی دیر سے سمجھا رہا ہوں کہ اگر دین کو بچانا ہے تو ریاست میں اقامت دین کی جدوجہد لازمی ہے تاکہ کفر کی آمد کا دروازہ ہی بند کیا جا سکے.
یہ دروازہ بند نہ کیا گیا تو صبح تک آپ تو شاید اپنے کمبل کے باعث بچ جائیں مگر آپکے شاگردوں کی قلفی جم جائے گی.
اتنا کہہ کر وہ نوجوان اٹھا اور جاکر دروازہ بند کر دیا اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھ کر اپنی بات جہاں سے ختم کی تھی وہیں سے شروع کر دی کہ
اب دیکھیے ناں زرا سا بستر چھوڑ کر اور اپنے نفس سے زیادہ اجتماعیت کی فکر اختیار کرتے ہوئے اٹھ کر دروازہ بند کر دینے سے آپ کے علاوہ اس پورے کمرے میں موجود ہر کسی کا فائدہ ہو رہا ہے اور ہر کسی کو اسکی ذاتی حد تک بھی تقویت مل رہی ہے.
مفتی صاحب نے داڑھی کھجاتے ہوئے اور اپنے کمبل کی گرفت ڈھیلی کرتے ہوئے پر فکر انداز میں اس نوجوان کی جانب دیکھا اور بے اختیار مسکرا اٹھے اور کہنے لگے.
لڑکے تم ٹھیک کہتے ہو.....!
___
ملک انس اعوان
لڑکے تم ٹھیک کہتے ہو.....!
___
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔