کتنی دیر لگتی ہے؟

0 comments

سحر کے ماتھے پر
روشنی کی کرنوں کو
بے طرح بکھرنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟
ضروری نہیں یہ خاموشی
ہر بار معتبر بھی ہو
بات کو بدلنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟
بات تو زرا سی ہے
اپنی خوشی تو ہے، سو ہے
کسی کا غم سمجھنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟
خواب ہوں بھلے یہاں
دلوں میں پختگی نہ ہو
خواب کو بکھرنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟

ملک انس اعوان

ایک ترک خاتون "سمانور" کی جانب سے کیا گیا ترکی زبان میں ترجمہ


Seherin alnındaki 

aydınlık ışıkların

şekilsiz dağılması

ne kadar sürer?

Şart değil bu sessizlik

her defasında muteber ol

söz değiştiğinde

ne kadar sürer?

Mesele ufacık aslında

kendi mutluluğun, yine de

birinin derdini anlamak

ne kadar sürer?

rüyayım, unut burada

gönüllerde kalıcılık yok

bir rüyanın darmadağın olması

ne kadar sürer?


Malik Anas Awan


کچھ کشمیر کے بارے میں

0 comments
جدوجہد آزدی کشمیر کے ضمن میں پاکستان کے اند بیٹھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ  بحیثیت پاکستانی جہاد کشمیر کی بذور شمشیر جدو جہد پانی میں "مدھانی" چلانےسے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔ کیونکہ ریاست اس سلسے میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ اس لیے چاہے جتنی بھی مدھانی چلا لیں یہاں سے مکھن نکلنے والا نہیں ہے ، ہو سکتا ہے آپکو میری بات سے خلاف ہو یا آپ اسے جہاد سے بھاگنے کا ایک پہلو مان رہے ہوں تو ٹھیک ہے یہ آپکی جزباتی وابستکی کا اثر ہے لیکن زرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیے کہ اگر یہ معاملہ کم ازکم (دوبارہ "کم از کم" پڑھیے) فاٹا ریجن و دیگر سے بھی اہم ہوتا تو اس کے لیے اب تک ریاست کی جانب سے بیانات کے ہوائی فائر سےہٹ کرکوئی بڑا نہ صحیح ،کوئی چھوٹا سا بھی فوجی آپریشن ترتیب دیا گیا ہو تو بتائیے۔الٹا صورتحال یہ ہے ایک مخصوص طبقے کو چھوڑ کو جہاد کشمیر کے بہت سے متحرک لوگ آج بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے "ثواب" کا حساب کتاب دے رہے ہیں ۔ان لوگوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو خالصتاً ریاست کے لیے ہی ماضی میں اپنا تن من دھن پیش کر چکے ہیں ۔
جبکہ بدلے میں انہی کی محنت کی بدولت پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ سے لے کر دیگر عالمی فورمز پہ کشمیر کاز کا اپنے ریاستی مفاد کے لیے بے دریغ استعمال کیا گیا ہے ، حلانکہ جہاں ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہو وہاں ہم دنیا کے سامنے کشمیر کاز کی پرانی فائل اٹھا کر دنیا کو پڑھ کر سنانا شروع کر دیتے ہیں ۔
لیکن اگر کسی نے اپنا خون ، جان ، مال ، جوانی اس مشن میں صرف کیا ہے تو وہ ہم جیسے ہزاروں بلکہ لاکھوں سے افضل ہے ،اور وہ اللہ سے اپنی قربانی اور خلوص کا صلہ ضرور پائے گا۔
دوسری جانب کرنے کا اصل کام یہی ہے کہ عام عوام میں اس سے متعلق شعور بیدار کیا جائے اور کشمیر کے مسئلے کو دلوں زہنوں اور کتابوں میں تا پائیدار حل زندہ رکھا جائے ، کیونکہ یہ ہمارے ایمان کا تقاضا بھی ہے اور ریاست کی ضرورت بھی۔۔۔!
(ایک مسلمان بن کر لکھا ہے ، پاکستانی بن کر نہیں )
ملک انس اعوان

اپنی تسلی کے لیے

2 comments


 کسی بھی شے میں جب نظر شامل ہو تو ہم اسے منظر کہتے ہیں، منظر کا سفر آنکھ سے شروع ہوتا ہے اور دل پہ قیام کرتا ہے، پھر رنگ اور ان کی تاثیر علیحدہ علیحدہ ہو کر دل کی باریک رگوں میں اترنے لگتے ہیں، اور ذہن انہی رگوں سے احساسات نچوڑ کر تخیل (Imagination) کے سٹیج پر چشم زدن میں نت نئے کردار تشکیل دیتا چلا جاتا ہے . پردہ ہٹتا ہے. دل تماشائی بن جاتا ہے اور تخیل کے اسٹیج پہ برق رفتاری سے یکے بعد دیگرے خوشی، غم، حیرت، وجد، رقص اور خوف کے ادوار گزرتے چلے جاتے ہیں، ایک ہاہوکار مچتی ہے، اور تب تک مچی رہتی ہے جب تک یہ تماشبین دل، تماشے کے ختم ہونے کا اعلان نہیں کرتا. اعلان کر دیا جاتا ہے، پردہ گرا دیا جاتا ہے.
 اور ایک نیا منظر آنکھ سے دل کی جانب سفر شروع کر چکا ہوتا ہے....!
ملک انس اعوان