کسی بھی شے میں جب نظر شامل ہو تو ہم اسے منظر کہتے ہیں، منظر کا سفر آنکھ سے شروع ہوتا ہے اور دل پہ قیام کرتا ہے، پھر رنگ اور ان کی تاثیر علیحدہ علیحدہ ہو کر دل کی باریک رگوں میں اترنے لگتے ہیں، اور ذہن انہی رگوں سے احساسات نچوڑ کر تخیل (Imagination) کے سٹیج پر چشم زدن میں نت نئے کردار تشکیل دیتا چلا جاتا ہے . پردہ ہٹتا ہے. دل تماشائی بن جاتا ہے اور تخیل کے اسٹیج پہ برق رفتاری سے یکے بعد دیگرے خوشی، غم، حیرت، وجد، رقص اور خوف کے ادوار گزرتے چلے جاتے ہیں، ایک ہاہوکار مچتی ہے، اور تب تک مچی رہتی ہے جب تک یہ تماشبین دل، تماشے کے ختم ہونے کا اعلان نہیں کرتا. اعلان کر دیا جاتا ہے، پردہ گرا دیا جاتا ہے.
اور ایک نیا منظر آنکھ سے دل کی جانب سفر شروع کر چکا ہوتا ہے....!
اور ایک نیا منظر آنکھ سے دل کی جانب سفر شروع کر چکا ہوتا ہے....!
ملک انس اعوان











beautifully narrated,But I think not every sight gives a view :)
جی محترمہ درست فرمایا اس کا انحصار بھی نظر پہ ہی ہے ۔