اپنی تسلی کے لیے

2 comments


 کسی بھی شے میں جب نظر شامل ہو تو ہم اسے منظر کہتے ہیں، منظر کا سفر آنکھ سے شروع ہوتا ہے اور دل پہ قیام کرتا ہے، پھر رنگ اور ان کی تاثیر علیحدہ علیحدہ ہو کر دل کی باریک رگوں میں اترنے لگتے ہیں، اور ذہن انہی رگوں سے احساسات نچوڑ کر تخیل (Imagination) کے سٹیج پر چشم زدن میں نت نئے کردار تشکیل دیتا چلا جاتا ہے . پردہ ہٹتا ہے. دل تماشائی بن جاتا ہے اور تخیل کے اسٹیج پہ برق رفتاری سے یکے بعد دیگرے خوشی، غم، حیرت، وجد، رقص اور خوف کے ادوار گزرتے چلے جاتے ہیں، ایک ہاہوکار مچتی ہے، اور تب تک مچی رہتی ہے جب تک یہ تماشبین دل، تماشے کے ختم ہونے کا اعلان نہیں کرتا. اعلان کر دیا جاتا ہے، پردہ گرا دیا جاتا ہے.
 اور ایک نیا منظر آنکھ سے دل کی جانب سفر شروع کر چکا ہوتا ہے....!
ملک انس اعوان


2 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔