ہم ہمیشہ سے ہی دو ہی رہے ہیں، ایک "یہ" اور ایک "وہ"۔
۔"یہ" وہ ہے جو"منظر" میں موجود ہے . یہ تربیت یافتہ بھی ہے اور تربیت پزیر بھی، اس کا کچھ حصہ میرے اختیارا میں ہے جسے میں مٹی کے برتن کی طرح سوچ کے مدار پہ ڈھال، سنبھال اور اتار سکتا ہوں . بیک وقت بنا سکتا ہوں، بگاڑ سکتا ہوں۔
جبکہ اسی "یہ" کا وہ حصہ جو میرے بس میں نہیں ہے وہ لوگوں کے ذہنوں میں انکے میرے متعلق احساسات کی صورت میں موجود ہے. یہاں معاملہ اختیار کا نہیں "نظر" کا ہے۔
"وہ " وہ ہے جو اصل میں موجود ہے لیکن منظر میں موجود نہیں ہے، یہ وہی" وہ "ہے جو باہر آنا چاہتا ہے،لیکن اپنے غلاف کے اندر لپٹا ایک جانب دھرا ہوا ہے، بے چین بھی ہے اور بیزار بھی، بیمار بھی اور لاچار بھی. اس بیچارگی و بیماری کا علاج صرف" یقین "کے ذائقے میں دھرا ہے۔
ایسا یقین جو امید پہ حاوی ، حقیقت پہ مبنی، تخیل میں کامل اور سلسلوں میں مکمل ہو۔
تحریر
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔