ہزار نسخوں، کتابوں، تحریری و تقریری مواد سے کہیں زیادہ کارآمد شے آپکا اپنا زہن ہے. یہ کیسے اور کس معیار کے تحت فیصلے کرتا ہے، کہاں کہاں کیسے تبدیلیاں قبول کرتا ہے یہ سمجھنا سب سے زیادہ ضروری ہے. اس ضمن میں وہ چیزیں جو زہن اور عقل پہ سب سے زیادہ پر اثر ہیں ان میں سے پہلا "ڈر" اور دوسری چیز "لالچ"ہے .
ایک لمحے کے لیے رکیے.... یہ دونوں چیزیں اپنی ذاتی حیثیت میں بری نہیں ہیں بلکہ محض فطری احساسات ہیں. ان فطری احساسات کو Deal کیسے کرنا ہے اس کے لیے خالقِ فطرت و قدرت کا تیار کردہ انسان کے لیے آخری اور بہترین user manual اٹھا لیجیے اور سمجھیے کہ خالق نے بار بار کیوں آیات مبارکہ میں کہیں دوزخ سے ڈرایا ہے اور کبھی جنت کے حسین مناظر کی خیالی تصویر سے نیکی کی جانب راغب کیا ہے.
اب پھر رکیے...... غور کیجیئے کہ الله آپکے نفس کو kill نہیں کر رہا بلکہ modify کر رہا ہے کبھی جہنم کے ڈر سے اور کبھی جنت کے لالچ سے، بس یہی کچھ آپکو کرنا ہے.
یعنی.... خود سے لڑنا نہیں بلکہ اپنی ذات سے مذاکرات کرنے ہیں، اس کو مائل کرنا ہے اور اس عمل کے پریکٹیکلی کئی طریقے ہیں اور کئی انداز، حسب ضرورت کسی بھی دوا کا استعمال کیا جا سکتا ہے، ان طریقوں پہ پھر کبھی تفصیل سے بتایا جائے گا اب آ جائیے
"ڈر " کے ذکر کو کھولتے ہیں.
ڈر پہ قابو پائیے،کیونکہ انسانی ذہن ایک وقت میں صرف ایک ہی قسم کے ڈر کا سامنا کر سکتا ہے، ڈر کا جھمگٹا اس کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے اور باقی صلاحیتوں پہ بھی غالب آنے کی کوشش کرتا ہے.
لہذا ڈر کو خدا تک محدود کر دیجیے اور باقی ہر قسم کے خوف سے خود کو آزاد کر لیجیے. کیونکہ جس قدر آپ اپنے ڈر کو قابو میں رکھ سکیں گے اتنی ہی تیزی سے امید آپ کے اندر پیدا ہوگی اور فروغ پائے گی.
دوسری چیز تھی"لالچ"یہ بھی انسان کے اندر خدا کی جانب سے ایک Built in Function ہے ،لالچ بذات خود اپنے اندر ڈھیروں احساسات کا مجموعہ ہے مگر اس کے اجزاء ترکیبی یعنی recipe میں سب سے اہم چیز چاہت ہے. آپ کسی بھی چیز کو کسی بھی حد تک چاہ سکتے ہیں لہذا اپنی چاہت کو مثبت چیزوں میں اس طرح تقسیم کر دیجیے کہ منفی اشیاء کے لیے آپکے پاس کوئی چاہت باقی نہ رہے.
آپکا یہی عمل آپکی توجہ کو بھی تقسیم کرتا ہے. اور جب توجہ تقسیم ہوتی ہے تو وقت کی تقسیم بھی خود بخود ہوتی چلی جاتی ہے.
آپ سے زیادہ آپ کو کوئی نہیں جانتا ہے لہذا اپنے آپ سے دوستی کیجیئے، سمجھائیے اور احساسات کو قابو کرنے میں خود کفیل ہو جائیے.
تحریر
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔