کافی غور کے بعد انکشاف ہوا یا کیا جارہا ہے کہ یہ جو ہم سرِ شام حسب طبعیت ریلوے اسٹیشن پہ بادلوں کا نظارہ کرنے اور حسب توفیق ٹہلنے جاتے ہیں اس دوران ہمارے تخیل میں دھویں کی مقدار زیادہ کیوں ہو جاتی ہے؟
اس لیے کہ وہاں پہ شہر بھر سے آئے ہوئے چھوٹے طیارے ہمارے ارد گرد "ریفیولنگ" اور پرواز کی نیت سے اجتماعی طور پہ اڑان بھرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے باعث نشیلا دھواں اکثر و بیشتر ہوا کے سر پہ سوار ہو کر ہماری جانب لپکتا ہے، جو بالآخر کسی نہ کسی صورت ہمارے تخیل تک پہنچ جاتا ہے. شہری انتظامیہ کو اس ضمن میں بھی سوچنا چاہیے، یا ریلوے اسٹیشن کی حدود کو سرکاری طور پر رن وے قرار دے کر اس کا انتظام اپنے سر لے لینا چاہیے . وگرنہ جس رفتار سے طیاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے کچھ بعید نہیں کہ چند ماہ تک یہاں بین الاقوامی پروازوں کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فضائی کرتب کے مظاہرے بھی دیکھنے کو ملیں گے.....!
ارے ہاں رکیے اسپانسر کا نام تو سنتے جائیے.
اس انکشاف میں ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے محمد اجمل مہوٹہ سکنہ پکہ ملانہ تحصیل و ضلع ڈیرہ اسماعیل خان.
ملک انس اعوان
بمقام :ریلوے اسٹیشن، اٹک شریف
کیفیت : معتدل شریف
3 مئی 2017










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔