تذکرہ لسی شریف

0 comments


غالباً بلکہ یقیناً ستمبر 2013 میں ہم اعلی تعلیم کے حصول کے لیے اٹک شریف تشریف لے آئے تھے  یاد رہے کہ اس وقت "آستانہ عالیہ ہاسٹلیہ" کی عدم موجودگی کے باعث اٹک "شریف" نہیں تھا بہرحال ان دنوں سے جنوری 2014 تک ہم اپنے احباب کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ شاید ہی کوئی ہوٹل، ڈھابہ ہم سے بچ گیا ہو جہاں ہم نے لسی شریف کا سوال نہ کیا ہو.... وہ کہتے ہیں ناں کہ
"قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں"
کیونکہ ہماری آمد کے بعد موسم سرما کا آغاز ہو چکا تھا، چناچہ جیسے تیسے سردیاں جہاد بالنفس کرتے ہوئے گزاریں اور گرمیوں کا انتظار کیا یا  اس دوران اپنے دستِ نیم نازک سے ہاسٹل میں ہی اپنی روحانی تسکین کا سامان کیے رکھا.
اب تو الحمداللہ جوبھی موسم ہو، کہیں نہ کہیں سے لسی شریف درآمد کروا ہی لیتے ہیں.

انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔