سچی منزلوں کے سچے رستے

0 comments

ہائے وہ منزل کہ جس کے رستے کی چاہ ہی اس منزل کے پانے کی خوشی سے زیادہ ہو۔۔۔۔۔۔۔!

---------
کئی رستے اس قدر مشکل ہوتے ہیں کہ وہ آپسے اس پہ چلنے کی قیمت تک وصول کر لیتے ہیں اور رفتہ رفتہ آپکو دوسروں کا مقروض بنا دیتے ہیں اور جب منزل پر پہنچتے ہیں تو دوسروں کا قرض اس منزل کی قدر و قیمت گھٹا دیتا ہے،پھر ہم وہیں بیٹھے یہی سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آج وہاں سے چل کر یہاں آنے میں جو کچھ کھویا اور جو کچھ پایا سبھی رائیگاں گیا۔ مگر کچھ منزلیں جو عرش سے تعلق رکھتیں ہیں وہ عرش کی تاثیر بھی اپنے ساتھ لے آتیں ہیں۔جوں جوں وقت اور مشکلات بڑھتی جاتی ہیں ویسے ہی منزل کی بلندی اور قدر و قیمت بڑھتی جاتی ہے ،مثل نور اس کا حلقہ اثر بڑھتا چلا جاتا ہے کیونکہ یہ منزل اور یہ رستے صرف ہمارے ہی ہوتے ہیں جس میں ہمارا مقابل ہمارے سوااور کوئی نہیں ہوتا ۔ ہم جو کھوتے ہیں اور جو پاتے ہیں وہ سبھی ہمارا اپنا ہوتا ہے ،رستے کی مشکل بھی اپنی اور اس مشکل سے زخمی ہونے والے پاؤں بھی اپنے، تو جب سب کچھ اپنا ہی ہو تو کیا کھونے کا غم اور کیا پانے کی خوشی۔۔۔۔۔!!
کیونکہ یہاں تو خوشی اور غمی کا تصور بھی ہمارا اپنا ایجاد کردہ ہوتا ہے ۔عجیب سی خودمختاری کا احساس گھیرے رکھتا ہے ، ہائے وہ منزل کہ جس کے رستے کی چاہ ہی اس منزل کے پانے کی خوشی سے زیادہ ہو۔۔۔۔۔۔۔!
سچی منزلوں کے سچے رستے۔۔۔!
تحریر
ملک انس اعوان


تصویر بشکریہ 
احمد جاوید صاحب

جزئیات

0 comments
آج سے کچھ عرصے پہلے منظر  عام پر ایک وڈیو آتی ہے جس میں چند  نا معلوم افراد ایک خاتون کو زمین پر لٹا کر کوڑے رسید کر رہے ہوتے ہیں اس کے بعد پورا پاکستانی میڈیا اس کو بنیاد بنا کر ایک طوفان بد تمیزی کھڑا کر دیتا ہے  ایک گلی کے باہر کھڑے چند افراد سے لے کر پارلیمینٹ میں بیٹھے ہوئے نمائیندگان  اس چیز کو زیر بحث لاتے ہیں اور ہر زبان شعلے اگلنے لگتی ہے۔اس واقعے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے امراء اور قائدین کو آن لائن لے کر اس واقعے پر انکی رائے طلب کی جاتی ہے۔کئی جگہ انسانی حقوق کی علم بردار خواتین اپنے بچوں کو  آیا کے حوالے کر کے ہاتھ میں حقوق نسواں کے بینر پکڑے سڑکوں پر احتجاج کرتی نظر آتی ہیں ۔دیکھا دیکھی پوری قوم  شتر بے مہار کی طرح میڈیا کے بے لگام گھوڑے پر سوار ہو کر غیر ارادی طور پر شعائر اسلام  کی سر عام تضحیک  کرنے لگتی ہے،پوری دنیا کا میڈیا پاکستانی میڈیا  کی رپورٹس کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اور پوری دنیا میں پاکستان کی عزت خاک میں ملا دی جاتی ہے ۔ خیر چند سال کے عرصے کے بعد اس ویڈیو  کے حوالے سے فیصلہ سامنے آتا ہے  کہ وہ  تو جعلی تھی ،مگر کوئی معذرت کرنے آگے نہیں بڑھتا نہ ہی وہ میڈیا چینل جو دن رات "سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ " کرنے میں مگن رہتے ہیں اس حوالے سے قوم سے معافی مانگتے ہیں  بلکہ اس کی نشریاتی معمول کے مطابق چلتی رہتی ہیں۔ یہ اوپر کا سارا واقعہ محض ایک واقعہ ہی نہیں بلکہ پوری قوم کا ایک امتحان تھا، ایک ایسا امتحان کہ جس میں یہ جانچا جائے کہ ایک اوسط پاکستانی  کی سوچ کا معیار کیا ہے ،وہ چیزوں کو کس طرح سے دیکھتا ہے اور کس طرح سے رد عمل دیتا ہے۔اس واقعے نے روز روشن کی طرح ایک بات واضح کر دی کہ پاکستانی قوم صرف وہی دیکھتی ہے جو اسے دکھایا جاتا ہے ،وہی سنتی ہے جو اسے سنایا جاتا ہے ،اور وہ ہی بولتی ہے  جس کے بولنے کا اسے حکم دیا ہے ۔ اور انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس قوم کی اس ذہنی کیفیت کا ذمہ دار صرف اور صرف  میڈیا ہے۔ صحافت کے نام پر قوم کی جس انداز میں ذہن سازی کی جارہی ہے وہ  ناقابل معافی بھی ہے اور ناقابل تلافی ہے۔ پرانے وقتوں میں گاؤں اور پسماندہ علاقہ جات میں چند جادوگر نما افراد آتے اور اپنے جادوئی کر تب دکھا کر  پورے کے پورے گاؤں سے رقم بٹورتے اور اگلی منزل کی جانب روانہ ہو جاتے مگر آپ حیران ہوں گے کہ ایسا آج کے دور میں بھی ہوتا ہے مگر اب ان کا انداز بدل گیا ہے اب ان کے پاس کرتب کھانے کے لئے ایک جادوئی  ڈبہ  ہے جس میں سے وہ اپنی من چاہی کوئی بھی شکل نکال  حاضرین کو ڈرا اور ہنسا سکتے ہیں ۔آزادی صحافت کے نام پر اس قوم کے ساتھ  کیا کیا کچھ نہیں کیا گیا یہ تو محض ایک ویڈیو کا معاملہ تھا ناجانے کتنی ہی  ایسی کہانیاں ہوں گی جو اب تک ہماری آنکھ سے اوجھل ہیں اور ناجانے کتنے ہی حقائق ہیں جو اس رنگین  پردے کے پیچھے  چھپے بیٹھے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ جن کالم نگاروں اور قلم کاروں نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے وہ سبھی اس میں برابر کے قصور  وارہیں ۔

مجھے اس سارے واقعے پر تجزیہ پیش کرنے کے بعد بڑی شدت  سے اس چیز کا  احساس ہو رہا ہے کہ آخر یہ میڈیا چاہتا کیا ہے ۔۔۔۔؟ اسی پاکستان میں ایک ملک  کی جانب سے ڈروں حملوں کے ذریعے  پاکستانی شہریوں کو خاک اور خون میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور آئین و قانون کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں مگر کوئی چینل  ان لاشوں کو کوریج  نہیں دیتا اور نہ ان کے لواحقین کو چینل کے دفتر بلا کر انکی  رائے طلب کی گئی۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ  ہم ایک جزوی قوم ہیں جو فقط جذئیات  کو پرکھتی اور اس پر یقین رکھتی ہے ،جبکہ کُل سے دور بھاگتی ہے کیونکہ ہم سوچنا نہیں چاہتے  اور اس آدھے سچ کو سننا نہیں چاہتے جو پورے جھوٹ  کے پیچھے چھپا ہوتا ہے۔

تحریر 
ملک انس اعوان 

غلط

0 comments
حرف حرف صحیح مگر کروں میں بیاں تو رہا غلط 
میرے ساقیا تو متن سمجھ یوں نہ رٹ لگا کہ غلط غلط
تیری رہگزر میری رہگزر اسی رہگزر کا خیال کر 
سر رہگزر مجھے دیکھ کر یوں نہ وہم کر کہ غلط غلط 
میں تند خو، یہی میری خو، رہی کاٹ دار میری گفتگو
مرے دل کو ہے کوئی جستجو، نہ ذہن لڑا کہ غلط غلط
  نہ عرش ہے نہ یہ فرش ہے یہ ادھر ادھر کا ہے فلسفہ 
یہ جو نزد ہے یہ تو نفس ہے، نہ قلم چلا کہ غلط غلط


ملک انس اعوان



عبرتِ نابینا

0 comments
میں نے سرگودھا بس سٹینڈ پر ایک نا بینا بچے کو دیکھا جو اپنے ہاتھوں سے بسوں کے ٹائر ٹٹول کر اندازہ لگا رہا تھا کہ یہ بس بھری ہوئی ہے یا خالی ہے ۔پھر تسلی کر لینے کے بعد وہ پوری بس کو ٹٹولتا ہوا  دروازے کی شناخت کرتا اور اند داخل ہو جاتا اور بھیک مانگ کر واپس اتر جاتا۔  بس میں کچھ لوگ تھے اس لئے وہ بچہ چلتا ہوا میرے قریب آیا اور مجھ سے پیسے مانگے تو میں نے پاس بٹھا لیا ،تھوڑی سی بات چیت کے بعد اس کا دل کھولا تو ۔میں حیرت میں پڑ گیا کہ آنکھوں کے بغیر بھی اتنے بڑے خواب دیکھے جا سکتے ہیں، اس بچے کہ جس  نے ابھی  نہ تو آسمان کی نیلاہٹ دیکھی ہے اور نہ زمین کا سبزہ لیکن پھر بھی اس کی امید توانا ہے وہ  اپنے مستقبل کے بارے میں بھی منصوبہ بندی رکھتا ہے وہ چاہتا ہے کہ  شہر سے کچھ دور واقع اپنے گاؤں میں  اس مالٹے کے درخت کو دیکھ سکے کہ جس کا پھل اس کا بھائی اور والدہ اس کو اپنے ہاتھوں سے کھلاتے ہیں ۔وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس بھی ایک بڑی سی بس ہوجسے وہ چلا کر لاہور لے کر جائے اور سارے رستے سڑک کی دونوں جانب کے مناظر دیکھ سکے اور اس راوی اور چناب کے پانیوں کو بھی دیکھ سکے جو اس کی ماں کے بقول   پانی کے بہت بڑے زخیرے ہیں اور صدیوں سے جوں کے توں پنجاب کی زمین کو زرخیزی بخش رہے ہیں ۔ہم آنکھوں والے  تو پھر بھی جنت اور دوزخ کا اندازہ اس دنیا  میں موجود پھلوں کے رنگ اور آگ کی سرخی سے لگا سکتے ہیں مگر اس بچے کا کیا جو فقط ذائقے ،خوشبو ،آواز  اور   درجہ حرارت کی بنیاد پر پوری دنیا کا قیاس اور خیال قائم کر لیتا ہے ۔۔۔۔۔اس کے ارادے مجھ سے بھی بلند اور توانا تھے ۔۔۔ یہ معجزے نہیں ہیںتو کیا ہے ۔۔۔۔ہم تو نا شکرے ہیں ۔۔ورنہ جگہ جگہ عبرت ہے ۔


تحریر 
ملک انس اعوان 

خوبی دیدہ

0 comments
سوال یہ ہے کہ صاحب سوال 
خوبی دیدہ کو چھونا چاہتے 
چاہتے ہیں کہ وہ نظر کو نظر بھر کر دیکھیں
رقص رنگوں کا سمندر میں اتر کر دیکھیں
یہ بھی دیکھیں کہ نہاں اور بھی کیا ہے اس سے
یوں مقام عقل سے  پھسل کر دیکھیں
کن جزیروں سے خوابوں نے طلوع ہونا ہے 
اور ان سب  کے کناروں سے اتر کر دیکھیں
اک یہ  دل کہ جو بوڑھا نہیں ہوتا ہرگز
پھر اس نادان سے بچے کو پکڑ کر دیکھیں
زمیں سرخ ہے، سیاہ ہے یہ اصل میں کیا ہے 
اس کی رنگین قبا کو پلٹ کر دیکھیں
سوچتے ہیں کہ بھلا کیا نہیں سوچا اب تک 
پھر اسی سوچ کی اس موج کو الٹ کر دیکھیں 
یوں ہی ہے تو خدا نے کیا انسان کو پیدا کیونکر
اور پھر احکام خداوند کو سمجھ کر دیکھیں 
جنت بھی کوئی شے ہے وہ ہوگی کیسی  
اور پھر اس چہرہ تصور کو مسلسل دیکھیں 


ملک انس اعوان